کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: احرام والی عورت کے لیے چہرہ ڈھانپنے کا بیان۔
حدثنا علي بن حَمْشاذ العدل، حدثنا محمد بن شاذان الجَوهَري، حدثنا زكريا بن عَدِيّ، حدثنا علي بن مُسهِر، عن هشام بن عُروة، عن فاطمةَ بنت المُنذِر، عن أسماء بنت أبي بكرٍ قالت: كنا نُغطِّي وُجوهَنا من الرِّجال، وكنا نَتمشِطُ قبلَ ذلك في الإحرام (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں کہ ہم مردوں سے اپنے چہرے چھپایا کرتی تھیں، اور اس سے قبل حالتِ احرام میں ہم بالوں میں کنگھی بھی کیا کرتی تھیں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / أول كتاب المناسك / حدیث: 1686
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، على خلاف في إسناده لا يضر، كما سيأتي هشام بن عروة: هو ابن الزبير بن العوام، وفاطمة بنت المنذر هي زوجته، وهي بنت المنذر بن الزبير بن العوام، وأسماء بنت أبي بكر جدتهما.» [ترقيم الرساله 1686] [ترقيم الشركة 1674]
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا أبو سعيد الحسن بن عبد الصَّمد، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا محمد بن إسماعيل بن أبي فُدَيك، عن هشام بن سعد، عن زيد بن أسلمَ، عن أبيه قال: سمعتُ عمر بنَ الخطاب يقول: فيمَ الرَّمَلانُ الآن والكشفُ عن المَناكِب؟! وقد أطَّأَ (1) اللهُ الإسلامَ ونَفَى الكفرَ وأهلَه، ومع ذلك لا نتركُ شيئًا كُنّا نَصنعُه مع رسول الله ﷺ (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا اسلم سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”اب (طواف میں) رمل کرنے اور کندھے ننگے رکھنے کی کیا ضرورت ہے؟ جبکہ اللہ نے اسلام کو مستحکم کر دیا اور کفر و اہل کفر کو دور کر دیا ہے، لیکن اس کے باوجود ہم اس عمل کو نہیں چھوڑیں گے جو ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کیا کرتے تھے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / أول كتاب المناسك / حدیث: 1687
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل هشام بن سعد» [ترقيم الرساله 1687] [ترقيم الشركة 1675]