حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفّان العامِري، حدثنا معاوية بن هشام، حدثنا سفيان، عن الأعمش، عن الحَكَم، عن مِقْسَم، عن ابن عباس، عن أسامة: أنَّ النبيَّ ﷺ أردَفَه حين أفاضَ من عَرفةَ، فأفاض بالسَّكِينة، وقال: "أيُّها الناسُ، عليكم بالسَّكِينة" وقال: "ليس البِرُّ بإيجافِ الخيلِ والإبل"، فما رأيتُ ناقتَه رافعةً يدَها حتى أتَى مِنى (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ عرفہ سے واپس لوٹے تو آپ ﷺ نے انہیں اپنی سواری پر پیچھے بٹھایا، آپ ﷺ نہایت سکون اور وقار کے ساتھ چلے اور فرمایا: ”اے لوگو! سکون و وقار کو لازم پکڑو“، اور فرمایا: ”گھوڑوں اور اونٹوں کو دوڑانا کوئی نیکی نہیں ہے“، راوی کہتے ہیں کہ میں نے آپ ﷺ کی اونٹنی کو (تیزی کی وجہ سے) پاؤں اٹھاتے ہوئے نہیں دیکھا یہاں تک کہ آپ منیٰ پہنچ گئے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو عبد الله محمد بنُ عبد الله الصَّفَّار، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي، حدثنا أبو النُّعمان محمد بن الفضل، حدثنا حمّاد بن زيد، عن كَثِير بن شِنْظِير، عن عطاء، عن ابن عباس قال: إنَّما كان بَدْءُ الإيضاع من أهل البادية؛ كانوا يَقِفُون حافَتَي الناسِ قد علَّقوا (1) القِعابَ والعِصِيَّ، فإذا أفاضُوا تَقَعقَعوا، فَأَنفَرَتْ بالناس، فلقد رأيتُ رسول الله ﷺ وإن ذِفْرَى (2) ناقتِه لَيَمَسُّ حارِكَها (3)، وهو يقول: "يا أيُّها الناسُ، عليكم بالسَّكِينة" (1).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ (واپسی پر) تیزی سے دوڑنے کی ابتدا دیہاتیوں سے ہوئی تھی؛ وہ لوگوں کے دونوں کناروں پر کھڑے ہو جاتے، پیالے اور لاٹھیاں لٹکائے ہوتے اور جب واپسی شروع ہوتی تو وہ انہیں بجاتے جس سے لوگ بھڑک اٹھتے تھے، پس میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ (تیزی سے روکنے کے لیے) آپ کی اونٹنی کی گردن کا پچھلا حصہ آپ کے کجاوے کے اگلے حصے کو چھو رہا تھا اور آپ فرما رہے تھے: ”اے لوگو! سکون و وقار کو لازم پکڑو۔“
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔