أخبرني أبو الحسن أحمد بن محمد بن إسماعيل بن مِهْران الإسماعيلي، حدثنا أبي، حدثنا محمود بن خالد الدِّمشقي، حدثنا مروان بن محمد الدِّمشقي، حدثنا يزيد بن مسلم الخَوْلاني (1) - وكان شيخَ صدقٍ، وكان عبد الله بن وَهْبٍ يحدِّث عنه - حدثنا سَيَّار بن عبد الرحمن الصَّدَفي، عن عِكرِمة، عن ابن عباس قال: فَرَضَ رسول الله ﷺ زكاةَ الفِطر طُهرةً للصِّيام (2) من اللَّغو والرَّفَث، وطُعْمةً للمساكين، مَن أدّاها قبلَ الصلاة، فهي زكاةٌ مقبولة، ومن أدّاها بعد الصلاة، فهي صدقةٌ من الصَّدقات (3).
هذا حديثٌ صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1488 - على شرط البخاري
هذا حديثٌ صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1488 - على شرط البخاري
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صدقہ فطر کو روزے دار کے لیے لغو اور فحش باتوں سے پاکیزگی کا ذریعہ، اور مسکینوں کے لیے کھانے کا انتظام قرار دے کر فرض کیا ہے، چنانچہ جس نے اسے (عید کی) نماز سے پہلے ادا کر دیا، وہ تو مقبول زکوٰۃ ہے، اور جس نے اسے نماز کے بعد ادا کیا، وہ عام صدقات میں سے ایک صدقہ شمار ہو گا۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا بكر بن محمد بن حَمْدان الصَّيْرفي، حدثنا عبد الصمد بن الفضل البَلْخي، حدثنا مَكِّي بن إبراهيم، حدثنا عبد العزيز بن أبي رَوَّاد، عن نافع، عن ابن عمر قال: كان الناسُ يُخرِجون صدقةَ الفِطْر على عهد رسول الله ﷺ صاعًا من شَعير، أو صاعًا من تمر، أو سُلْتٍ، أو زَبيب (1).
هذا حديث (2) صحيحٌ، عبد العزيز بن أبي رَوَّاد ثقةٌ عابد، واسم أبي رَوّاد: أيمن، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ.
هذا حديث (2) صحيحٌ، عبد العزيز بن أبي رَوَّاد ثقةٌ عابد، واسم أبي رَوّاد: أيمن، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں صدقہ فطر ایک صاع جو، یا ایک صاع کھجور، یا ایک صاع بغیر چھلکے والے جو (سلت)، یا ایک صاع منقہ (خشک انگور) نکالا کرتے تھے۔
یہ حدیث صحیح ہے، عبدالعزیز بن ابی رواد ثقہ اور عبادت گزار ہیں، اور ان کے والد کا نام ایمن ہے، لیکن شیخین نے ان الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح ہے، عبدالعزیز بن ابی رواد ثقہ اور عبادت گزار ہیں، اور ان کے والد کا نام ایمن ہے، لیکن شیخین نے ان الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا علي بن عيسى الحِيْريّ، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب وعبد الله بن محمد، قالا: حدثنا محمد بن عبد الأعلى، حدثنا المُعتمِر بن سليمان، عن أبيه، عن نافع، عن ابن عمر، قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول حين فَرَضَ صدقة الفِطر: "صاعًا من تمرٍ، أو صاعًا من شَعِير"، وكان لا يُخرج إلَّا التَّمر (1).
هذا حديث صحيحٌ على شرط الشيخين ولم يُخرجا فيه: إلَّا التّمر.
هذا حديث صحيحٌ على شرط الشيخين ولم يُخرجا فيه: إلَّا التّمر.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس وقت سنا جب آپ ﷺ نے صدقہ فطر کو ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو کی صورت میں فرض قرار دیا، اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما (اپنے عمل میں) صرف کھجور ہی نکالا کرتے تھے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اس میں ”صرف کھجور نکالنے“ کا ذکر روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اس میں ”صرف کھجور نکالنے“ کا ذکر روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثَّقَفي، حدثنا محمد بن عبد الله الحَضْرمي، حدثنا جعفر بن محمد الثَّعْلبي، حدثنا وكيع، حدثنا سفيان، عن سَلَمةَ بن كُهَيل، عن القاسم بن مُخَيمِرة، عن أبي عمَّار الهَمْداني، عن قيس بن سعدٍ قال: أَمَرَنا رسول الله ﷺ بصَدَقةِ الفطر قبل أن تنزلَ الزكاة، فلمّا نزلت الزكاةُ لم يأمرنا ولم يَنْهَنا، ونحن نفعلُه (2).
هذا حديث صحيحٌ على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيحٌ على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
قیس بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں (اموال کی) زکوٰۃ نازل ہونے سے پہلے صدقہ فطر ادا کرنے کا حکم دیا تھا، پھر جب زکوٰۃ (کا حکم) نازل ہو گیا تو (اس کے بعد) آپ ﷺ نے ہمیں نہ تو اس کا (دوبارہ) حکم دیا اور نہ ہی اس سے منع فرمایا، لیکن ہم اسے (بطور معمول) ادا کرتے رہتے تھے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا جعفر بن محمد بن نُصَير الخُلْدي، حدثنا أحمد بن محمد بن الحجاج بن رِشْدين الفِهْري (1) بمصر، حدثنا يحيى بن بُكَير، حدثنا الليث، عن كَثِير بن فَرْقَد، عن نافع، عن ابن عمر، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "زكاةُ الفِطْر فرضٌ على كلِّ مسلم حرٍّ وعبدٍ، ذكرٍ وأنثى من المسلمين، صاعٌ من تمرٍ أو صاعٌ من شعيرٍ" (2).
هذا حديث صحيحٌ على شرط الشيخين ولم يُخرجاه، وإنما جعلتُه بإزاء حديث أبي عمّار، فإنه على الاستحباب، وهذا على الوجوب.
هذا حديث صحيحٌ على شرط الشيخين ولم يُخرجاه، وإنما جعلتُه بإزاء حديث أبي عمّار، فإنه على الاستحباب، وهذا على الوجوب.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”صدقہ فطر ہر مسلمان پر، خواہ وہ آزاد ہو یا غلام، مرد ہو یا عورت، فرض ہے، اور وہ ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ میں نے اسے قیس بن سعد والی حدیث کے مقابلے میں اس لیے ذکر کیا ہے کہ وہ (پہلی حدیث) بظاہر استحباب پر دلالت کرتی ہے جبکہ یہ حدیث وجوب (فرضیت) کو واضح کرتی ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ میں نے اسے قیس بن سعد والی حدیث کے مقابلے میں اس لیے ذکر کیا ہے کہ وہ (پہلی حدیث) بظاہر استحباب پر دلالت کرتی ہے جبکہ یہ حدیث وجوب (فرضیت) کو واضح کرتی ہے۔