حدثني علي بن عيسى، حدثنا مُسدَّد بن قَطَن، حدثنا عثمان بن أبي شيبة، حدثنا أبو معاوية، حدثنا الأعمش، عن الحَكَم، عن عبد الرحمن بن أبي ليلى، عن عليٍّ قال: قال رسول الله ﷺ: "ما مِن رجلٍ يعودُ مريضًا مُمسِيًا إلّا خرج معه سَبعونَ ألفَ مَلَكٍ يستغفرون له حتى يُصبحَ، وكان له خريفٌ في الجنة، ومن أتاه مصبحًا خرج معه سبعونَ ألفَ مَلَكٍ يستغفرون له حتى يُمسِي، وكان له خريفٌ في الجنة" (1). هذا إسنادٌ صحيحٌ على شرط الشيخين ولم يُخرجاه، لأنَّ جماعةً من الرواة أوقفوه عن الحكم بن عُتَيبة ومنصور بن المعتمِر عن ابن أبي ليلى عن عليٍّ من حديث شعبةَ عنهما، وأنا على أصلي في الحُكم لراوي الزيادة.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص شام کے وقت کسی مریض کی عیادت کرتا ہے تو اس کے ساتھ ستر ہزار فرشتے نکلتے ہیں جو صبح تک اس کے لیے دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں، اور اس کے لیے جنت میں چنے ہوئے پھلوں کا ایک باغ «خَرِيفٌ» ہوگا، اور جو شخص صبح کے وقت عیادت کے لیے آتا ہے تو اس کے ساتھ ستر ہزار فرشتے نکلتے ہیں جو شام تک اس کے لیے استغفار کرتے رہتے ہیں اور اس کے لیے جنت میں چنے ہوئے پھلوں کا باغ «خَرِيفٌ» ہوگا۔“
یہ اسناد شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، کیونکہ راویوں کی ایک جماعت نے اسے حکم بن عتیبہ اور منصور بن معتمر سے، انہوں نے ابن ابی لیلیٰ سے اور انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے موقوفاً روایت کیا ہے جو کہ شعبہ کی ان دونوں سے روایت ہے، لیکن میں اپنے اس اصول پر قائم ہوں کہ ثقہ راوی کی طرف سے بیان کردہ زیادت (اضافی معلومات) کو قبول کیا جائے گا۔
یہ اسناد شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، کیونکہ راویوں کی ایک جماعت نے اسے حکم بن عتیبہ اور منصور بن معتمر سے، انہوں نے ابن ابی لیلیٰ سے اور انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے موقوفاً روایت کیا ہے جو کہ شعبہ کی ان دونوں سے روایت ہے، لیکن میں اپنے اس اصول پر قائم ہوں کہ ثقہ راوی کی طرف سے بیان کردہ زیادت (اضافی معلومات) کو قبول کیا جائے گا۔
أخبرني أبو بكر محمد بن المؤمَّل، حدثنا الفَضْل بن محمد بن المسيَّب، حدثنا عبد الله بن محمد النُّفَيلي، حدثنا حَجَّاج بن محمد، حدثنا يونس بن أبي إسحاق، عن أبيه، عن زيد بن أرقم قال: عادَني رسول الله ﷺ من وَجَعٍ كان بعَيني (2).
هذا حديثٌ صحيحٌ على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله شاهد صحيح من حديث أنس بن مالك:
هذا حديثٌ صحيحٌ على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله شاهد صحيح من حديث أنس بن مالك:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے میری آنکھ کے درد کی وجہ سے میری عیادت فرمائی۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن ان دونوں نے اسے اپنی کتب میں روایت نہیں کیا، اور اس کی ایک صحیح شاہد حدیث سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن ان دونوں نے اسے اپنی کتب میں روایت نہیں کیا، اور اس کی ایک صحیح شاہد حدیث سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔
حدَّثَناه أبو عليٍّ الحسين بن عليٍّ الحافظ، أخبرنا محمد بن يحيى بن كثير الحِمْصي، حدثنا محمد بن المصفَّى، حدثنا معاوية بن حفص، حدثنا مالك بن مِغوَلٍ، عن الزُّبير بن عَدِيّ، عن أنسٍ قال: عاد رسولُ الله ﷺ زيدَ بنَ أرقمَ من رَمَدٍ كان به (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی آنکھ کے آشوب (درد و ورم) کی وجہ سے ان کی عیادت فرمائی۔
حدثنا بكر بن محمد الصَّيرَفي بمَرْو، حدثنا عبد الصَّمد بن الفضل البَلْخِي، حدثنا مَكِّي بن إبراهيم، حدثنا الجُعَيد بن عبد الرحمن، عن عائشة بنت سعد، أنَّ أباها قال: اشتكيتُ بمكة، فجاءني رسول الله ﷺ يَعودُني، ووَضَع يده على جبهتي، ثم مسح صدري وبطني ثم قال: "اللهم اشْفِ سعدًا وأتمِمْ له هِجرتَه" (2).
هذا حديثٌ صحيحٌ على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1267 - لم يخرجاه بهذا اللفظ
هذا حديثٌ صحيحٌ على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1267 - لم يخرجاه بهذا اللفظ
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ بنت سعد رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان کے والد سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں مکہ مکرمہ میں بیمار ہو گیا تو رسول اللہ ﷺ میری عیادت کے لیے تشریف لائے، آپ ﷺ نے اپنا دستِ مبارک میری پیشانی پر رکھا، پھر میرے سینے اور پیٹ پر پھیرا اور پھر فرمایا: «اللهمَّ اشْفِ سَعْدًا وَأَتْمِمْ لَهُ هِجْرَتَهُ» ”اے اللہ! سعد کو شفا عطا فرما اور ان کی ہجرت کو مکمل فرما۔“
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن ان دونوں نے ان الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن ان دونوں نے ان الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔