حدیث نمبر: 3076
حدثني إبراهيم بن إسماعيل القارئ، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا أبو تَوْبة الرَّبيع بن نافع الحلبي، حدثنا معاوية بن سلَّام، حدثني زيد بن سلَّام، أنه سمع أبا سَلَّام يقول: حدثني أبو أُمامة: أنَّ رجلًا قال: يا رسول الله، أنبيٌّ كان آدمُ؟ قال: "نعم، مُعلَّمٌ مُكلَّم" قال: كم بينه وبين نوح؟ قال: "عَشَرَةُ قُرونٍ" قال: كم كان بين نوح وإبراهيم؟ قال: عشرة قرون قالوا: يا رسول الله، كم كانت الرُّسُلُ؟ قال: "ثلاثُ مئةٍ وخمسَ عشرةَ، جَمًّا غَفيرًا" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3039 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا سیدنا آدم علیہ السلام نبی تھے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، وہ اللہ کے سکھائے ہوئے اور اس سے ہمکلام ہونے والے نبی تھے۔“ اس نے پوچھا: ان کے اور نوح علیہ السلام کے درمیان کتنا عرصہ تھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”دس صدیاں۔“ اس نے پھر پوچھا: نوح اور ابراہیم علیہما السلام کے درمیان کتنا عرصہ تھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”دس صدیاں۔“ لوگوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! رسولوں کی کل تعداد کتنی تھی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تین سو پندرہ، جو کہ ایک بڑی جماعت تھی۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3076
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، أبو سلام هو ممطور الحبشي جدُّ زيد.» [ترقيم الرساله 3076] [ترقيم الشركة 3057] [ترقيم العلميه 3039]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. أبو سلام هو ممطور الحبشي جدُّ زيد.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ابو سلام سے مراد ’ممطور الحبشی‘ ہیں جو زید کے دادا ہیں۔
وأخرجه ابن حبان (6190) من طريق محمد بن عبد الملك بن زنجويه، عن أبي توبة بهذا الإسناد. مختصرًا.
حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان نے (6190) میں محمد بن عبدالملک بن زنجویہ کے طریق سے، انہوں نے ابو توبہ سے اسی سند کے ساتھ مختصراً تخریج کیا ہے۔
وروي نحوه من وجه آخر ضعيف عن أبي أمامة عند أحمد 36/ (22288).
متابعات و شواہد: اور اس کی مثل ابو امامہ سے ایک اور ضعیف طریق (وجہ) سے احمد کے ہاں 36/ (22288) میں مروی ہے۔
وانظر ما سيأتي برقم (3695).
تفصیلِ روایت: اور دیکھیے جو آگے نمبر (3695) پر آئے گا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3076 سے ماخوذ ہے۔