المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ بِمَنْزِلَةِ الصَّلَاةِ باب: بیت اللہ کا طواف نماز کے درجے میں ہے
حدیث نمبر: 3093
حدثنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السَّمّاك ببغداد، حدثنا الحسن ابن مُكرَم البزَّاز، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا القاسم بن أبي أيوب، عن سعيد ابن جُبير، عن ابن عبّاس قال: قال الله لنبيِّه ﷺ: ﴿طَهِّرْ بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْقَائِمِينَ (4) وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ﴾ [الحج: 26] فالطوافُ قبل الصلاة، وقد قال رسول الله ﷺ: "الطَّوافُ بمنزلةِ الصلاة، إلَّا أنَّ الله قدَ أحَلَّ فيه المَنطِقَ، فمن نَطَقَ فَلا يَنطِقْ إِلَّا بخيرٍ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وإنما يُعرَف هذا الحديث من حديث عطاء بن السائب عن سعيد بن جُبير:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3056 - على شرط مسلمحافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا: ﴿طَهِّرْ بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْقَائِمِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ﴾ [سورة الحج: 26]، پس طواف نماز سے پہلے (ذکر) ہے، اور رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ”بیت اللہ کا طواف نماز کے درجے میں ہے مگر یہ کہ اللہ نے اس میں گفتگو کو حلال کر دیا ہے، لہذا جو شخص اس دوران بات کرے تو وہ صرف خیر کی بات ہی کرے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور یہ حدیث عطاء بن سائب کے واسطے سے بھی معروف ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(4) في (ب): (والعاكفين)، وستأتي كذلك في الرواية التالية، وهذه الآية التي فيها (والعاكفين) في سورة البقرة رقم (125).
نوٹ / توضیح: نسخہ (ب) میں (والعاكفين) ہے، اور اگلی روایت میں بھی ایسا ہی آئے گا، حالانکہ وہ آیت جس میں (والعاكفين) ہے وہ سورہ بقرہ کی آیت نمبر (125) ہے۔
(1) إسناده صحيح.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه البيهقي في "معرفة السنن والآثار" (9903) عن أبي عبد الله الحاكم بهذا الإسناد. وانظر ما بعده.
حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "معرفة السنن والآثار" (9903) میں ابو عبداللہ الحاکم سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
تفصیلِ روایت: اور اس کے بعد والی (روایت) دیکھیں۔
نوٹ / توضیح: نسخہ (ب) میں (والعاكفين) ہے، اور اگلی روایت میں بھی ایسا ہی آئے گا، حالانکہ وہ آیت جس میں (والعاكفين) ہے وہ سورہ بقرہ کی آیت نمبر (125) ہے۔
(1) إسناده صحيح.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه البيهقي في "معرفة السنن والآثار" (9903) عن أبي عبد الله الحاكم بهذا الإسناد. وانظر ما بعده.
حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "معرفة السنن والآثار" (9903) میں ابو عبداللہ الحاکم سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
تفصیلِ روایت: اور اس کے بعد والی (روایت) دیکھیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3093 سے ماخوذ ہے۔