حدیث نمبر: 1280
حدثني علي بن عيسى، حدثنا مُسدَّد بن قَطَن، حدثنا عثمان بن أبي شيبة، حدثنا أبو معاوية، حدثنا الأعمش، عن الحَكَم، عن عبد الرحمن بن أبي ليلى، عن عليٍّ قال: قال رسول الله ﷺ: "ما مِن رجلٍ يعودُ مريضًا مُمسِيًا إلّا خرج معه سَبعونَ ألفَ مَلَكٍ يستغفرون له حتى يُصبحَ، وكان له خريفٌ في الجنة، ومن أتاه مصبحًا خرج معه سبعونَ ألفَ مَلَكٍ يستغفرون له حتى يُمسِي، وكان له خريفٌ في الجنة" (1). هذا إسنادٌ صحيحٌ على شرط الشيخين ولم يُخرجاه، لأنَّ جماعةً من الرواة أوقفوه عن الحكم بن عُتَيبة ومنصور بن المعتمِر عن ابن أبي ليلى عن عليٍّ من حديث شعبةَ عنهما، وأنا على أصلي في الحُكم لراوي الزيادة.
حافظ طلحہ بابر

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص شام کے وقت کسی مریض کی عیادت کرتا ہے تو اس کے ساتھ ستر ہزار فرشتے نکلتے ہیں جو صبح تک اس کے لیے دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں، اور اس کے لیے جنت میں چنے ہوئے پھلوں کا ایک باغ «خَرِيفٌ» ہوگا، اور جو شخص صبح کے وقت عیادت کے لیے آتا ہے تو اس کے ساتھ ستر ہزار فرشتے نکلتے ہیں جو شام تک اس کے لیے استغفار کرتے رہتے ہیں اور اس کے لیے جنت میں چنے ہوئے پھلوں کا باغ «خَرِيفٌ» ہوگا۔“
یہ اسناد شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، کیونکہ راویوں کی ایک جماعت نے اسے حکم بن عتیبہ اور منصور بن معتمر سے، انہوں نے ابن ابی لیلیٰ سے اور انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے موقوفاً روایت کیا ہے جو کہ شعبہ کی ان دونوں سے روایت ہے، لیکن میں اپنے اس اصول پر قائم ہوں کہ ثقہ راوی کی طرف سے بیان کردہ زیادت (اضافی معلومات) کو قبول کیا جائے گا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الجنائز / حدیث: 1280
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وقد اختُلف في رفعه ووقفه، كما هو مبيَّن في التعليق على "مسند أحمد" 2/ (612)، ورجَّح وقفه الدارقطني في "العلل" 3/ 267، ورجَّح الحاكم هنا وأبو داود رفْعَه.» [ترقيم الرساله 1280] [ترقيم الشركة 1268]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث صحيح، وقد اختُلف في رفعه ووقفه، كما هو مبيَّن في التعليق على "مسند أحمد" 2/ (612)، ورجَّح وقفه الدارقطني في "العلل" 3/ 267، ورجَّح الحاكم هنا وأبو داود رفْعَه.
درجۂ حدیث: (1) "حدیث صحیح" ہے؛ اس کے مرفوع اور موقوف ہونے میں اختلاف ہے، دارقطنی نے موقوف کو راجح کہا جبکہ حاکم اور ابوداؤد نے اسے مرفوع (نبی ﷺ کا فرمان) مانا ہے۔
أبو معاوية: هو محمد بن خازم الضرير، والأعمش: هو سليمان بن مهران، والحكم: هو ابن عُتيبة.
فنی نکتہ: ابومعاویہ سے مراد محمد الضریر، الاعمش سے مراد سلیمان اور الحکم سے مراد ابن عتیبہ ہیں۔
وسيأتي الحديث بمعناه عند المصنف برقم (1309) من طريق ابن نمير وأبي كريب، عن أبي معاوية، بهذا الإسناد، وفيه قصة، يأتي تخريجه هناك، وبرقم (1310) من طريق شعبة، عن الحكم، عن عبد الله بن نافع عن علي مرفوعًا، وسنبين الاختلاف على شعبة في رفعه ووقفه هناك إن شاء الله.
تکرار: یہ دوبارہ نمبر (1309) پر ایک قصے کے ساتھ اور نمبر (1310) پر شعبہ کے طریق سے آئے گی۔
والخريف: أي: المخروف من ثمرها، فعيل بمعنى مفعول. واختراف الثمر: اجتناؤه.
(توضیح): "الخریف"؛ درخت سے چنے ہوئے تازہ پھل کو کہتے ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1280 سے ماخوذ ہے۔