أخبرنا علي بن محمد بن عُقْبة الشَّيباني بالكوفة، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الزُّهري، حدثنا عُبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن إبراهيم بن مُهاجِر، عن يوسف بن ماهَكَ، عن أمه مُسَيكة، عن عائشةَ قالت: قيل: يا رسولَ الله، ألا نَبْني لك بمِنًى بناءً يُظِلُّك؟ قال: "لا، مِنًى مُناخُ مَن سَبَق" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم منیٰ میں آپ کے لیے کوئی ایسی عمارت نہ بنا دیں جو آپ کو سایہ فراہم کرے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، منیٰ اس کی قیام گاہ ہے جو پہلے پہنچ جائے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكَير، حدثنا محمد بن إسحاق. وحدثنا علي بن حَمْشاذ العدل، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا عيّاش بن الوليد الرَّقّام، حدثنا عبد الأعلى بن عبد الأعلى، عن محمد بن إسحاق، حدثني عبد الله بن أبي نَجِيح، عن مجاهد، عن ابن عباس قال: أَهدَى رسولُ الله ﷺ عامَ الحُدَيبية في هداياهُ جَمَلًا لأبي جَهْل، في رأسه بُرَةٌ من فضَّة، لِيَغيظَ المشركين بذلك (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حدیبیہ والے سال اپنی قربانی کے جانوروں میں ابوجہل کا ایک اونٹ بھی پیش کیا جس کے ناک کے چھلے (نکیل) میں چاندی جڑی ہوئی تھی، تاکہ اس کے ذریعے مشرکین کو زچ کریں (ان کے غصے کا باعث بنیں)۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔