حدثني إبراهيم بن إسماعيل القارئ، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا أبو تَوْبة الرَّبيع بن نافع الحلبي، حدثنا معاوية بن سلَّام، حدثني زيد بن سلَّام، أنه سمع أبا سَلَّام يقول: حدثني أبو أُمامة: أنَّ رجلًا قال: يا رسول الله، أنبيٌّ كان آدمُ؟ قال: "نعم، مُعلَّمٌ مُكلَّم" قال: كم بينه وبين نوح؟ قال: "عَشَرَةُ قُرونٍ" قال: كم كان بين نوح وإبراهيم؟ قال: عشرة قرون قالوا: يا رسول الله، كم كانت الرُّسُلُ؟ قال: "ثلاثُ مئةٍ وخمسَ عشرةَ، جَمًّا غَفيرًا" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3039 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3039 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا سیدنا آدم علیہ السلام نبی تھے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، وہ اللہ کے سکھائے ہوئے اور اس سے ہمکلام ہونے والے نبی تھے۔“ اس نے پوچھا: ان کے اور نوح علیہ السلام کے درمیان کتنا عرصہ تھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”دس صدیاں۔“ اس نے پھر پوچھا: نوح اور ابراہیم علیہما السلام کے درمیان کتنا عرصہ تھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”دس صدیاں۔“ لوگوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! رسولوں کی کل تعداد کتنی تھی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تین سو پندرہ، جو کہ ایک بڑی جماعت تھی۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعي، حدثنا إسحاق بن الحسن، حدثنا أبو حُذَيفة، حدثنا سفيان، عن الأعمش، عن المِنْهال بن عمرو، عن سعيد ابن جُبَير، عن ابن عبَّاس: ﴿ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا﴾ [البقرة: 58] قال: بابًا ضيِّقًا، قال: رُكَّعًا ﴿وَقُولُوا حِطَّةٌ﴾ قال: مغفرةٌ، فقالوا: حِنطةٌ، ودخلوا على أسْتاهِهم، فذلك قوله تعالى: ﴿فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا قَوْلًا غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمْ﴾ (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3040 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3040 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ کے فرمان ﴿ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا﴾ [سورة البقرة: 58] کے بارے میں مروی ہے کہ (انہیں حکم دیا گیا تھا کہ) ایک تنگ دروازے سے عاجزی کرتے ہوئے داخل ہوں اور کہیں ﴿حِطَّةٌ﴾ یعنی مغفرت، مگر انہوں نے اس کے بجائے «حنطه» (گندم) کہا اور اپنی پشت کے بل گھسٹتے ہوئے داخل ہوئے، پس اسی بارے میں اللہ تعالی کا فرمان ہے: ﴿فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا قَوْلًا غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمْ﴾ [سورة البقرة: 59] ”پھر ان ظالموں نے اس بات کو بدل دیا جو ان سے کہی گئی تھی۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن الزُّهْري، عن عُبيد الله بن عبد الله، عن ابن عبَّاس قال: كيف تَسألون عن شيء وعندكم كتابُ الله! أحدثُ الأخبار بالله، وقد أخبَرَكم (1) أنهم كَتَبوا كتابًا بأيديهم وبدَّلوا وحرَّفوا وقالوا: هذا من عند الله، واشتَرَوْا به ثمنًا قليلًا، فعندكم كتابُ الله مَحْضٌ لم يُشَبْ، فوالله لا يَسألُكم أحدٌ منهم عن الذي أُنزِلَ عليكم (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3041 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3041 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ تم (اہل کتاب سے) کسی چیز کے بارے میں کیوں سوال کرتے ہو جبکہ تمہارے پاس اللہ کی کتاب موجود ہے جو اللہ کی طرف سے نازل شدہ تازہ ترین خبر ہے! اللہ نے تمہیں خبر دے دی ہے کہ انہوں نے اپنے ہاتھوں سے کتاب لکھی، اسے تبدیل کیا، اس میں تحریف کی اور کہا کہ ”یہ اللہ کی طرف سے ہے“ تاکہ اس کے ذریعے تھوڑی قیمت حاصل کریں، جبکہ تمہارے پاس اللہ کی وہ کتاب (قرآن) ہے جو خالص ہے اور جس میں کوئی آمیزش نہیں، پس اللہ کی قسم! ان میں سے کوئی بھی تم سے اس چیز کے بارے میں سوال نہیں کرتا جو تم پر نازل کی گئی ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن أيوب، حدثنا يوسف ابن موسى، حدثنا عبد الملك بن هارون بن عَنتَرة، عن أبيه، عن جدِّه، عن سعيد ابن جُبَير، عن ابن عبَّاس قال: كانت يهودُ خيبرَ تقاتل غَطَفَانَ، فكلَّما التَقَوْا هُزِمَت يهودُ خيبر، فعادتِ اليهودُ بهذا الدعاء فقالت: اللهمَّ إنا نسألك بحق محمدٍ النبيَّ الأُمّيِّ الذي وعدتَنا أن تخرجَه لنا في آخر الزمان إلَّا نصرتَنا عليهم، قال: فكانوا إذا التقَوْا دَعَوْا بهذا الدعاء، فهَزَموا غطفانَ، فلما بُعِثَ النبيُّ ﷺ كَفَروا به، فأنزل الله وقد كانوا يَستفتِحُون بك يا محمدُ على الكافرينَ (3). (1) أدَّت الضَّرورةُ إلى إخراجه في التفسير، وهو غريبٌ من حديثه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3042 - لا ضرورة في ذلك أي لإخراجه فعبد الله متروك هالك
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3042 - لا ضرورة في ذلك أي لإخراجه فعبد الله متروك هالك
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ خیبر کے یہودی غطفان قبیلے سے لڑا کرتے تھے، جب بھی ان کا آمنا سامنا ہوتا تو خیبر کے یہودیوں کو شکست ہوتی، چنانچہ یہودیوں نے اس دعا کے ساتھ رجوع کیا اور کہا: «اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ الَّذِي وَعَدْتَنَا أَنْ تُخْرِجَهُ لَنَا فِي آخِرِ الزَّمَانِ إِلَّا نَصَرْتَنَا عَلَيْهِمْ» ”اے اللہ! ہم تجھ سے اس نبی امی محمد ﷺ کے حق کے وسیلے سے سوال کرتے ہیں جن کا تو نے ہم سے وعدہ فرمایا ہے کہ تو انہیں آخری زمانے میں مبعوث فرمائے گا کہ تو ان کے خلاف ہماری مدد فرما۔“ راوی کہتے ہیں کہ جب بھی ان کا مقابلہ ہوتا وہ یہی دعا کرتے اور غطفان کو شکست دے دیتے، لیکن جب نبی کریم ﷺ مبعوث ہوئے تو انہوں نے آپ کا انکار کر دیا، تب اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی کہ وہ آپ (اے محمد ﷺ) کے وسیلے سے کافروں پر فتح کی دعا مانگا کرتے تھے۔
ضرورت کے تحت اسے تفسیر میں ذکر کیا گیا ہے اور یہ ان کی حدیث سے غریب ہے۔
ضرورت کے تحت اسے تفسیر میں ذکر کیا گیا ہے اور یہ ان کی حدیث سے غریب ہے۔
أخبرني أبو جعفر محمد بن علي بن دُحَيم الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد ابن حازم بن أبي غَرَزَة الغِفاري، حدثنا قَبِيصة بن عُقْبة، حدثنا سفيان، عن الأعمش، عن مُسلِم البَطِين، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عبَّاس: ﴿وَلَتَجِدَنَّهُمْ أَحْرَصَ النَّاسِ عَلَى حَيَاةٍ﴾ قال: اليهود ﴿وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا﴾ [البقرة: 96] قال: الأعاجم (2). قد اتفق الشيخان على سَنَد تفسير الصحابي (3)، وهذا إسناد صحيح على شرطهما، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3043 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3043 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ کے ارشاد ﴿وَلَتَجِدَنَّهُمْ أَحْرَصَ النَّاسِ عَلَى حَيَاةٍ﴾ [سورة البقرة: 96] کے بارے میں مروی ہے کہ اس سے مراد یہودی ہیں، اور ﴿وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا﴾ سے مراد عجمی مشرکین ہیں۔
شیخین نے صحابی کی تفسیر کی سند پر اتفاق کیا ہے، اور یہ سند ان دونوں کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
شیخین نے صحابی کی تفسیر کی سند پر اتفاق کیا ہے، اور یہ سند ان دونوں کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا أبو معاوية، حدثنا الأعمش، عن سعيد ابن جُبَير، عن ابن عباس: ﴿يَوَدُّ أَحَدُهُمْ لَوْ يُعَمَّرُ أَلْفَ سَنَةٍ﴾ [البقرة: 96] قال: هو قول الأعاجم إذا عَطَسَ أَحدُهم: زِهِ هَزارْ سالْ (4). رواه قيس بن الرّبيع، عن الأعمش، عن جعفر بن إياس، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عبَّاس، بزيادة ألفاظٍ:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ کے فرمان ﴿يَوَدُّ أَحَدُهُمْ لَوْ يُعَمَّرُ أَلْفَ سَنَةٍ﴾ [سورة البقرة: 96] ”ان میں سے ہر ایک یہ چاہتا ہے کہ کاش اسے ہزار سال کی عمر دے دی جائے“ کے بارے میں مروی ہے، انہوں نے فرمایا: ”اس سے مراد عجمیوں کا وہ قول ہے جو وہ کسی کے چھینکنے پر کہتے ہیں: زِہی ہزار سال (یعنی تم ہزار سال جیو)۔“
أخبرَناه أبو زكريا العَنبَري، حدثنا إبراهيم بن إسحاق، حدثنا محمد ابن سهل بن عَسكَر، حدثنا محمد بن يوسف، حدثنا قيس بن الرَّبيع، عن الأعمش، عن جعفر بن إياس، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس في قوله: ﴿وَلَتَجِدَنَّهُمْ أَحْرَصَ النَّاسِ عَلَى حَيَاةٍ﴾ قال: هم هؤلاء أهلُ الكتاب ﴿وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا يَوَدُّ أَحَدُهُمْ لَوْ يُعَمَّرُ أَلْفَ سَنَةٍ وَمَا هُوَ بِمُزَحْزِحِهِ مِنَ الْعَذَابِ أَنْ يُعَمَّرَ﴾ (البقرة: 96] قال: هو قولُ أحدهم لصاحبه هَزارْ سالْ نَيرُوز مِهرجان بخور (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ کے فرمان ﴿وَلَتَجِدَنَّهُمْ أَحْرَصَ النَّاسِ عَلَى حَيَاةٍ﴾ کے بارے میں مروی ہے، انہوں نے فرمایا: ”اس سے مراد یہ اہل کتاب ہیں،“ اور ﴿وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا يَوَدُّ أَحَدُهُمْ لَوْ يُعَمَّرُ أَلْفَ سَنَةٍ وَمَا هُوَ بِمُزَحْزِحِهِ مِنَ الْعَذَابِ أَنْ يُعَمَّرَ﴾ [سورة البقرة: 96] کے متعلق فرمایا کہ اس سے مراد ان (عجمی مشرکین) کا اپنے ساتھی کو یہ کہنا ہے: ”ہزار سال، نوروز اور مہرجان (تمہارے لیے مبارک اور طویل ہوں)۔“