حدیث نمبر: 2335
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا الربيع بن سليمان، أخبرنا الشافعي، أخبرنا سعيد بن سالم القدّاح، أخبرنا ابن جُرَيج، أنَّ إسماعيل بن أُميّة أخبره عن عبد الملك بن عُمير، قال: حضرتُ أبا عُبيدة بن عبد الله بن مسعود وأتاه رجلان تَبايَعا سِلعةً، فقال أحدهما: أخذتُ بكذا وكذا، وقال الآخرُ: بعتُ بكذا وكذا، فقال أبو عُبيدة: حدثني عبد الله بن مسعود في مثل هذا قال: حضرتُ رسولَ الله ﷺ في مثل هذا، فأمر البائعَ أن يُستحلَف، ثم يخيَّر المبتاعُ، إن شاء أَخَذ، وإن شاء تَرَك (1).
هذا حديث صحيح إن كان سعيد بن سالم حفظ في إسناده عبدَ الملك بن عُمير.
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس اس وقت موجود تھا جب ایسا ہی ایک معاملہ پیش آیا (جس میں خریدار اور بیچنے والے میں اختلاف تھا)، تو آپ ﷺ نے حکم دیا کہ بیچنے والے سے حلف لیا جائے، پھر خریدار کو اختیار دیا جائے کہ اگر وہ چاہے تو سودا قبول کرے ورنہ اسے چھوڑ دے۔
یہ حدیث صحیح ہے بشرطیکہ سعید بن سالم نے اسے درست طور پر محفوظ رکھا ہو۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : البيوع / حدیث: 2335
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، دون ذكر استحلاف البائع، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبد الملك بن عمير، والصواب ابن عُبيد، كما قال هشام بن يوسف في روايته عن ابن جُرَيج، أو عبد الملك بن عُبيدة، بزيادة هاء في آخره، كما قال حجاج بن محمد في روايته عن ابن جُرَيج، فلا يصح ذكر عبد ...» [ترقيم الرساله 2335] [ترقيم الشركة 2317]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث صحيح، دون ذكر استحلاف البائع، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبد الملك بن عمير، والصواب ابن عُبيد، كما قال هشام بن يوسف في روايته عن ابن جُرَيج، أو عبد الملك بن عُبيدة، بزيادة هاء في آخره، كما قال حجاج بن محمد في روايته عن ابن جُرَيج، فلا يصح ذكر عبد الملك بن عمير في هذا الإسناد. وفي الإسناد أيضًا انقطاع، لأنَّ أبا عبيدة لم يسمع من أبيه.
درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے (مگر بائع سے حلف لینے کے ذکر کے بغیر)۔ یہ مخصوص سند عبدالملک بن عمیر (درست نام عبدالملک بن عبید ہے) کی جہالت اور ابوعبیدہ کا اپنے والد سے سماع نہ ہونے (انقطاع) کی وجہ سے ضعیف ہے۔
لكن للحديث طرق أخرى تقدم بيانها عند الطريق السالف برقم (2324)، ويصح بها الحديث إن شاء الله تعالى، إلَّا أنه ليس في شيء منها استِحلاف البائع.
متابعات و شواہد: اس حدیث کے دیگر طرق نمبر (2324) پر گزر چکے ہیں جن کی بنا پر یہ صحیح ہے، البتہ "بائع سے حلف لینا" کسی بھی صحیح طریق میں موجود نہیں ہے۔
وانظر ما بعده.
نوٹ: اگلی روایت دیکھیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2335 سے ماخوذ ہے۔