کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: حجرِ اسود کو چھونے، بوسہ دینے اور وہاں رونے کا بیان۔
حدثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الأصبهاني الزاهد إملاءً، حدثنا أحمد بن يونس الضَّبِّي، حدثنا يعلى بن عُبيد الطَّنافِسي، حدثنا محمد بن عَوْن، عن نافع، عن ابن عمرَ قال: استقبَلَ رسولُ الله ﷺ الحَجَرَ واسْتَلَمَه، ثم وَضَعَ شَفَتَيْه عليه يَبكي طويلًا، فالتَفَتَ فإذا عمرُ يبكي، فقال: " يا عمرُ، هاهنا تُسكَبُ العَبَراتُ" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ حجرِ اسود کے سامنے تشریف لائے، اس کا استلام کیا (اسے چھوا)، پھر اس پر اپنے لب مبارک رکھ کر دیر تک روتے رہے، پھر مڑ کر دیکھا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی رو رہے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عمر! یہی وہ جگہ ہے جہاں آنسو بہائے جاتے ہیں۔“
اس حدیث کی اسناد صحیح ہیں لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اس حدیث کی اسناد صحیح ہیں لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني أبو بكر محمد بن المُؤمَّل بن الحسن بن عيسى، حدثنا الفضل بن محمد بن المسيّب، حدثنا نُعيم بن حمّاد، حدثنا عيسى بن يونس، حدثنا محمد بن إسحاق، عن أبي جعفر - وهو محمد بن علي بن الحسين - عن جابر بن عبد الله قال: دَخَلْنا مكةَ عند ارتفاع الضُّحى، فأَتى النبيُّ ﷺ بابَ المسجد، فأناخَ راحلتَه ثم دَخَلَ المسجد، فبدأ بالحَجَر فاستَلَمَه، وفاضت عيناهُ بالبكاء، ثم رَمَلَ ثلاثًا، ومَشَي أربعًا حتى فَرَغَ، فلما فَرَغَ قبل الحَجَر، ووَضَعَ يدَيهِ عليه، ومَسَحَ بهما وجهه (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم چاشت کے وقت مکہ میں داخل ہوئے، نبی کریم ﷺ مسجد کے دروازے پر تشریف لائے، اپنی اونٹنی بٹھائی اور مسجد میں داخل ہوئے، آپ ﷺ نے حجرِ اسود سے آغاز فرمایا، اس کا استلام کیا اور آپ کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں، پھر تین چکر رمل کیا اور چار چکر عام چال چلے یہاں تک کہ طواف مکمل کر لیا، پھر حجرِ اسود کو بوسہ دیا، اس پر اپنے دونوں ہاتھ رکھے اور انہیں اپنے چہرہ مبارک پر پھیرا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي بمَرْو، حدثنا محمد بن معاذ، حدثنا أبو عاصم النبيل، حدثنا جعفر بن عبد الله - وهو ابن الحَكَم - قال: رأيتُ محمد بن عبَّاد بن جعفر قَبَّلَ الحَجَرَ وسجد عليه، ثم قال: رأيتُ خالَكَ ابنَ عباس يُقبِّله ويسجُدُ عليه، وقال ابن عباس: رأيتُ عمر بنَ الخطاب قبَّله وسَجَدَ عليه، ثم قال: رأيتُ رسولَ الله ﷺ فَعَلَ هكذا ففعلتُ (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
جعفر بن عبداللہ بن حکم بیان کرتے ہیں کہ میں نے محمد بن عباد بن جعفر کو دیکھا کہ انہوں نے حجرِ اسود کو بوسہ دیا اور اس پر سجدہ کیا، پھر فرمایا: میں نے تمہارے ماموں ابن عباس کو دیکھا کہ وہ اسے بوسہ دیتے اور اس پر سجدہ کرتے تھے، اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے اسے بوسہ دیا اور اس پر سجدہ کیا، پھر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسا کرتے دیکھا تھا اس لیے میں نے بھی ایسا ہی کیا۔
اس حدیث کی اسناد صحیح ہیں لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اس حدیث کی اسناد صحیح ہیں لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أحمد بن سَلْمان الفقيه ببغداد، حدثنا الحسن بن مُكْرَم البزاز، حدثنا عثمان بن عمر، أخبرنا ابن جُرَيج. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا محمد بن بكر، أخبرنا ابن جُرَيج، أخبرني يحيى بن عُبيد مولى السائب، أنَّ أباه أخبره، أنَّ عبد الله بن السائب أخبره: أنه سَمِع النبيَّ ﷺ فيما بين ركن بني جُمَحَ والركنِ الأسود يقول: "ربَّنا آتِنا في الدُّنيا حَسَنَةً وفي الآخرة حَسَنَةً وقِنا عَذابَ النار" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو رکنِ بنی جمح (رکنِ یمانی) اور حجرِ اسود کے درمیان یہ فرماتے ہوئے سنا: «رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ» ”اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔“ [سورة البقرة: 201]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔