کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا جہیز
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، الفقيه وأبو بكر بن بالَوَيهِ؛ قال الشيخ أبو بكر: أخبرنا، وقال ابن بالَوَيهِ: حدثنا محمد بن أحمد بن النضر، حدثنا معاوية بن عمرو، حدثنا زائدة، عن عطاء بن السائب، عن أبيه، عن علي، قال: جَهَّز رسولُ الله ﷺ فاطمةَ في خَمِيل وقِرْبةٍ ووِسادة من أَدَمٍ حَشْوُها لِيفٌ (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2755 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو جہیز میں ایک بچھونا، ایک مشکیزہ اور ایک ایسا چمڑے کا تکیہ عطا فرمایا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب النكاح / حدیث: 2790
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،زائدة» [ترقيم الرساله 2790] [ترقيم الشركة 2771] [ترقيم العلميه 2755]
أخبرنا إسماعيل بن محمد بن إسماعيل الفقيه بالرَّي، حدثنا أبو حاتم الرازي، حدثنا نوح بن يزيد المؤدِّب، حدثنا إبراهيم بن سعد، عن محمد بن إسحاق، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة، قالت: أرادتْ أمي أن تُسَمِّنِّي لِدُخولي على رسولِ الله ﷺ، فلم أُقبِلْ عليها بشيءٍ مما تُريدُ، حتى أَطعَمتْني القِثّاء والرُّطَب، فَسَمِنْتُ عليه كأحسنِ السِّمَن (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2756 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میری والدہ نے یہ چاہا کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس میری رخصتی سے قبل وہ مجھے موٹا (فربہ) کریں، لیکن میں نے ان کی کسی بھی تدبیر کو قبول نہ کیا، یہاں تک کہ انہوں نے مجھے ککڑی اور تازہ کھجوریں کھلائیں تو اس سے میرا جسم انتہائی عمدہ طریقے سے بھر گیا (یعنی میں صحت مند ہو گئی)۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب النكاح / حدیث: 2791
درجۂ حدیث محدثین: خبر صحيح
تخریج حدیث «خبر صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن إسحاق» [ترقيم الرساله 2791] [ترقيم الشركة 2772] [ترقيم العلميه 2756]