کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: جو شخص لوگوں سے سوال ترک کر دے اس کے لیے جنت کی ضمانت ہے۔
أخبرني أبو عمرو محمد بن جعفر بن محمد العَدْل، حدثنا يحيى بن محمد بن البَختَري، حدثنا عبيد الله بن معاذ، حدثنا أبي، حدثنا شعبة، عن عاصم، عن أبي العاليَة، عن ثَوْبان مولى رسول الله ﷺ قال: قال رسولُ الله ﷺ: "مَن تَكفَّلَ لي أن لا يَسألَ الناسَ شيئًا فأتكفَّلَ له بالجنة؟ " فقال ثوبان: أنا، فكان لا يَسألُ الناس شيئًا (1).
هذا حديث صحيح على شرط [مسلم] (2) ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کون ہے جو مجھے اس بات کی ضمانت دے کہ وہ لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہیں کرے گا تو میں اس کے لیے جنت کی ضمانت دیتا ہوں؟“ سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”میں (یہ ضمانت دیتا ہوں)“، چنانچہ اس کے بعد وہ کسی سے کوئی سوال نہیں کرتے تھے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الزكاة / حدیث: 1517
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،معاذ: هو ابن معاذ العنبري، وعاصم: هو ابن سليمان الأحول، وأبو العالية: هو رُفيع بن مهران الرياحي.» [ترقيم الرساله 1517] [ترقيم الشركة 1505]
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا سَهْل بن مِهْران البغدادي، حدثنا عبد الله بن بَكْر السَّهْمي، حدثنا مبارك بن فَضَالة، عن ثابت البُناني، عن عبد الرحمن بن أبي ليلى، عن عبد الرحمن بن أبي بكر، قال: قال رسولُ الله ﷺ: "هل منكم أحدٌ أطعمَ اليومَ مسكينًا؟ " فقال أبو بكر: دخلتُ المسجد، فإذا أنا بسائلٍ يَسألُ، فوجدتُ كِسرةَ الخُبز في يَدِ عبد الرحمن، فأخذتُها فدفعتُها إليه (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”کیا آج تم میں سے کسی نے کسی مسکین کو کھانا کھلایا ہے؟“ تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”میں مسجد میں داخل ہوا تو وہاں ایک سائل کو سوال کرتے ہوئے پایا، مجھے عبدالرحمن کے ہاتھ میں روٹی کا ٹکڑا نظر آیا تو میں نے وہ لے کر اس سائل کو دے دیا۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الزكاة / حدیث: 1518
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل مبارك بن فضالة.» [ترقيم الرساله 1518] [ترقيم الشركة 1506]