حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن علي الوَرَّاق - ولقبه حَمْدان - حدثنا داودُ بن شَبِيب، حدثنا يحيى بن عبَّاد - وكان من خيار الناس - حدثنا ابن جُرَيج، عن عطاء، عن ابن عباس: أنَّ رسول الله ﷺ أَمَر صارخًا ببطن مكةَ ينادي: "إنَّ صدقةَ الفِطْر حقٌّ واجبٌ على كلِّ مسلمٍ صغيرٍ أو كبيرٍ، ذكرٍ أو أنثى، حُرٍّ أو مملوك، حاضرٍ أو بادٍ، صاعٌ من شعيرٍ أو تمرٍ" (1).
هذا حديثٌ صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه الألفاظ (1).
هذا حديثٌ صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه الألفاظ (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مکہ کے درمیان ایک منادی کو یہ اعلان کرنے کا حکم دیا: ”بے شک صدقہ فطر ہر مسلمان پر واجب حق ہے، چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا، مرد ہو یا عورت، آزاد ہو یا غلام، شہر کا رہنے والا ہو یا دیہات کا، اور یہ ایک صاع جو یا ایک صاع کھجور کی صورت میں ہے۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن انہوں نے ان الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن انہوں نے ان الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔
حدثني محمد بن يعقوب بن إسحاق القاضي، حدثني أبي، حدثنا أبو يوسف يعقوب بن إسحاق القُلُوسي، حدثنا بكر بن الأسود، حدثنا عبَّاد بن العوَّام، عن سفيان بن الحسين، عن الزُّهْري، عن سعيد بن المسيّب، عن أبي هريرة: أنَّ النبيَّ ﷺ حَضَّ على صَدَقةِ رمضان، على كلِّ إنسانٍ صاعًا من تمرٍ، أو صاعًا من شَعيرٍ، أو صاعًا من قمح (1).
هذا حديث صحيح. وله شاهدٌ صحيح:
هذا حديث صحيح. وله شاهدٌ صحيح:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے رمضان کے صدقہ (فطر) کی ترغیب دی کہ ہر انسان کی طرف سے ایک صاع کھجور، یا ایک صاع جو، یا ایک صاع گندم ادا کی جائے۔
یہ حدیث صحیح ہے اور اس کی ایک صحیح تائیدی روایت (شاہد) بھی موجود ہے۔
یہ حدیث صحیح ہے اور اس کی ایک صحیح تائیدی روایت (شاہد) بھی موجود ہے۔
حدثنا أبو محمد أحمد بن عبد الله المُزَني، حدثنا محمد بن عبد الله بن سليمان بنُ الحَضرَمي، حدثنا زكريا بن يحيى بن صَبِيح. وأخبرنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا أحمد بن الخَزّاز (1)، حدثنا إسماعيل بن إبراهيم التَّرْجُماني (2)؛ قالا: حدثنا سعيد بن عبد الرحمن الجُمَحي، حدثنا عُبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر: أنَّ رسولَ الله ﷺ فَرَضَ زكاةَ الفِطر صاعًا من تمرٍ، أو صاعًا من بُرٍّ، على كلِّ حرٍّ أو عبدٍ، ذكرٍ أو أنثى، من المسلمين (3).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں میں سے ہر آزاد، غلام، مرد اور عورت پر صدقہ فطر ایک صاع کھجور یا ایک صاع گندم فرض قرار دیا ہے۔
حدثنا أحمد بن إسحاق بن إبراهيم الصَّيدلانيُّ العدلُ إملاءً، حدثنا الحسين بن الفضل البَجَلي، حدثنا أبو عبد الله أحمد بن حنبل، حدثنا إسماعيل ابن عُلَيّة، عن محمد بن إسحاق، عن عبد الله بن عبد الله بن عَدِيّ (1) بن حَكِيم بن حِزَام، عن عِياض بن عبد الله بن سعد بن أبي سَرْح قال: قال أبو سعيد - وذُكِر عنده صدقةُ الفطر فقال -: لا أُخرجُ إلَّا ما كنت أُخرجُه على عهد رسول الله ﷺ: صاعًا من تمرٍ، أو صاعًا من حِنطةٍ، أو صاعًا من شعيرٍ، أو صاعًا من أَقِطٍ. فقال له رجلٌ من القوم: أو مُدَّين من قمح؟ فقال: لا، تلك قيمةُ معاوية، لا أَقبلُها ولا أعملُ بها (2). هذه الأسانيدُ التي قدَّمتُ ذِكرَها في ذكر صاع البُرِّ كلُّها صحيحة (1)، وأشهرها حديث أبي مَعْشَر عن نافع عن ابن عمر الذي عَلَونا فيه (2)، لكني تركتُه إذ ليس من شرط الكتاب. وقد روي عن علي بن أبي طالب:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس جب صدقہ فطر کا تذکرہ ہوا تو انہوں نے فرمایا: ”میں (صدقہ فطر میں) وہی چیز نکالوں گا جو میں رسول اللہ ﷺ کے عہدِ مبارک میں نکالا کرتا تھا، یعنی ایک صاع کھجور، یا ایک صاع گندم، یا ایک صاع جو، یا ایک صاع پنیر۔“ تو مجمع میں سے ایک شخص نے ان سے کہا: ”یا (گندم کے) دو مد (نکال لیے جائیں)؟“ تو انہوں نے جواب دیا: ”نہیں، وہ تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی مقرر کردہ قیمت ہے، میں اسے قبول کروں گا اور نہ ہی اس پر عمل کروں گا۔“
صاعِ گندم کے ذکر میں جو اسانید میں نے پہلے پیش کی ہیں وہ سب صحیح ہیں، اور ان میں سب سے زیادہ مشہور حدیث ابومعشر کی ہے جو انہوں نے نافع سے اور انہوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے، جس کی سند ہمیں بلند درجہ کی حاصل ہوئی، لیکن میں نے اسے یہاں اس لیے نقل نہیں کیا کیونکہ وہ اس کتاب (مستدرک) کی شرط پر نہیں تھی۔
صاعِ گندم کے ذکر میں جو اسانید میں نے پہلے پیش کی ہیں وہ سب صحیح ہیں، اور ان میں سب سے زیادہ مشہور حدیث ابومعشر کی ہے جو انہوں نے نافع سے اور انہوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے، جس کی سند ہمیں بلند درجہ کی حاصل ہوئی، لیکن میں نے اسے یہاں اس لیے نقل نہیں کیا کیونکہ وہ اس کتاب (مستدرک) کی شرط پر نہیں تھی۔
حدَّثَناه أبو الفضل محمد بن إبراهيم المُزكِّي، حدثنا أحمد بن سَلَمة، حدثنا الحسن بن الصَّبّاح، حدثنا أبو بكر بن عيَّاش، عن أبي إسحاق الهَمْداني، عن الحارث، عن عليِّ بن أبي طالب، عن النبي ﷺ: أنه قال في صدقة الفِطر: "عن كلِّ صغيرٍ وكبيرٍ، حُرٍّ أو عبدٍ، صاعٌ من بُرٍّ، أو صاعٌ من تمر" (1). هكذا أسنَدَه عن علي، ووَقَفه غيره:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے صدقہ فطر کے متعلق فرمایا: ”ہر چھوٹے، بڑے، آزاد اور غلام کی طرف سے ایک صاع گندم یا ایک صاع کھجور (دی جائے)۔“
اسی طرح اس روایت کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً (نبی ﷺ کے فرمان کے طور پر) بیان کیا گیا ہے، جبکہ دیگر رواۃ نے اسے موقوفاً (سیدنا علی کا اپنا قول) روایت کیا ہے۔
اسی طرح اس روایت کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً (نبی ﷺ کے فرمان کے طور پر) بیان کیا گیا ہے، جبکہ دیگر رواۃ نے اسے موقوفاً (سیدنا علی کا اپنا قول) روایت کیا ہے۔
أخبرني أبو الحسن محمد بن عبد الله العُمَري، حدثنا محمد بن إسحاق، أخبرنا محمد بن عُزَيز الأَيْلي، حدثنا سلامة بن رَوْح، عن عُقَيل بن خالد، عن أبي إسحاق الهَمْداني، عن الحارث: أنه سَمِع علي بن أبي طالب يأمرُ بزكاة الفِطر فيقول: صاعٌ من تمرٍ، أو صاعٌ من شعيرٍ، أو صاعٌ من حِنْطةٍ أو سُلْتٍ أو زَبِيب (1). وقد روي أيضًا بإسناد يُخرَّج مثلُه في الشواهد عن زيد بن ثابت عن النبي ﷺ:
حافظ طلحہ بابر
حارث سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو صدقہ فطر کا حکم دیتے ہوئے سنا، وہ فرما رہے تھے: ”ایک صاع کھجور، یا ایک صاع جو، یا ایک صاع گندم، یا (بغیر چھلکے والے) جو، یا ایک صاع منقہ (صدقہ فطر میں نکالو)۔“
حدَّثَناه أبو الوليد الفقيه، حدثنا محمد بن نُعَيم، حدثنا عبَّاد بن الوليد الغُبَري، حدثنا عبّاد بن زكريا، حدثنا سليمان بن أرقَم، عن الزُّهري، عن قَبِيصةَ بن ذُؤيب، عن زيد بن ثابت قال: خَطَبَنا رسولُ الله ﷺ فقال: "مَن كان عندَه طعامٌ فليتصدَّقْ بصاعٍ من بُرٍّ، أو صاعٍ من شعيرٍ، أو صاعٍ من تمرٍ، أو صاعٍ من دقيقٍ، أو صاعٍ من زَبيب، أو صاعٍ من سُلْت" (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: ”جس کے پاس غلہ موجود ہو وہ ایک صاع گندم، یا ایک صاع جو، یا ایک صاع کھجور، یا ایک صاع آٹا، یا ایک صاع منقہ، یا ایک صاع (بغیر چھلکے والے) جو صدقہ کرے۔“
أخبرني أبو نصر محمد بن محمد بن حامد التِّرمذي، حدثنا محمد بن حِبَال الصَّغاني (2)، حدثنا يحيى بن بُكَير، حدثنا الليث، عن عُقَيل، عن هشام بن عُرْوة بن الزُّبير، عن أبيه، عن أمه أسماء بنت أبي بكر، أنها حدَّثته: أنهم كانوا يُخرِجون زكاة الفطر في عهد رسول الله ﷺ بالمُدِّ الذي يَقتاتُ به أهلُ البيت، أو الصاعِ الذي يَقتاتُون به، يَفعلُ ذلك أهلُ المدينة كلُّهم (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، وهي الحُجَّة لمناظرة مالك وأبي يوسف.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، وهي الحُجَّة لمناظرة مالك وأبي يوسف.
حافظ طلحہ بابر
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں کہ وہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں صدقہ فطر اس مد (پیمانے) سے نکالا کرتے تھے جس سے گھر والے اپنی خوراک ناپتے تھے، یا اس صاع سے جس سے وہ غلہ ناپا کرتے تھے، اور تمام اہل مدینہ ایسا ہی کیا کرتے تھے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور یہی روایت امام مالک اور امام ابو یوسف کے مابین (صاع کی مقدار پر) مناظرے کی اصل دلیل ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور یہی روایت امام مالک اور امام ابو یوسف کے مابین (صاع کی مقدار پر) مناظرے کی اصل دلیل ہے۔