حدیث نمبر: 1514
أخبرني أبو الحسن محمد بن عبد الله العُمَري، حدثنا محمد بن إسحاق، أخبرنا محمد بن عُزَيز الأَيْلي، حدثنا سلامة بن رَوْح، عن عُقَيل بن خالد، عن أبي إسحاق الهَمْداني، عن الحارث: أنه سَمِع علي بن أبي طالب يأمرُ بزكاة الفِطر فيقول: صاعٌ من تمرٍ، أو صاعٌ من شعيرٍ، أو صاعٌ من حِنْطةٍ أو سُلْتٍ أو زَبِيب (1). وقد روي أيضًا بإسناد يُخرَّج مثلُه في الشواهد عن زيد بن ثابت عن النبي ﷺ:
حافظ طلحہ بابر

حارث سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو صدقہ فطر کا حکم دیتے ہوئے سنا، وہ فرما رہے تھے: ”ایک صاع کھجور، یا ایک صاع جو، یا ایک صاع گندم، یا (بغیر چھلکے والے) جو، یا ایک صاع منقہ (صدقہ فطر میں نکالو)۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الزكاة / حدیث: 1514
درجۂ حدیث محدثین: صحيح موقوفًا دون قوله: "أو صاع من حنطة"
تخریج حدیث «صحيح موقوفًا دون قوله: "أو صاع من حنطة"، كسابقه، الحارث - وهو الأعور - ضعيف، وقد خالفه غيره عن عليٍّ فقالوا: نصف صاع من بر، ثم إنَّ هذا إسناد منقطع، عقيل بن خالد لم يسمع من أبي إسحاق، بينهما في هذا الحديث عتبة بن عبد الله بن عتبة بن مسعود، كما في رواية غير المصنف.» [ترقيم الرساله 1514] [ترقيم الشركة 1502]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) صحيح موقوفًا دون قوله: "أو صاع من حنطة"، كسابقه، الحارث - وهو الأعور - ضعيف، وقد خالفه غيره عن عليٍّ فقالوا: نصف صاع من بر، ثم إنَّ هذا إسناد منقطع، عقيل بن خالد لم يسمع من أبي إسحاق، بينهما في هذا الحديث عتبة بن عبد الله بن عتبة بن مسعود، كما في رواية غير المصنف.
درجۂ حدیث: گزشتہ روایت کی طرح "گندم کے صاع" کے ذکر کے بغیر موقوفاً صحیح ہے۔ حارث الاعور ضعیف ہے اور دیگر راویوں نے حضرت علی ؓ سے "نصف صاع" روایت کیا ہے۔
علّت / فنی نکتہ: یہ سند منقطع ہے کیونکہ عقیل بن خالد نے ابو اسحاق سے نہیں سنا، ان کے درمیان عتبہ بن عبد اللہ کا واسطہ ہے۔
وأخرجه البيهقي 4/ 166 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد. وقال بإثره: لم يذكر أبو عبد الله في إسناده عتبةَ بن عبد الله، وروي ذلك مرفوعًا، والموقوف أصح.
حوالہ / مصدر: بیہقی (4/ 166) نے حاکم کے طریق سے اسے روایت کیا اور کہا کہ حاکم نے عتبہ کا ذکر نہیں کیا، نیز اس کا موقوف ہونا ہی زیادہ صحیح ہے۔
وأخرجه الدارقطني (2112) - ومن طريقه البيهقي 4/ 166 - عن أبي بكر النيسابوري، عن محمد بن عزيز، به. وزاد في الإسناد عتبة بن عبد الله بن عتبة بن مسعود بين عقيل وبين أبي إسحاق.
حوالہ / مصدر: دارقطنی (2112) نے عقیل اور ابو اسحاق کے درمیان عتبہ بن عبد اللہ کے واسطے کا اضافہ کیا ہے۔
وأخرج عبد الرزاق (5773) - ومن طريقه الدارقطني (2127)، والبيهقي 4/ 161 -، وأخرجه ابن أبي شيبة 3/ 172 عن وكيع، وابن زنجويه في "الأموال" (2375) عن محمد بن سنان، ثلاثتهم (عبد الرزاق ووكيع وابن سنان) عن سفيان الثوري، عن عبد الأعلى بن عامر، عن أبي عبد الرحمن السلمي عن عليٍّ قال: على من جرت عليه نفقتك نصف صاع من بر أو صاع من

تمر. زاد محمد بن سنان: وإن كان نصرانيًا. وعبد الأعلى بن عامر صدوق يهم، وقال بعضهم: لين الحديث. قال البيهقي: وهذا موقوف، وعبد الأعلى غير قوي، إلّا أنه إذا انضم إلى ما قبله قويا فيما اجتمعا فيه.

حوالہ / مصدر: عبد الرزاق (5773)، ابن ابی شیبہ (3/ 172) اور ابن زنجویہ نے سفیان ثوری عن عبد الأعلى عن ابی عبد الرحمن کی سند سے حضرت علی ؓ سے روایت کیا: "جس کا نفقہ تمہارے ذمے ہے اس کی طرف سے نصف صاع گندم یا ایک صاع کھجور دو"۔
راوی پر جرح: عبد الأعلى بن عامر صدوق ہیں مگر انہیں وہم ہو جاتا ہے۔ بیہقی کہتے ہیں کہ یہ موقوف ہے اور دیگر روایات کے ساتھ مل کر قوی ہو جاتی ہے۔
وأخرج عبد الرزاق (16077) عن وكيع، عن محمد بن عبد الرحمن بن أبي ليلى، عن عمرو بن مرة، عن عبد الله بن سلمة، عن علي - موقوفًا أيضًا - قال: صاع من شعير، أو نصف صاع من قمح. وعبد الله بن سلمة هذا حسن الحديث في المتابعات والشواهد، وابن أبي ليلى صدوق سيئ الحفظ.
حوالہ / مصدر: عبد الرزاق (16077) نے ابن ابی لیلیٰ عن عمرو بن مرہ عن عبد اللہ بن سلمہ کی سند سے حضرت علی ؓ سے موقوفاً روایت کیا: "ایک صاع جو یا نصف صاع گندم"۔
راوی پر جرح: عبد اللہ بن سلمہ متابعات میں حسن الحدیث ہیں جبکہ ابن ابی لیلیٰ صدوق ہیں مگر حافظہ خراب تھا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1514 سے ماخوذ ہے۔