کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سود میں لینے والا اور دینے والا دونوں برابر کے گناہگار ہیں۔
أخبرني أبو علي الحسين بن علي الحافظ، أخبرنا علي بن العباس الكوفي، حدثنا محمد بن بشار وعلي بن مسلم، قالا: حدثنا أبو داود، حدثنا شعبة، عن عبد الله الزَّعْفَراني، قال: سمعتُ أبا المُتوكِّل الناجيَّ يحدِّث عن أبي سعيد الخُدْري، قال: قال رسول الله ﷺ: "الآخِذُ والمُعطي سواءٌ في الربا" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2307 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2307 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سود لینے والا اور دینے والا دونوں (گناہ میں) برابر ہیں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني أبو محمد عبد العزيز بن عبد الرحمن الدبّاس بمكة، حدثنا محمد بن علي بن زيد (2) الصائغ، حدثنا إبراهيم بن محمد بن العباس الشافعي، قال: سمعت أبي يحدث عن عُمر بن محمد بن زيد، عن أبيه، عن جده، عن علي بن أبي طالب، قال: قال النبي ﷺ: "الدِّينارُ بالدِّينارِ، والدِّرهمُ بالدِّرهم، لا فَضْلَ بينهما، فمن كانت له حاجةٌ بوَرِقٍ فليَصرِفها بذَهَبٍ، ومن كانت له حاجةٌ بذَهَبٍ فليَصرفِها بِوَرِقٍ، والصَّرْفُ هاءَ وهاءَ" (3).
هذا حديث غريب صحيح، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2308 - صحيح غريب
هذا حديث غريب صحيح، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2308 - صحيح غريب
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”دینار کے بدلے دینار اور درہم کے بدلے درہم (برابر ہونے چاہئیں)، ان کے درمیان کوئی کمی بیشی نہ ہو، جس کو چاندی کی ضرورت ہو وہ اسے سونے کے بدلے نقد تبدیل کر لے، اور جسے سونے کی حاجت ہو وہ اسے چاندی کے عوض نقد بدل لے، اور یہ تبادلہ ہاتھوں ہاتھ اور نقد ہونا چاہیے۔“
یہ حدیث غریب اور صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث غریب اور صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا۔