المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
كَانَتِ الرُّسُلُ ثَلَاثَمِائَةٍ وَخَمْسَ عَشْرَةَ باب: انبیاء کی تعداد تین سو پندرہ تھی
حدیث نمبر: 3082
أخبرَناه أبو زكريا العَنبَري، حدثنا إبراهيم بن إسحاق، حدثنا محمد ابن سهل بن عَسكَر، حدثنا محمد بن يوسف، حدثنا قيس بن الرَّبيع، عن الأعمش، عن جعفر بن إياس، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس في قوله: ﴿وَلَتَجِدَنَّهُمْ أَحْرَصَ النَّاسِ عَلَى حَيَاةٍ﴾ قال: هم هؤلاء أهلُ الكتاب ﴿وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا يَوَدُّ أَحَدُهُمْ لَوْ يُعَمَّرُ أَلْفَ سَنَةٍ وَمَا هُوَ بِمُزَحْزِحِهِ مِنَ الْعَذَابِ أَنْ يُعَمَّرَ﴾ (البقرة: 96] قال: هو قولُ أحدهم لصاحبه هَزارْ سالْ نَيرُوز مِهرجان بخور (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ کے فرمان ﴿وَلَتَجِدَنَّهُمْ أَحْرَصَ النَّاسِ عَلَى حَيَاةٍ﴾ کے بارے میں مروی ہے، انہوں نے فرمایا: ”اس سے مراد یہ اہل کتاب ہیں،“ اور ﴿وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا يَوَدُّ أَحَدُهُمْ لَوْ يُعَمَّرُ أَلْفَ سَنَةٍ وَمَا هُوَ بِمُزَحْزِحِهِ مِنَ الْعَذَابِ أَنْ يُعَمَّرَ﴾ [سورة البقرة: 96] کے متعلق فرمایا کہ اس سے مراد ان (عجمی مشرکین) کا اپنے ساتھی کو یہ کہنا ہے: ”ہزار سال، نوروز اور مہرجان (تمہارے لیے مبارک اور طویل ہوں)۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده حسن بما قبله، قيس بن الربيع يعتبر به في المتابعات والشواهد، وباقي رجاله ثقات.
درجۂ حدیث: اس کی سند ماقبل (شواہد) کی وجہ سے ’حسن‘ ہے۔
فنی نکتہ / علّت: قیس بن ربیع کا اعتبار متابعات اور شواہد میں کیا جاتا ہے، اور باقی تمام رجال ثقہ ہیں۔
وأخرجه بنحوه الطبري في "تفسيره" 1/ 429 من طريق الأعمش، عن مجاهد، عن ابن عبَّاس. وفيه نوروز مهرجان.
حوالہ / مصدر: اس کی مثل طبری نے اپنی "تفسیر" 1/ 429 میں اعمش کے طریق سے، انہوں نے مجاہد سے، انہوں نے ابن عباس سے تخریج کیا ہے، اور اس میں ’نوروز مہرجان‘ (کا ذکر) ہے۔
وبخور: كذا جاء في نسخنا الخطية، ويغلب على ظننا أنَّ الصواب: بَختْوَر، ومعناه كما في "المعجم الذهبي" ص 102: السعيد المحظوظ.
نوٹ / توضیح: (متن میں لفظ) "بخور": ہمارے قلمی نسخوں میں ایسا ہی آیا ہے، اور ہمارا غالب گمان ہے کہ درست لفظ "بَختْوَر" ہے، اور اس کا معنی "المعجم الذهبي" ص 102 کے مطابق ہے: خوش قسمت، خوش نصیب (السعيد المحظوظ)۔
درجۂ حدیث: اس کی سند ماقبل (شواہد) کی وجہ سے ’حسن‘ ہے۔
فنی نکتہ / علّت: قیس بن ربیع کا اعتبار متابعات اور شواہد میں کیا جاتا ہے، اور باقی تمام رجال ثقہ ہیں۔
وأخرجه بنحوه الطبري في "تفسيره" 1/ 429 من طريق الأعمش، عن مجاهد، عن ابن عبَّاس. وفيه نوروز مهرجان.
حوالہ / مصدر: اس کی مثل طبری نے اپنی "تفسیر" 1/ 429 میں اعمش کے طریق سے، انہوں نے مجاہد سے، انہوں نے ابن عباس سے تخریج کیا ہے، اور اس میں ’نوروز مہرجان‘ (کا ذکر) ہے۔
وبخور: كذا جاء في نسخنا الخطية، ويغلب على ظننا أنَّ الصواب: بَختْوَر، ومعناه كما في "المعجم الذهبي" ص 102: السعيد المحظوظ.
نوٹ / توضیح: (متن میں لفظ) "بخور": ہمارے قلمی نسخوں میں ایسا ہی آیا ہے، اور ہمارا غالب گمان ہے کہ درست لفظ "بَختْوَر" ہے، اور اس کا معنی "المعجم الذهبي" ص 102 کے مطابق ہے: خوش قسمت، خوش نصیب (السعيد المحظوظ)۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3082 سے ماخوذ ہے۔