المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
كَانَتِ الرُّسُلُ ثَلَاثَمِائَةٍ وَخَمْسَ عَشْرَةَ باب: انبیاء کی تعداد تین سو پندرہ تھی
حدیث نمبر: 3077
أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعي، حدثنا إسحاق بن الحسن، حدثنا أبو حُذَيفة، حدثنا سفيان، عن الأعمش، عن المِنْهال بن عمرو، عن سعيد ابن جُبَير، عن ابن عبَّاس: ﴿ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا﴾ [البقرة: 58] قال: بابًا ضيِّقًا، قال: رُكَّعًا ﴿وَقُولُوا حِطَّةٌ﴾ قال: مغفرةٌ، فقالوا: حِنطةٌ، ودخلوا على أسْتاهِهم، فذلك قوله تعالى: ﴿فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا قَوْلًا غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمْ﴾ (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3040 - على شرط البخاري ومسلمحافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ کے فرمان ﴿ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا﴾ [سورة البقرة: 58] کے بارے میں مروی ہے کہ (انہیں حکم دیا گیا تھا کہ) ایک تنگ دروازے سے عاجزی کرتے ہوئے داخل ہوں اور کہیں ﴿حِطَّةٌ﴾ یعنی مغفرت، مگر انہوں نے اس کے بجائے «حنطه» (گندم) کہا اور اپنی پشت کے بل گھسٹتے ہوئے داخل ہوئے، پس اسی بارے میں اللہ تعالی کا فرمان ہے: ﴿فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا قَوْلًا غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمْ﴾ [سورة البقرة: 59] ”پھر ان ظالموں نے اس بات کو بدل دیا جو ان سے کہی گئی تھی۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح. إسحاق بن الحسن: هو ابن ميمون أبو يعقوب الحَرْبي، وأبو حذيفة: هو موسى بن مسعود النَّهْدي، وسفيان: هو الثوري.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اسحاق بن الحسن سے مراد ’ابن میمون ابو یعقوب الحربی‘ ہیں، ابو حذیفہ سے مراد ’موسیٰ بن مسعود النہدی‘ ہیں، اور سفیان سے مراد ’ثوری‘ ہیں۔
وأخرجه ابن أبي حاتم في "تفسيره" مقطَّعًا 1/ 117 و 118 و 119 من طريقين عن سفيان، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی حاتم نے اپنی "تفسیر" 1/ 117، 118 اور 119 میں سفیان سے دو طریقوں سے اسی سند کے ساتھ ٹکڑوں میں (مقطّعاً) تخریج کیا ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اسحاق بن الحسن سے مراد ’ابن میمون ابو یعقوب الحربی‘ ہیں، ابو حذیفہ سے مراد ’موسیٰ بن مسعود النہدی‘ ہیں، اور سفیان سے مراد ’ثوری‘ ہیں۔
وأخرجه ابن أبي حاتم في "تفسيره" مقطَّعًا 1/ 117 و 118 و 119 من طريقين عن سفيان، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی حاتم نے اپنی "تفسیر" 1/ 117، 118 اور 119 میں سفیان سے دو طریقوں سے اسی سند کے ساتھ ٹکڑوں میں (مقطّعاً) تخریج کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3077 سے ماخوذ ہے۔