حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا جعفر بن محمد بن سَوّار ومحمد بن نُعَيم، قالا: حدثنا قُتيبة بن سعيد، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن سُهيل، عن أبيه، عن أبي هريرة: أنَّ النبي ﷺ كان إذا رَفّأ الإنسانَ إذا تَزوّج قال: "بارَكَ اللهُ لك وبارَكَ عليكَ، وجَمَعَ بينكما في خَيرٍ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2745 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2745 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ جب کسی شخص کو شادی کے موقع پر مبارکباد دیتے تو یہ دعا فرماتے: «بَارَكَ اللَّهُ لَكَ وَبَارَكَ عَلَيْكَ، وَجَمَعَ بَيْنكُمَا فِي خَيْرٍ» ”اللہ تمہیں برکت عطا فرمائے اور تم پر برکت نازل کرے اور تم دونوں کو خیر و بھلائی کے ساتھ اکٹھا رکھے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا يحيى بن منصور القاضي، حدثنا أبو بكر محمد بن محمد بن رجاء، حدثنا محمد بن أبي السَّرِي العَسْقلاني، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا ابن جُرَيج، عن صفوان بن سُليم، عن سعيد بن المسيّب، عن رجل من أصحاب رسول الله ﷺ من الأنصار، يقال له: نَضْرة، قال: تزوّجتُ امرأة بِكْرًا في سِتْرها، فدخلتُ عليها فإذا هي حُبلَى، فقال لي النبي ﷺ: "لها الصَّداقُ بما استَحلَلْتَ من فَرجِها، والولدُ عَبدٌ لك، فإذا وَلَدَت فاجلِدُوها" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ من حديث يحيى بن أبي كثير:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2746 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ من حديث يحيى بن أبي كثير:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2746 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا نضرہ رضی اللہ عنہ (جو انصاری صحابی ہیں) سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک کنواری لڑکی سے نکاح کیا، جب اس کے پاس گئے تو اسے حاملہ پایا، تب نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اس کا مہر اس کے لیے ثابت ہے کیونکہ تم نے اس کی شرمگاہ کو (نکاح کے ذریعے) حلال پایا، اور پیدا ہونے والا بچہ تمہارا غلام ہوگا، پھر جب وہ بچہ جن دے تو تم اس (عورت) کو (حد کے) کوڑے مارو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔