المستدرك على الصحيحين
أول كتاب المناسك— حج کا بیان
رَمْيُ الْجِمَارِ وَمِقْدَارُ الْحَصَى باب: جمرات کو کنکریاں مارنے اور کنکریوں کی مقدار کا بیان۔
حدیث نمبر: 1730
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا الفضل بن عبد الجبار، حدثنا النضر بن شُمَيل. وحدثنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السَّمَّاك، حدثنا عبد الرحمن بن منصور، حدثنا يحيى بن سعيد القطّان. وحدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا أبو علي الحَنَفي وأبو عاصم النَّبيل، قالوا: حدثنا أيمن بن نابِلٍ قال: سمعتُ قُدامةَ بن عبد الله بن عمّار الكِلَابيَّ يقول: رأيتُ رسولَ الله ﷺ يرمي الجَمْرةَ يومَ النَّحر على ناقةٍ صَهباءَ، لا ضَرْبَ ولا طَرْدَ، ولا إليكَ إليكَ (2).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا قدامہ بن عبداللہ بن عمار کلابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یومِ نحر (دس ذوالحجہ) کو ایک سرخی مائل سفید اونٹنی پر سوار ہو کر جمرہ کی رمی کرتے ہوئے دیکھا، وہاں نہ تو مار دھاڑ تھی، نہ کسی کو دھکیلا جا رہا تھا اور نہ ہی ”پرے ہٹو، پرے ہٹو“ کی پکار تھی۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده حسن من أجل أيمن بن نابل. أبو عاصم النبيل: هو الضحاك بن مخلد.
وأخرجه أحمد 24/ (15410) و (15411) و (15412) و (15413) و (15415)، وابن ماجه (3035)، والترمذي (903)، والنسائي (4053) من طرق عن أيمن بن نابل، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حديث حسن صحيح.
درجۂ حدیث: ایمن بن نابل کی وجہ سے سند "حسن" ہے۔
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد، ابن ماجہ (3035)، ترمذی (903) اور نسائی (4053) نے ایمن بن نابل کے مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے اسے "حسن صحیح" کہا ہے۔
وسيأتي برقم (8758).
تکرار: یہ روایت آگے نمبر (8758) پر دوبارہ آئے گی۔
قال السندي في حاشيته على مسند أحمد": قوله: "ولا إليكَ" اسم فعل بمعنى: ابتعِد وتنحَّ، أي: لم يكن ثَمَّ شيءٌ من هذه الأمور التي تُفعل الآن بين أيدي الأمراء، فهي محدَثة ومكروهة كسائر المحدَثات، وفيه بيان تواضعه ﷺ، أنه لم يكن على صفة الأمراء اليوم، والله تعالى أعلم.
توضیح: علامہ سندھی کے مطابق "ولا إليكَ" کا مطلب ہے 'پرے ہٹ جاؤ'۔ یہ ان کاموں کی تردید ہے جو آج کل امراء کے سامنے (پروٹوکول کے لیے) کیے جاتے ہیں؛ یہ سب ناپسندیدہ بدعات ہیں، اور اس میں نبی ﷺ کی کمال تواضع کا بیان ہے۔
وأخرجه أحمد 24/ (15410) و (15411) و (15412) و (15413) و (15415)، وابن ماجه (3035)، والترمذي (903)، والنسائي (4053) من طرق عن أيمن بن نابل، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حديث حسن صحيح.
درجۂ حدیث: ایمن بن نابل کی وجہ سے سند "حسن" ہے۔
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد، ابن ماجہ (3035)، ترمذی (903) اور نسائی (4053) نے ایمن بن نابل کے مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے اسے "حسن صحیح" کہا ہے۔
وسيأتي برقم (8758).
تکرار: یہ روایت آگے نمبر (8758) پر دوبارہ آئے گی۔
قال السندي في حاشيته على مسند أحمد": قوله: "ولا إليكَ" اسم فعل بمعنى: ابتعِد وتنحَّ، أي: لم يكن ثَمَّ شيءٌ من هذه الأمور التي تُفعل الآن بين أيدي الأمراء، فهي محدَثة ومكروهة كسائر المحدَثات، وفيه بيان تواضعه ﷺ، أنه لم يكن على صفة الأمراء اليوم، والله تعالى أعلم.
توضیح: علامہ سندھی کے مطابق "ولا إليكَ" کا مطلب ہے 'پرے ہٹ جاؤ'۔ یہ ان کاموں کی تردید ہے جو آج کل امراء کے سامنے (پروٹوکول کے لیے) کیے جاتے ہیں؛ یہ سب ناپسندیدہ بدعات ہیں، اور اس میں نبی ﷺ کی کمال تواضع کا بیان ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1730 سے ماخوذ ہے۔