کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: جمرات کو کنکریاں مارنے اور کنکریوں کی مقدار کا بیان۔
أخبرنا جعفر بن محمد (2) بن نُصَير الخوّاص، حدثنا الحارث بن محمد التَّميمي، حدثنا أبو النَّضر هاشم بن القاسم، حدثنا عَوف بن أبي جَميلة. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا عَوف، عن زياد بن الحُصَين، حدثنا أبو العاليَة، قال: قال لي ابنُ عباس: قال لي رسولُ الله ﷺ غَداةَ العَقَبة: "هاتِ الْقُطْ لي (3) حَصَيَاتٍ من حَصَى الخَذْف"، فلمّا وُضِعنَ في يده قال: "بأمثال هؤلاءِ، بأمثال هؤلاء، وإياكم والغُلوَّ في الدِّين؛ فإنَّما هَلَكَ مَن كان قبلَكم بالغُلوِّ في الدِّين" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جمرہ عقبہ کی صبح مجھ سے فرمایا: ”آؤ میرے لیے کنکریاں چن لو“، پس جب کنکریاں آپ کے دستِ مبارک میں رکھی گئیں تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایسی ہی کنکریاں (استعمال کرنا)، ایسی ہی کنکریاں، اور دین میں غلو (حد سے بڑھنے) سے بچنا، کیونکہ تم سے پہلے والے لوگ دین میں غلو کی وجہ سے ہی ہلاک ہوئے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / أول كتاب المناسك / حدیث: 1729
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،الحارث بن محمد التميمي: هو ابن أبي أسامة الحافظ، ومحمد بن جعفر: هو المعروف بغندر، وزياد بن الحصين: هو ابن قيس الحنظلي، وأبو العالية: هو الربيع بن مهران الرِّياحي.» [ترقيم الرساله 1729] [ترقيم الشركة 1717]
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا الفضل بن عبد الجبار، حدثنا النضر بن شُمَيل. وحدثنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السَّمَّاك، حدثنا عبد الرحمن بن منصور، حدثنا يحيى بن سعيد القطّان. وحدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا أبو علي الحَنَفي وأبو عاصم النَّبيل، قالوا: حدثنا أيمن بن نابِلٍ قال: سمعتُ قُدامةَ بن عبد الله بن عمّار الكِلَابيَّ يقول: رأيتُ رسولَ الله ﷺ يرمي الجَمْرةَ يومَ النَّحر على ناقةٍ صَهباءَ، لا ضَرْبَ ولا طَرْدَ، ولا إليكَ إليكَ (2).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا قدامہ بن عبداللہ بن عمار کلابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یومِ نحر (دس ذوالحجہ) کو ایک سرخی مائل سفید اونٹنی پر سوار ہو کر جمرہ کی رمی کرتے ہوئے دیکھا، وہاں نہ تو مار دھاڑ تھی، نہ کسی کو دھکیلا جا رہا تھا اور نہ ہی ”پرے ہٹو، پرے ہٹو“ کی پکار تھی۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / أول كتاب المناسك / حدیث: 1730
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن،من أجل أيمن بن نابل. أبو عاصم النبيل: هو الضحاك بن مخلد، وأخرجه أحمد 24/ (15410) و (15411) و (15412) و (15413) و (15415)، وابن ماجه (3035)، والترمذي (903)، والنسائي (4053) من طرق عن أيمن بن نابل، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حديث حسن صحيح.» [ترقيم الرساله 1730] [ترقيم الشركة 1718]
حدثنا أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا أبو عبد الله محمد بن أحمد بن أنسٍ القُرَشي، حدثنا حفص بن عبد الله، حدثني إبراهيم بن طَهْمان، حدثنا الحسن بن عُبيد الله، عن سالم بن أبي الجَعْد، عن ابن عباسٍ رفَعَه، قال: "لما أتى إبراهيمُ خليلُ الله المناسكَ عَرَضَ له الشيطانُ عند جَمْرةِ العَقَبة، فرماه بسَبعِ حَصَياتٍ حتى ساخَ في الأرض [ثم عَرَضَ له عند الجَمرة الثانية، فرماه بسَبْع حَصَياتٍ حتى ساخ في الأرض، ثم عَرَضَ له عند الجَمرة الثالثة، فرماه بسَبع حَصَياتٍ حتى ساخ في الأرض] (1) ". قال ابن عباس: الشيطانَ تَرجُمون، وملَّةَ أبيكم تتَّبعون (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب اللہ کے خلیل ابراہیم علیہ السلام مناسکِ حج ادا کرنے آئے تو جمرہ عقبہ کے پاس ان کے سامنے شیطان آ گیا، انہوں نے اسے سات کنکریاں ماریں یہاں تک کہ وہ زمین میں دھنس گیا، پھر وہ دوسرے جمرہ کے پاس سامنے آیا تو انہوں نے اسے سات کنکریاں ماریں یہاں تک کہ وہ زمین میں دھنس گیا، پھر وہ تیسرے جمرہ کے پاس سامنے آیا تو انہوں نے اسے سات کنکریاں ماریں یہاں تک کہ وہ زمین میں دھنس گیا۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تم شیطان کو کنکریاں مارتے ہو اور اپنے باپ (ابراہیم علیہ السلام) کی ملت کی پیروی کرتے ہو۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / أول كتاب المناسك / حدیث: 1731
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،إن كان الحسن بن عبيد الله هو الكوفي النخعي، فلم نقع على تصريح بأنه هو، لكن يغلب على الظن أنه هو لأنه المشهور في هذه الطبقة، والله أعلم، وباقي رجاله ثقات، فمحمد بن أحمد بن أنس القرشي قد وثقه محمد بن صالح بن هانئ كما في "تاريخ الإسلام" للذهبي ...» [ترقيم الرساله 1731] [ترقيم الشركة 1719]