حدیث نمبر: 1731
حدثنا أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا أبو عبد الله محمد بن أحمد بن أنسٍ القُرَشي، حدثنا حفص بن عبد الله، حدثني إبراهيم بن طَهْمان، حدثنا الحسن بن عُبيد الله، عن سالم بن أبي الجَعْد، عن ابن عباسٍ رفَعَه، قال: "لما أتى إبراهيمُ خليلُ الله المناسكَ عَرَضَ له الشيطانُ عند جَمْرةِ العَقَبة، فرماه بسَبعِ حَصَياتٍ حتى ساخَ في الأرض [ثم عَرَضَ له عند الجَمرة الثانية، فرماه بسَبْع حَصَياتٍ حتى ساخ في الأرض، ثم عَرَضَ له عند الجَمرة الثالثة، فرماه بسَبع حَصَياتٍ حتى ساخ في الأرض] (1) ". قال ابن عباس: الشيطانَ تَرجُمون، وملَّةَ أبيكم تتَّبعون (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب اللہ کے خلیل ابراہیم علیہ السلام مناسکِ حج ادا کرنے آئے تو جمرہ عقبہ کے پاس ان کے سامنے شیطان آ گیا، انہوں نے اسے سات کنکریاں ماریں یہاں تک کہ وہ زمین میں دھنس گیا، پھر وہ دوسرے جمرہ کے پاس سامنے آیا تو انہوں نے اسے سات کنکریاں ماریں یہاں تک کہ وہ زمین میں دھنس گیا، پھر وہ تیسرے جمرہ کے پاس سامنے آیا تو انہوں نے اسے سات کنکریاں ماریں یہاں تک کہ وہ زمین میں دھنس گیا۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تم شیطان کو کنکریاں مارتے ہو اور اپنے باپ (ابراہیم علیہ السلام) کی ملت کی پیروی کرتے ہو۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / أول كتاب المناسك / حدیث: 1731
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،إن كان الحسن بن عبيد الله هو الكوفي النخعي، فلم نقع على تصريح بأنه هو، لكن يغلب على الظن أنه هو لأنه المشهور في هذه الطبقة، والله أعلم، وباقي رجاله ثقات، فمحمد بن أحمد بن أنس القرشي قد وثقه محمد بن صالح بن هانئ كما في "تاريخ الإسلام" للذهبي ...» [ترقيم الرساله 1731] [ترقيم الشركة 1719]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) ما بين المعقوفين سقط من النسخ الخطية، وأثبتناه من "تلخيص المستدرك" للذهبي، ومن "السنن الكبرى" 5/ 153، و"شعب الإيمان" (3784) كلاهما للبيهقي حيث رواه عن المصنف بإسناده ومتنه.
فنی نکتہ: بریکٹ [ ] کے درمیان والی عبارت خطی نسخوں سے ساقط تھی، جسے ہم نے ذہبی کی 'تلخیص' اور بیہقی کی 'السنن الکبریٰ' (5/153) کی مدد سے مکمل کیا ہے۔
(2) إسناده صحيح إن كان الحسن بن عبيد الله هو الكوفي النخعي، فلم نقع على تصريح بأنه هو، لكن يغلب على الظن أنه هو لأنه المشهور في هذه الطبقة، والله أعلم، وباقي رجاله ثقات، فمحمد بن أحمد بن أنس القرشي قد وثقه محمد بن صالح بن هانئ كما في "تاريخ الإسلام" للذهبي 6/ 594، والخطيب في "المتفق والمفترق" 3/ 1819، وحفص بن عبد الله - وهو ابن راشد السَّلَمي - ثبتٌ في إبراهيم بن طهمان لملازمته له، كما قال الذهبي في "سير أعلام النبلاء" 9/ 485.
درجۂ حدیث: اگر حسن بن عبید اللہ سے مراد 'کوفی نخعی' ہیں تو سند "صحیح" ہے۔ بظاہر وہی مراد ہیں کیونکہ وہ اس طبقے میں مشہور ہیں۔ باقی تمام راوی ثقہ ہیں، جیسے محمد بن احمد القرشی اور حفص بن عبداللہ جنہیں ائمہ نے ثقہ قرار دیا ہے۔
وأخرجه البيهقي في "السنن الكبرى" 5/ 153، وفي "الشعب" (3784) عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے اپنی دونوں کتب (الکبریٰ اور الشعب) میں ابوعبداللہ الحاکم کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه أحمد 4/ (2707) ضمن حديث طويل من طريق أبي عاصم الغنوي، عن أبي الطفيل عامر بن واثلة، عن ابن عباس.
متابعات و شواہد: اسے امام احمد (4/2707) نے ابوالطفیل عن ابن عباسؓ کی ایک طویل حدیث کے ضمن میں روایت کیا ہے۔
وانظر ما سيأتي برقم (1773) من طريق عطاء بن السائب عن سعيد بن جبير عن ابن عباس.
ہدایت: آگے آنے والی حدیث نمبر (1773) بھی ملاحظہ فرمائیں جو عطاء بن السائب کے طریق سے ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1731 سے ماخوذ ہے۔