المستدرك على الصحيحين
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
إِنَّ صَدَقَةَ الْفِطْرِ حَقٌّ وَاجِبٌ باب: صدقۂ فطر ایک لازم اور واجب حق ہے۔
حدیث نمبر: 1513
حدَّثَناه أبو الفضل محمد بن إبراهيم المُزكِّي، حدثنا أحمد بن سَلَمة، حدثنا الحسن بن الصَّبّاح، حدثنا أبو بكر بن عيَّاش، عن أبي إسحاق الهَمْداني، عن الحارث، عن عليِّ بن أبي طالب، عن النبي ﷺ: أنه قال في صدقة الفِطر: "عن كلِّ صغيرٍ وكبيرٍ، حُرٍّ أو عبدٍ، صاعٌ من بُرٍّ، أو صاعٌ من تمر" (1). هكذا أسنَدَه عن علي، ووَقَفه غيره:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے صدقہ فطر کے متعلق فرمایا: ”ہر چھوٹے، بڑے، آزاد اور غلام کی طرف سے ایک صاع گندم یا ایک صاع کھجور (دی جائے)۔“
اسی طرح اس روایت کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً (نبی ﷺ کے فرمان کے طور پر) بیان کیا گیا ہے، جبکہ دیگر رواۃ نے اسے موقوفاً (سیدنا علی کا اپنا قول) روایت کیا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) صحيح موقوفًا دون قوله: "صاع من بُرٍّ"، وهذا إسناد ضعيف لضعف الحارث، وهو ابن عبد الله الأعور الهمداني، وقد اختلف في رفعه ووقفه، وصحَّح الدارقطني والبيهقي وقفه، وروي من غير وجه عن عليٍّ موقوفًا وفيه: نصف صاع من بر، كما سيأتي في التخريج. أبو إسحاق الهمداني: هو عمرو بن عبد الله السبيعي، وأبو بكر بن عياش ثقة إلّا أنه لما كبر ساء حفظه، كما قال الحافظ ابن حجر، وقال أبو حاتم: هو وشريك في الحفظ سواء.
درجۂ حدیث: "گندم کا ایک صاع" کے الفاظ کے بغیر یہ روایت موقوفاً صحیح ہے۔
علّت / فنی نکتہ: اس کی سند حارث الاعور الہمدانی کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے۔ اس کے مرفوع یا موقوف ہونے میں اختلاف ہے، اور دارقطنی و بیہقی نے اس کے "موقوف" ہونے کو صحیح قرار دیا ہے۔ حضرت علی ؓ سے مختلف طرق سے موقوفاً نصف صاع گندم ہی ثابت ہے۔
راوی پر جرح: ابوبکر بن عیاش ثقہ ہیں مگر بڑھاپے میں ان کا حافظہ خراب ہو گیا تھا۔
وأخرجه الدارقطني (2113) عن محمد بن عبد الله بن غيلان، عن الحسن بن الصباح، بهذا الإسناد. وذكره مرفوعًا، لكن وقع فيه: "نصف صاع من بر". وقال بإثره: كذا حدثناه مرفوعًا. يعني محمد بن عبد الله بن غيلان، وقال في "العلل" (343): وَهِمَ في رفعه. وتعقبه الحافظ ابن حجر في "إتحاف المهرة" 11/ 314 بقوله: فالظاهر أنَّ الوهم فيه من أبي بكر بن عياش.
سندی اختلاف: دارقطنی (2113) نے اسے مرفوعاً ذکر کیا مگر اس میں "نصف صاع گندم" کے الفاظ واقع ہوئے۔ دارقطنی نے "العلل" (343) میں کہا کہ اس کے مرفوع ہونے میں وہم ہوا ہے۔ حافظ ابن حجر کے مطابق یہ وہم ابوبکر بن عیاش کی طرف سے ہے۔
ثم أخرجه الدارقطني بإثره برقم (2114) عن عبد الله بن أحمد المارستاني، عن الحسن بن الصباح
البزار، به. موقوفًا، وقال بإثره: وهو الصواب.
درجۂ حدیث: دارقطنی نے اسے اگلے نمبر (2114) پر موقوفاً روایت کیا اور کہا کہ یہی درست (الصواب) ہے۔
وأخرج الدارقطني (2068) من طريق علي بن عمر بن علي بن الحسين، عن أبيه، عن علي بن الحسين، عن أبيه، عن علي مرفوعًا: "هي على كل مسلم صغير أو كبير، حر أو عبد، صاعًا من تمر أو شعير أو أقط". قال ابن دقيق العيد في "الإمام" كما في "نصب الراية" للزيلعي 2/ 411: وفي إسناده بعض من يحتاج إلى معرفة حاله.
حوالہ / مصدر: دارقطنی (2068) نے علی بن الحسین عن ابیہ عن علی کی سند سے مرفوعاً روایت کیا جس میں کھجور، جو یا اقط کا ایک صاع مذکور ہے۔
راوی پر جرح: ابن دقیق العید کہتے ہیں کہ اس کی سند میں کچھ ایسے لوگ ہیں جن کے حال کی معرفت ضروری ہے۔
وأخرج البيهقي 4/ 161 من طريق حاتم بن إسماعيل، عن جعفر بن محمد بن علي بن الحسين، عن أبيه أبي جعفر الباقر، عن علي بن أبي طالب: فرض رسول الله ﷺ على كل صغير أو كبير .. فذكره مرفوعًا، ولم يذكر فيه البُرّ. إلّا أنه منقطع كما قال البيهقي.
حوالہ / مصدر: بیہقی (4/ 161) نے جعفر الصادق عن الباقر عن علی ؓ کی سند سے مرفوعاً روایت کیا جس میں گندم کا ذکر نہیں ہے۔
علّت / فنی نکتہ: بیہقی کے مطابق یہ روایت منقطع ہے۔
وسيأتي بعده من وجه آخر عن أبي إسحاق موقوفًا.
توضیح: اس کے بعد ابو اسحاق سے دوسرے طریق سے موقوف روایت آئے گی۔
درجۂ حدیث: "گندم کا ایک صاع" کے الفاظ کے بغیر یہ روایت موقوفاً صحیح ہے۔
علّت / فنی نکتہ: اس کی سند حارث الاعور الہمدانی کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے۔ اس کے مرفوع یا موقوف ہونے میں اختلاف ہے، اور دارقطنی و بیہقی نے اس کے "موقوف" ہونے کو صحیح قرار دیا ہے۔ حضرت علی ؓ سے مختلف طرق سے موقوفاً نصف صاع گندم ہی ثابت ہے۔
راوی پر جرح: ابوبکر بن عیاش ثقہ ہیں مگر بڑھاپے میں ان کا حافظہ خراب ہو گیا تھا۔
وأخرجه الدارقطني (2113) عن محمد بن عبد الله بن غيلان، عن الحسن بن الصباح، بهذا الإسناد. وذكره مرفوعًا، لكن وقع فيه: "نصف صاع من بر". وقال بإثره: كذا حدثناه مرفوعًا. يعني محمد بن عبد الله بن غيلان، وقال في "العلل" (343): وَهِمَ في رفعه. وتعقبه الحافظ ابن حجر في "إتحاف المهرة" 11/ 314 بقوله: فالظاهر أنَّ الوهم فيه من أبي بكر بن عياش.
سندی اختلاف: دارقطنی (2113) نے اسے مرفوعاً ذکر کیا مگر اس میں "نصف صاع گندم" کے الفاظ واقع ہوئے۔ دارقطنی نے "العلل" (343) میں کہا کہ اس کے مرفوع ہونے میں وہم ہوا ہے۔ حافظ ابن حجر کے مطابق یہ وہم ابوبکر بن عیاش کی طرف سے ہے۔
ثم أخرجه الدارقطني بإثره برقم (2114) عن عبد الله بن أحمد المارستاني، عن الحسن بن الصباح
البزار، به. موقوفًا، وقال بإثره: وهو الصواب.
درجۂ حدیث: دارقطنی نے اسے اگلے نمبر (2114) پر موقوفاً روایت کیا اور کہا کہ یہی درست (الصواب) ہے۔
وأخرج الدارقطني (2068) من طريق علي بن عمر بن علي بن الحسين، عن أبيه، عن علي بن الحسين، عن أبيه، عن علي مرفوعًا: "هي على كل مسلم صغير أو كبير، حر أو عبد، صاعًا من تمر أو شعير أو أقط". قال ابن دقيق العيد في "الإمام" كما في "نصب الراية" للزيلعي 2/ 411: وفي إسناده بعض من يحتاج إلى معرفة حاله.
حوالہ / مصدر: دارقطنی (2068) نے علی بن الحسین عن ابیہ عن علی کی سند سے مرفوعاً روایت کیا جس میں کھجور، جو یا اقط کا ایک صاع مذکور ہے۔
راوی پر جرح: ابن دقیق العید کہتے ہیں کہ اس کی سند میں کچھ ایسے لوگ ہیں جن کے حال کی معرفت ضروری ہے۔
وأخرج البيهقي 4/ 161 من طريق حاتم بن إسماعيل، عن جعفر بن محمد بن علي بن الحسين، عن أبيه أبي جعفر الباقر، عن علي بن أبي طالب: فرض رسول الله ﷺ على كل صغير أو كبير .. فذكره مرفوعًا، ولم يذكر فيه البُرّ. إلّا أنه منقطع كما قال البيهقي.
حوالہ / مصدر: بیہقی (4/ 161) نے جعفر الصادق عن الباقر عن علی ؓ کی سند سے مرفوعاً روایت کیا جس میں گندم کا ذکر نہیں ہے۔
علّت / فنی نکتہ: بیہقی کے مطابق یہ روایت منقطع ہے۔
وسيأتي بعده من وجه آخر عن أبي إسحاق موقوفًا.
توضیح: اس کے بعد ابو اسحاق سے دوسرے طریق سے موقوف روایت آئے گی۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1513 سے ماخوذ ہے۔