حدَّثَناه علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا الحسين بن محمد بن زياد، حدثنا محمد بن المثنّى، حدثنا عثمان بن عمر، حدثنا علي بن المبارك، عن يحيى بن أبي كثير، عن يزيد بن نُعيم، عن سعيد بن المسيّب، عن نَضْرة بن أكْثم: أنه نكَحَ امرأةً بِكرًا، ودخل بها، فوجَدَها حُبلَى، فجعل النبي ﷺ ولدها عبدًا له، وفَرّق بينهما (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا نضرہ بن اکثم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک کنواری عورت سے نکاح کیا اور اس سے خلوت کی تو اسے حاملہ پایا، پس نبی کریم ﷺ نے اس کے بچے کو ان کا غلام قرار دے دیا اور ان میاں بیوی کے درمیان علیحدگی کروا دی۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرنا عبد الله بن الأسود القُرشي، عن عامر بن عبد الله بن الزُّبَير، عن أبيه، عن رسول الله ﷺ، قال: "أعلِنُوا النكاحَ" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2748 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2748 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نکاح کا اعلان کیا کرو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن مِهْران، حدثنا محمد بن سابِق، حدثنا إسرائيل، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة، قالت: نَقَلْنا امرأةً من الأنصار إلى زوجها، فقال رسول الله ﷺ: "هل كان معكم لهوٌ، فإنَّ الأنصارَ يُحِبُّون اللهوَ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2749 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2749 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہم ایک انصاری خاتون کو رخصت کر کے اس کے شوہر کے پاس لے گئے تو رسول اللہ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”کیا تمہارے ساتھ کوئی کھیل تماشہ (خوشی کا سامان) تھا؟ کیونکہ انصار کھیل تماشے کو پسند کرتے ہیں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن غالب، حدثنا عمرو بن عَوْن، أخبرنا وكيع، عن شعبة، عن أبي بَلْج يحيى بن سُلَيم، قال: قلت لمحمد بن حاطِب: تَزَوّجتُ، امرأتين ما كان في واحدةٍ منهما صوتٌ - يعني دُفًّا - فقال محمد: قال رسول الله ﷺ: "فَصْلُ ما بين الحَلالِ والحرامِ الصوتُ بالدُّفِّ" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2750 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2750 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
محمد بن حاطب سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے (ایک بار) دو شادیاں کیں جن میں سے کسی ایک میں بھی آواز (یعنی دف بجانے کا شور) نہیں تھا، تو محمد بن حاطب نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”حلال (نکاح) اور حرام (کاری) کے درمیان فرق دف کی آواز ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب. وحدثنا أبو علي الحافظ، أخبرنا علي بن العباس البَجَلي؛ قالا: حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، سمعتُ أبا إسحاقَ يحدّث عن عامر بن سَعْد، أنه قال: كنت مع ثابت بن وَدِيعةَ وقَرَظة بن كعب في عُرس، فسمعتُ صوتًا، فقلت: ألا تَسمعان؟! فقالا: إنه رُخِّص في الغناء في العُرس، والبكاءِ على الميت مِن غير نِياحَةٍ (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد رواه شَريك بن عبد الله عن أبي إسحاق مُفسَّرًا مُلخَّصًا:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2751 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد رواه شَريك بن عبد الله عن أبي إسحاق مُفسَّرًا مُلخَّصًا:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2751 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
عامر بن سعد سے روایت ہے کہ میں ثابت بن ودیعہ اور قرظہ بن کعب کے ساتھ ایک شادی میں شریک تھا، وہاں میں نے (گانے کی) آواز سنی تو کہا: کیا آپ لوگ نہیں سن رہے (کہ یہ سب ہو رہا ہے)؟! انہوں نے جواب دیا: یقیناً ہمیں شادی کے موقع پر گانے بجانے اور میت پر بین کیے بغیر رونے کی رخصت دی گئی ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدَّثَناه أبو بكر بن أبي دارِم، الحافظ، حدثنا عمر بن جعفر المُزَني، حدثنا أبو غسان مالك بن إسماعيل، حدثنا شَريك، عن أبي إسحاق، عن عامر بن سعد، قال: دخلتُ على قَرَظةَ بن كعب وأبي مسعود الأنصاري في عُرس، وإذا جَوارٍ يُغنِّين، فقلت: أنتم أصحابُ رسول الله ﷺ وأهلُ بدر يُفعَل هذا عندكم؟! فقالا: إن شئتَ فأقِمْ معنا، وإن شئتَ فاذهب، فإنه قد رُخِّص لنا في اللَّهو عند العُرس، وفي البُكاء عند المُصيبة؛ قال شريك: أُراه قال: في غير نَوْحٍ (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2752 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2752 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
عامر بن سعد سے روایت ہے کہ میں ایک شادی کی تقریب میں قرظہ بن کعب اور ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہما کے پاس گیا تو وہاں لڑکیاں گا رہی تھیں، میں نے کہا: آپ رسول اللہ ﷺ کے عظیم المرتبت ساتھی اور اہل بدر ہیں، کیا آپ کے سامنے یہ سب ہو رہا ہے؟! انہوں نے کہا: اگر تم چاہو تو ہمارے ساتھ بیٹھو ورنہ چلے جاؤ، ہمیں شادی کے موقع پر لہو و لعب (خوشی کے اظہار) کی اور مصیبت کے وقت رونے کی اجازت دی گئی ہے؛ راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے انہوں نے کہا: بغیر بین کیے۔
حدثني علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا إسماعيل بن أبي أويس، حدثني أبي، عن يحيى بن سعيد، عن عَمْرة، عن عائشة، قالت: سمع النبي ﷺ ناسًا يتغنَّون في عُرس لهم: وأهدى لها أكبُشًا … تَبَحبَحْنَ فِي مِربَدِ وحِبُّكِ في النادي … ويَعلَمُ ما في غدِ فقال النبي ﷺ: "لا يَعلمُ ما في غَدٍ إلَّا اللهُ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2753 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2753 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے کچھ لوگوں کو ایک شادی کی تقریب میں یہ گاتے ہوئے سنا: ”اس نے اسے تحفے میں مینڈھے دیے... جو باڑے میں آرام کر رہے ہیں اور تمہارا محبوب محفل میں موجود ہے... اور وہ جانتا ہے کہ کل کیا ہوگا“، تو نبی کریم ﷺ نے (اصلاح فرماتے ہوئے) فرمایا: ”کل کیا ہونا ہے اسے اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبُوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن السُّدِّي، عن أبي صالح، عن أم هانئ بنت أبي طالب، قالت: خَطَبني رسولُ الله ﷺ، فاعتَذَرْتُ إليه، فعَذَرني، ثم أُنزل عليه ﴿إِنَّا أَحْلَلْنَا لَكَ أَزْوَاجَكَ﴾ الآية [الأحزاب: 50]، فقالت: لم أكُن أَحِلُّ له، لم أُهاجِرْ معه، وكنتُ مع الطُّلَقاء (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2754 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2754 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے نکاح کا پیغام دیا تو میں نے آپ ﷺ سے معذرت کر لی اور آپ ﷺ نے میری معذرت قبول فرما لی، پھر آپ ﷺ پر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿إِنَّا أَحْلَلْنَا لَكَ أَزْوَاجَكَ﴾ [سورة الأحزاب: 50] ”بے شک ہم نے آپ کے لیے آپ کی وہ بیویاں حلال کر دی ہیں (جن کے مہر آپ نے ادا کر دیے ہیں)“، تو ام ہانی نے کہا: (اس آیت کی رو سے) میں آپ ﷺ کے لیے حلال نہیں تھی کیونکہ میں نے آپ ﷺ کے ساتھ ہجرت نہیں کی تھی اور میں (فتح مکہ کے موقع پر) آزاد کردہ لوگوں میں شامل تھی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔