المستدرك على الصحيحين
أول كتاب المناسك— حج کا بیان
اسْتِلَامُ الْحَجَرِ وَتَقْبِيلُهُ وَالْبُكَاءُ باب: حجرِ اسود کو چھونے، بوسہ دینے اور وہاں رونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1691
أخبرنا أحمد بن سَلْمان الفقيه ببغداد، حدثنا الحسن بن مُكْرَم البزاز، حدثنا عثمان بن عمر، أخبرنا ابن جُرَيج. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا محمد بن بكر، أخبرنا ابن جُرَيج، أخبرني يحيى بن عُبيد مولى السائب، أنَّ أباه أخبره، أنَّ عبد الله بن السائب أخبره: أنه سَمِع النبيَّ ﷺ فيما بين ركن بني جُمَحَ والركنِ الأسود يقول: "ربَّنا آتِنا في الدُّنيا حَسَنَةً وفي الآخرة حَسَنَةً وقِنا عَذابَ النار" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو رکنِ بنی جمح (رکنِ یمانی) اور حجرِ اسود کے درمیان یہ فرماتے ہوئے سنا: «رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ» ”اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔“ [سورة البقرة: 201]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده محتمل للتحسين، عبيد مولى السائب - وهو المخزومي - انفرد بالرواية عنه ولده يحيى، وذكره ابن حبان في "الثقات"، وهو تابعي كبير، بل قد عدَّه بعضهم في الصحابة فوهمَ، والصحيح أنه تابعي كما جاء في ترجمته في "الإصابة"، وباقي رجاله ثقات. محمد بن بكر: هو
البرساني، وابن جريج: هو عبد الملك بن عبد العزيز.
درجۂ حدیث: اس کی سند حسن ہونے کا احتمال رکھتی ہے۔ عبید مولیٰ السائب اگرچہ منفرد ہیں مگر ابن حبان نے ان کی توثیق کی ہے اور وہ کبار تابعین میں سے ہیں۔
راوی پر جرح: محمد بن بکر سے مراد البرسانی اور ابن جریج سے مراد عبدالملک بن عبدالعزیز ہیں۔
وهو في "مسند أحمد" 24/ (15398).
حوالہ / مصدر: یہ مسند احمد 24/ (15398) میں موجود ہے۔
وأخرجه أحمد أيضًا (15398) عن عبد الرزاق وروح بن عبادة، وأحمد (15399)، والنسائي (3920)، وابن حبان (3826) من طريق يحيى بن سعيد القطان، وأبو داود (1892) من طريق عيسى بن يونس، أربعتهم عن ابن جريج، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے احمد، نسائی (3920)، ابن حبان اور ابوداؤد نے ابن جریج کے مختلف طریقوں سے روایت کیا ہے۔
وخالفهم سفيان الثوري فرواه عن ابن جريج، عن يحيى بن عبيد، عن أبيه، عن عبد الله بن السائب، عن أبيه فيما سيأتي في "المستدرك" برقم (3135)، وبيَّنا هناك أنه وهمٌ، والله أعلم.
سندی اختلاف: سفیان ثوری نے ابن جریج سے روایت کرتے ہوئے اس میں وہم کیا ہے جیسا کہ آگے رقم (3135) پر واضح کیا جائے گا۔
قوله: ركن بني جُمَح، يعني: الركن اليماني، ونُسب إلى بني جُمَح - وهم بطن من قريش - لأنَّ بيوتهم كانت من جهته.
اہم نکتہ: "رکنِ بنی جُمح" سے مراد رکنِ یمانی ہے، اسے بنو جمح (قریش کی ایک شاخ) کی طرف اس لیے منسوب کیا گیا کیونکہ ان کے مکانات اس سمت میں تھے۔
البرساني، وابن جريج: هو عبد الملك بن عبد العزيز.
درجۂ حدیث: اس کی سند حسن ہونے کا احتمال رکھتی ہے۔ عبید مولیٰ السائب اگرچہ منفرد ہیں مگر ابن حبان نے ان کی توثیق کی ہے اور وہ کبار تابعین میں سے ہیں۔
راوی پر جرح: محمد بن بکر سے مراد البرسانی اور ابن جریج سے مراد عبدالملک بن عبدالعزیز ہیں۔
وهو في "مسند أحمد" 24/ (15398).
حوالہ / مصدر: یہ مسند احمد 24/ (15398) میں موجود ہے۔
وأخرجه أحمد أيضًا (15398) عن عبد الرزاق وروح بن عبادة، وأحمد (15399)، والنسائي (3920)، وابن حبان (3826) من طريق يحيى بن سعيد القطان، وأبو داود (1892) من طريق عيسى بن يونس، أربعتهم عن ابن جريج، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے احمد، نسائی (3920)، ابن حبان اور ابوداؤد نے ابن جریج کے مختلف طریقوں سے روایت کیا ہے۔
وخالفهم سفيان الثوري فرواه عن ابن جريج، عن يحيى بن عبيد، عن أبيه، عن عبد الله بن السائب، عن أبيه فيما سيأتي في "المستدرك" برقم (3135)، وبيَّنا هناك أنه وهمٌ، والله أعلم.
سندی اختلاف: سفیان ثوری نے ابن جریج سے روایت کرتے ہوئے اس میں وہم کیا ہے جیسا کہ آگے رقم (3135) پر واضح کیا جائے گا۔
قوله: ركن بني جُمَح، يعني: الركن اليماني، ونُسب إلى بني جُمَح - وهم بطن من قريش - لأنَّ بيوتهم كانت من جهته.
اہم نکتہ: "رکنِ بنی جُمح" سے مراد رکنِ یمانی ہے، اسے بنو جمح (قریش کی ایک شاخ) کی طرف اس لیے منسوب کیا گیا کیونکہ ان کے مکانات اس سمت میں تھے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1691 سے ماخوذ ہے۔