کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: وہ دعا جس کے ذریعے اللہ اس بیمار کو شفا دیتا ہے جس کی موت کا وقت نہیں آیا ہوتا۔
أخبرني أبو بكر محمد بن أحمد بن حاتم العدلُ بمَرْو، حدثنا أحمد ابن محمد بن عيسى القاضي، حدثنا الرَّبيع بن يحيى، حدثنا شُعبة. وأخبرنا عبد الرحمن بن الحسن القاضي بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا شعبة، حدثنا يزيد أبو خالد، عن المِنهال بن عمرو، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عباس، عن النبي ﷺ قال: "مَن عادَ مريضًا لم يَحضُرْ أجلُه، فقال عنده سبعَ مِرارٍ: أسألُ الله العظيم، ربَّ العرش العظيم، أن يَشفِيَك، إلّا عافاه اللهُ من ذلك المرض" (1).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص کسی ایسے مریض کی عیادت کرے جس کی موت کا وقت ابھی قریب نہ آیا ہو، اور اس کے پاس سات مرتبہ یہ دعا پڑھے: «أَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ، رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، أَنْ يَشْفِيَكَ» ”میں عظمت والے اللہ، جو عرشِ عظیم کا رب ہے، سے سوال کرتا ہوں کہ وہ تمہیں شفا عطا فرمائے۔“ تو اللہ تعالیٰ اسے اس مرض سے ضرور عافیت عطا فرما دے گا۔“
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحكم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث، عن عبد ربه بن سعيد، عن المِنهال بن عمرو، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عباسٍ قال: قال رسولُ الله ﷺ: "مَن عادَ أخاه المسلم، فقعد عندَ رأسه، ثم قال سبعَ مرات: أسألُ الله العظيم، ربَّ العرش العظيم أن يَشفِيكَ، عُوفيَ إن لم يكن أجلُه حَضَر" (1).
هذا حديث شاهد صحيح غريب من رواية المِصريِّين عن المدنيين عن الكوفيين، لم نكتبه عاليًا إلّا عنه. وقد خالف الحجاجُ بن أرطاةَ الثقاتِ في هذا الحديث عن المنهالِ بن عمرو:
هذا حديث شاهد صحيح غريب من رواية المِصريِّين عن المدنيين عن الكوفيين، لم نكتبه عاليًا إلّا عنه. وقد خالف الحجاجُ بن أرطاةَ الثقاتِ في هذا الحديث عن المنهالِ بن عمرو:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کی عیادت کرے اور اس کے سرہانے بیٹھ کر سات مرتبہ یہ کہے: «أَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ، رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ أَنْ يَشْفِيَكَ» ”میں عظمت والے اللہ، جو عرشِ عظیم کا رب ہے، سے سوال کرتا ہوں کہ وہ تمہیں شفا عطا فرمائے۔“ تو اگر اس کی موت کا وقت نہ آیا ہو تو اسے ضرور شفا نصیب ہوگی۔“
یہ حدیث ایک شاہد، صحیح اور غریب ہے جو مصریوں کی مدنیوں سے اور مدنیوں کی کوفیوں سے روایت ہے، جسے ہم نے صرف اسی سند سے عالی لکھا ہے۔ اس حدیث میں حجاج بن ارطاہ نے ثقہ راویوں کی مخالفت کی ہے۔
یہ حدیث ایک شاہد، صحیح اور غریب ہے جو مصریوں کی مدنیوں سے اور مدنیوں کی کوفیوں سے روایت ہے، جسے ہم نے صرف اسی سند سے عالی لکھا ہے۔ اس حدیث میں حجاج بن ارطاہ نے ثقہ راویوں کی مخالفت کی ہے۔
أخبرَناه أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي بمَرْو، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا الحجّاج بن أرْطاة، عن المِنهال بن عمرو، عن عبد الله بن الحارث، عن ابن عباسٍ، قال: قال رسول الله ﷺ: "ما من مسلمٍ عادَ أخاه، فدخل عليه ولم يَحضُرْ أجلُه، فقال: أسألُ الله العظيم، ربَّ العرش العظيم، أن يَشفِيَ فلانًا من مَرَضِه، سبعَ مراتٍ، إِلَّا شَفَاه الله منه" (1). هذا مما لا يُعَدُّ خلافًا، فإنَّ الحجاج بن أرْطاة دون عبد ربِّه بن سعيد وأبي خالد الدَّالاني في الحفظ والإتقان، فإن ثَبَتَ حديثُ عبد الله بن الحارث من هذه الرواية فإنه شاهدٌ لسعيد بن جُبير.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی بھی ایسا مسلمان جو اپنے کسی بھائی کی عیادت کرے اور اس کے پاس جائے جب کہ ابھی اس کی موت کا وقت نہ آیا ہو، پھر وہ سات مرتبہ یہ کہے: «أَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ، رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، أَنْ يَشْفِيَ فُلَانًا مِنْ مَرَضِهِ» ”میں عظمت والے اللہ، جو عرشِ عظیم کا رب ہے، سے سوال کرتا ہوں کہ وہ فلاں کو اس کی بیماری سے شفا عطا فرمائے۔“ تو اللہ اسے ضرور شفا عطا فرما دے گا۔“
یہ ایسی روایت نہیں جسے خلاف شمار کیا جائے، کیونکہ حجاج بن ارطاہ حفظ و اتقان میں عبد ربہ بن سعید اور ابو خالد الدالانی سے کم تر ہیں، اگر اس روایت سے عبد اللہ بن حارث کی حدیث ثابت ہو جائے تو یہ سعید بن جبیر کی حدیث کے لیے شاہد بن جائے گی۔
یہ ایسی روایت نہیں جسے خلاف شمار کیا جائے، کیونکہ حجاج بن ارطاہ حفظ و اتقان میں عبد ربہ بن سعید اور ابو خالد الدالانی سے کم تر ہیں، اگر اس روایت سے عبد اللہ بن حارث کی حدیث ثابت ہو جائے تو یہ سعید بن جبیر کی حدیث کے لیے شاہد بن جائے گی۔
أخبرني أبو بكر بن أبي نصر، حدثنا أحمد بن محمد البِرْتي، حدثنا القَعْنبي فيما قَرأ على مالك، عن يزيد بن خُصَيفة. وحدثنا أبو الفضل محمد بن إبراهيم المزكِّي، حدثنا أحمد بن سَلَمة، حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا إسماعيل بن جعفر، حدثنا يزيد بن خُصَيفة، عن عمرو بن عبد الله بن كعب السَّلَمي، أنَّ نافع بن جُبير أخبره: أنَّ عثمان بن أبي العاص قَدِم على رسول الله ﷺ وقد أخذه وَجَعٌ قد كاد يُبطِلُه، فذكر ذلك لرسول الله ﷺ، فزَعَم أَنَّ رسول الله ﷺ قال: "ضَعْ يمينَك على مكانك الذي تشتكي، وامسَحْ به سبعَ مرَّاتٍ وقل: أعوذُ بِعِزَّة الله وقُدرتِه من شَرِّ ما أجدُ، في كلِّ مَسْحةٍ" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ، إنما أخرجه مسلم من حديث الجُرَيري، عن يزيد بن عبد الله بن الشِّخِّير، عن عثمان بن أبي العاص، بغير هذا اللفظ (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ، إنما أخرجه مسلم من حديث الجُرَيري، عن يزيد بن عبد الله بن الشِّخِّير، عن عثمان بن أبي العاص، بغير هذا اللفظ (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا نافع بن جبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے جبکہ انہیں ایسا شدید درد لاحق تھا جس نے انہیں قریب قریب ناکارہ کر دیا تھا، انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنا دایاں ہاتھ اس جگہ رکھو جہاں تمہیں تکلیف ہے اور اسے سات مرتبہ مسح کرو اور ہر بار مسح کرتے وقت یہ کہو: «أَعُوذُ بِعِزَّةِ اللَّهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ» ”میں اللہ کی عزت اور اس کی قدرت کی پناہ مانگتا ہوں اس چیز کی برائی سے جو میں محسوس کر رہا ہوں۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے ان الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا، البتہ امام مسلم نے اسے دوسرے الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے ان الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا، البتہ امام مسلم نے اسے دوسرے الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے۔
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أحمد بن إبراهيم بن مِلِحان، حدثنا يحيى بن بُكَير، حدثني الليث بن سعد، عن زِيادةَ بن محمد الأنصاري، عن [محمد بن] (2) كعب القُرَظي، عن فَضَالة بن عُبيد: أَنَّ رجلين أقبلا يَلتمِسان [لأبيهما] (1) الشفاءَ من البول، فانطُلِقَ بهما إلى أبي الدرداء، فذَكَرا وجعَ أبيهما له، فقال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "ربَّنا (2) اللهُ الذي في السماء، تقدَّسَ اسمُك، أمرُك في السماء والأرض، كما رحمتُك في السماء فاجعلْ رحمتَك في الأرض، واغفِرْ لنا ذُنوبَنا وخطايانا، إنك ربُّ الطَّيِّبين، فأنزِلْ رحمةً من رحمتِكَ، وشِفاءً من شِفائك على هذا الوَجَع، فيَبرأُ إِن شاء الله تعالى" (3). قد احتجَّ الشيخان بجميع رواة هذا الحديث غير زيادةَ بن محمد، وهو شيخٌ من أهل مصر قليل الحديث.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو آدمی اپنے والد کے لیے پیشاب کی بندش سے شفا کی تلاش میں نکلے اور سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچ کر تکلیف کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: «رَبَّنَا اللَّهُ الَّذِي فِي السَّمَاءِ، تَقَدَّسَ اسْمُكَ، أَمْرُكَ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، كَمَا رَحْمَتُكَ فِي السَّمَاءِ فَاجْعَلْ رَحْمَتَكَ فِي الْأَرْضِ، وَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَخطَايَانَا، إِنَّكَ رَبُّ الطَّيِّبِينَ، فَأَنْزِلْ رَحْمَةً مِنْ رَحْمَتِكَ، وَشِفَاءً مِنْ شِفَائِكَ عَلَى هَذَا الْوَجَعِ، فَيَبْرَأُ» ”ہمارا رب اللہ ہے جو آسمان میں ہے، تیرا نام پاک ہے، تیرا حکم آسمان اور زمین میں نافذ ہے، جس طرح تیری رحمت آسمان میں ہے اسی طرح اپنی رحمت زمین میں بھی کر دے، اور ہمارے گناہوں اور خطاؤں کو معاف فرما، بیشک تو ہی پاکیزہ لوگوں کا رب ہے، اپنی رحمتوں میں سے ایک رحمت اور اپنی شفا میں سے ایک شفا اس درد پر نازل فرما تاکہ یہ تندرست ہو جائے۔“ تو وہ اللہ کے حکم سے تندرست ہو جائے گا۔
شیخین نے زیاد بن محمد کے علاوہ اس حدیث کے تمام راویوں سے احتجاج کیا ہے، جو کہ مصر کے ایک قلیل الحدیث شیخ ہیں۔
شیخین نے زیاد بن محمد کے علاوہ اس حدیث کے تمام راویوں سے احتجاج کیا ہے، جو کہ مصر کے ایک قلیل الحدیث شیخ ہیں۔
أخبرني أحمد بن محمد بن إسماعيل بن مِهْران، حدثني أبي، حدثنا أبو الطاهر، أخبرنا ابن وَهْب، حدثنا حُييّ بن عبد الله، عن أبي عبد الرحمن الحُبُلي، عن عبد الله بن عمرٍو قال: قال رسول الله ﷺ: "إذا عادَ أحدُكم مريضًا فليقُلْ: اللهمَّ اشفِ عبدَكَ، يَنكَأُ لك عدوًّا أو يمشي لكَ إلى صلاة" (1).
هذا حديثٌ صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديثٌ صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی کسی مریض کی عیادت کرے تو اسے یہ کہنا چاہیے: «اللهمَّ اشْفِ عَبْدَكَ، يَنْكَأُ لَكَ عَدُوًّا أَوْ يَمْشِي لَكَ إِلَى صَلَاةٍ» ”اے اللہ! اپنے اس بندے کو شفا عطا فرما، تاکہ یہ تیری خاطر دشمن کو زخم لگائے (جہاد کرے) یا تیری رضا کے لیے نماز کی طرف چل کر جائے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔