المستدرك على الصحيحين
أول كتاب المناسك— حج کا بیان
اسْتِلَامُ الْحَجَرِ وَتَقْبِيلُهُ وَالْبُكَاءُ باب: حجرِ اسود کو چھونے، بوسہ دینے اور وہاں رونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1688
حدثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الأصبهاني الزاهد إملاءً، حدثنا أحمد بن يونس الضَّبِّي، حدثنا يعلى بن عُبيد الطَّنافِسي، حدثنا محمد بن عَوْن، عن نافع، عن ابن عمرَ قال: استقبَلَ رسولُ الله ﷺ الحَجَرَ واسْتَلَمَه، ثم وَضَعَ شَفَتَيْه عليه يَبكي طويلًا، فالتَفَتَ فإذا عمرُ يبكي، فقال: " يا عمرُ، هاهنا تُسكَبُ العَبَراتُ" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ حجرِ اسود کے سامنے تشریف لائے، اس کا استلام کیا (اسے چھوا)، پھر اس پر اپنے لب مبارک رکھ کر دیر تک روتے رہے، پھر مڑ کر دیکھا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی رو رہے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عمر! یہی وہ جگہ ہے جہاں آنسو بہائے جاتے ہیں۔“
اس حدیث کی اسناد صحیح ہیں لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) إسناده ضعيف جدًّا، محمد بن عون - وهو الخراساني - متروك، قال أبو حاتم: روى عن نافع حديثًا ليس له أصل، قال المزي بعد أن روى الحديث المذكور أعلاه: وكأنه الحديث الذي أشار إليه أبو حاتم.
درجۂ حدیث: اس کی سند سخت ضعیف ہے۔ محمد بن عون الخراسانی "متروک" راوی ہے۔
راوی پر جرح: ابو حاتم کے بقول اس نے نافع سے ایسی حدیث بیان کی ہے جس کی کوئی اصل نہیں۔ امام مزی نے بھی اسی طرف اشارہ کیا ہے۔
وأخرجه ابن ماجه (2945) عن علي بن محمد الطنافسي، عن خاله يعلى بن عبيد الطنافسي، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ (2945) نے علی بن محمد الطنافسی عن یعلیٰ بن عبید کی سند سے روایت کیا ہے۔
والعَبَرات: الدموع.
اہم نکتہ: "العَبَرات" سے مراد آنسو ہیں۔
درجۂ حدیث: اس کی سند سخت ضعیف ہے۔ محمد بن عون الخراسانی "متروک" راوی ہے۔
راوی پر جرح: ابو حاتم کے بقول اس نے نافع سے ایسی حدیث بیان کی ہے جس کی کوئی اصل نہیں۔ امام مزی نے بھی اسی طرف اشارہ کیا ہے۔
وأخرجه ابن ماجه (2945) عن علي بن محمد الطنافسي، عن خاله يعلى بن عبيد الطنافسي، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ (2945) نے علی بن محمد الطنافسی عن یعلیٰ بن عبید کی سند سے روایت کیا ہے۔
والعَبَرات: الدموع.
اہم نکتہ: "العَبَرات" سے مراد آنسو ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1688 سے ماخوذ ہے۔