کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا رسول اللہ ﷺ کے وزراء زمین میں بھی تھے اور آسمان میں بھی
حدثنا أحمد بن كامل بن خلف القاضي، حدثنا عبد الله بن رَوْح المدائني، حدثنا شَبَابة بن سَوَّار، حدثنا أبو عُتْبة الحمصي، عن عطاء بن عَجْلان، عن أبي نَضْرة، عن أبي سعيد الخُدْري قال: قال رسول الله ﷺ: "وَزِيرايَ من السماء: جبريلُ وميكائيلُ، ومن أهل الأرض: أبو بكرٍ وعمرهُ" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وإنما يُعرَف هذا الحديث من حديث سوَّار بن مُصعَب عن عَطِيَّة العَوْفي عن أبي سعيد، وليس من شرط هذا الكتاب:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3046 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وإنما يُعرَف هذا الحديث من حديث سوَّار بن مُصعَب عن عَطِيَّة العَوْفي عن أبي سعيد، وليس من شرط هذا الكتاب:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3046 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آسمان والوں میں سے میرے دو وزیر جبرائیل اور میکائیل ہیں، اور زمین والوں میں سے میرے دو وزیر ابوبکر اور عمر ہیں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین (امام بخاری و مسلم) نے اسے روایت نہیں کیا، اور یہ حدیث سوار بن مصعب عن عطیہ عوفی عن ابی سعید کے واسطے سے معروف ہے، جبکہ یہ (سند) اس کتاب کی شرط پر نہیں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین (امام بخاری و مسلم) نے اسے روایت نہیں کیا، اور یہ حدیث سوار بن مصعب عن عطیہ عوفی عن ابی سعید کے واسطے سے معروف ہے، جبکہ یہ (سند) اس کتاب کی شرط پر نہیں۔
حدَّثَناه أحمد بن كامل القاضي، حدثنا محمد بن سعد العَوْفي، حدثنا أبي، حدثنا سوَّار بن مصعب، عن عطيَّة العَوْفي، عن أبي سعيد الخُدْري، قال: قال رسول الله ﷺ: "إنَّ لي وزيرَينِ من أهل السماء ووزيرَينِ من أهل الأرض، فأما وزيرايَ من أهل السماء فجبريلُ وميكائيلُ، وأما وزيرايَ من أهل الأرض فأبو بكرٍ وعمرُ" (1). ورواه أبو عُبيد القاسم بن سلَّام، عن أبي معاوية، عن الأعمش، عن عطيَّة بلفظ آخر:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک میرے دو وزیر آسمان والوں میں سے ہیں اور دو وزیر زمین والوں میں سے، پس آسمان والوں میں سے میرے دو وزیر جبرائیل اور میکائیل ہیں، اور زمین والوں میں سے میرے دو وزیر ابوبکر اور عمر ہیں۔“
أخبرَناه الحسين بن الحسن بن أيوب، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا أبو عُبيد، حدثنا أبو معاوية، عن الأعمش (2)، عن عطيَّة، عن أبي سعيد الخُدْري قال: ذَكَرَ رسولُ الله ﷺ صاحبَ الصُّور، فقال: "جَبرَئيلُ عن يمينِه وميكائيلُ عن يسارِه" (3). قال أبو عبيد: هما مهموزتانِ في الحديث.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3048 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3048 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صاحبِ صور (اسرافیل علیہ السلام) کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا: ”جبرائیل ان کے دائیں جانب اور میکائیل ان کے بائیں جانب ہیں۔“ ابو عبید کہتے ہیں کہ حدیث میں یہ دونوں نام (جبرائیل و میکائیل) ہمزہ کے ساتھ مروی ہیں۔
حدَّثَناه أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا إبراهيم بن عبد الله السَّعْدي، حدثنا مُحاضِر بن المورِّع، حدثنا الأعمش، عن سعدٍ الطائي، عن عطيَّة ابن سعد، عن أبي سعيد الخُدْري قال: قال رسول الله ﷺ: "جَبرئيلُ عن يمينِه وميكائيلُ عن يسارِه، وهو صاحبُ الصُّور" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3049 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3049 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جبرائیل ان کے دائیں جانب اور میکائیل ان کے بائیں جانب ہیں، اور وہ (اسرافیل) صاحبِ صور ہیں۔“
حدثنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق ابن إبراهيم، أخبرنا جَرِير، عن حُصَين بن عبد الرحمن، عن عِمران بن الحارث قال: بَيْنا نحن عند ابن عبَّاس إذ جاءه رجل فقال: من أين جئتَ؟ قال: من العراق، قال: من أيِّهم؟ قال: من الكُوفة، قال: فما الخبرُ؟ قال: تركتُهم وهم يتحدُّثون أنَّ عليًّا خارجٌ عليهم (2)، فقال: ما تقولُ لا أبا لك؟! لو شَعَرْنا ذلك ما أَنكَحْنا نساءَه، ولا قَسَّمْنا ميراثَه. ثم قال: أنا سأحدِّثُك عن ذلك، إنَّ الشياطين كانوا يَستَرِقُون السمعَ، وكان أحدُهم يجيءُ بكلمةِ حقٍّ قد سمعها الناسُ، فيكذبُ معها سبعين كَذبةً، فتُشرَبُها قلوبَ الناس، فأَطلَعَ اللهُ على ذلك سليمانَ بن داود، فأخذها فدَفَنها تحت الكرسي، فلما مات سليمانُ قام شيطانٌ بالطريق فقال: ألا أدلُّكم على كَنْز (3) سليمان الذي لا كنزَ لأحدٍ مثلُه، كَنزِه المُمَنَّعِ؟ قالوا: نعم، فأخرجوه فإذا هو سحرٌ، فتناسَخَتْها الأُمم، فبقاياها ممّا تَحدَّثُ بها أهلُ العراق، فأنزل الله عُذْرَ سليمان فقال: ﴿وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُو الشَّيَاطِينُ عَلَى مُلْكِ سُلَيْمَانَ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ وَلَكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُوا﴾ الآيةَ [البقرة: 102] (4).
هذا حديث ....... (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3050 - صحيح . . . . . . . . . . . . . .
هذا حديث ....... (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3050 - صحيح . . . . . . . . . . . . . .
حافظ طلحہ بابر
عمران بن حارث سے روایت ہے کہ ہم سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھے تھے کہ ایک شخص ان کے پاس آیا۔ انہوں نے پوچھا: تم کہاں سے آئے ہو؟ اس نے کہا: عراق سے۔ پوچھا: وہاں کن لوگوں میں سے؟ اس نے کہا: کوفہ سے۔ انہوں نے پوچھا: وہاں کی کیا خبر ہے؟ اس نے کہا: میں انہیں اس حال میں چھوڑ کر آیا ہوں کہ وہ آپس میں تذکرہ کر رہے تھے کہ علی (رضی اللہ عنہ) دوبارہ ظاہر ہونے والے ہیں۔ اس پر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”تم کیا کہہ رہے ہو؟ تمہارا بھلا ہو! اگر ہمیں اس بات کا ذرا بھی احساس ہوتا تو نہ ہم ان کی بیوہ عورتوں کے نکاح کرتے اور نہ ہی ان کی وراثت تقسیم کرتے۔“ پھر انہوں نے فرمایا: ”میں تمہیں اس کی اصل حقیقت بتاتا ہوں؛ شیاطین آسمان سے چوری چھپے باتیں سنا کرتے تھے، پھر ان میں سے کوئی ایک سچی بات لے کر آتا جسے لوگوں نے (واقعتاً) سنا ہوتا، تو وہ اس کے ساتھ ستر جھوٹ ملا دیتا جو لوگوں کے دلوں میں رچ بس جاتے۔ اللہ تعالیٰ نے اس بات پر سلیمان بن داؤد علیہ السلام کو مطلع فرما دیا، تو انہوں نے وہ سب (جادو کی تحریریں) پکڑ کر اپنے تخت کے نیچے دفن کر دیں۔ جب سلیمان علیہ السلام کی وفات ہو گئی تو ایک شیطان راستے میں کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا: کیا میں تمہیں سلیمان کے اس خزانے کا پتہ نہ دوں جس جیسا خزانہ کسی کے پاس نہیں؟ کیا میں تمہیں ان کا وہ محفوظ خزانہ نہ دکھاؤں؟ لوگوں نے کہا: ہاں (ضرور)۔ چنانچہ انہوں نے اسے نکالا تو وہ جادو نکلا۔ پھر یہ علم نسل در نسل مختلف قوموں میں منتقل ہوتا رہا، اور اہل عراق جو باتیں کرتے ہیں وہ اسی کے بچے کھچے اثرات ہیں۔“ تب اللہ تعالیٰ نے سلیمان علیہ السلام کی براءت میں یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُو الشَّيَاطِينُ عَلَى مُلْكِ سُلَيْمَانَ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ وَلَكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُوا﴾ [سورة البقرة: 102] ”اور وہ ان (جادوئی باتوں) کے پیچھے لگ گئے جو شیاطین سلیمان کی بادشاہت کے دور میں پڑھا کرتے تھے، حالانکہ سلیمان نے کفر نہیں کیا تھا بلکہ شیاطین نے کفر کیا تھا۔“