کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: عبداللہ بن اُبی منافق کی موت کا واقعہ۔
أخبرنا أبو عمرو عثمانُ بن أحمد بن السَّمّاك ببغداد، حدثنا أحمد بن حيَّان بن مُلاعِب، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا محمد بن إسحاق. وحدثنا محمدُ بن صالح بن هانئ، حدثنا أبو سعيد الحسنُ بن عبد الصَّمد (1)، حدثنا عبد العزيز بن يحيى، حدثنا محمد بن سَلَمة، حدثنا محمد بن إسحاق، عن الزُّهري، عن عُرْوة، عن أسامةَ بن زيد قال: خرج رسول الله ﷺ يعودُ عبدَ الله بن أُبي في مَرَضه الذي مات فيه، فلما دخلَ عليه عَرَفَ فيه الموت قال: "قد كنتُ أنهاك عن حُبِّ يهود فقال: قد أَبغَضَهم أسعد بن زُرَارة، فمَهْ؟! فلمّا مات أتاه ابنُه فقال: يا رسول الله، إنَّ عبد الله بن أُبي قد مات فأعطِني قميصَكَ أُكفِّنْه فيه، فنزع رسول الله ﷺ قميصَه فأعطاه إياه (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ عبداللہ بن ابی (منافق) کی عیادت کے لیے اس کی اس علالت میں تشریف لے گئے جس میں اس کا انتقال ہوا، پس جب آپ ﷺ اس کے پاس داخل ہوئے تو آپ ﷺ نے اس کے چہرے پر موت کے آثار پہچان لیے اور فرمایا: ”میں تمہیں یہودیوں کی محبت سے منع کیا کرتا تھا، اس نے جواباً کہا: اسعد بن زرارہ نے ان سے بغض رکھا تھا تو اس کا اسے کیا فائدہ ہوا؟! پھر جب وہ مر گیا تو اس کا بیٹا آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! عبداللہ بن ابی فوت ہو گیا ہے، آپ مجھے اپنی قمیص مبارک عطا فرما دیں تاکہ میں اسے اس میں کفن دے سکوں، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی قمیص مبارک اتاری اور اسے عطا فرما دی۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے اس طرح روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الجنائز / حدیث: 1278
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن، محمد بن إسحاق قد صرَّح بالتحديث عند البيهقي في "الدلائل" 5/ 285، وقصة إلباس النبي ﷺ قميصه لعبد الله بن أُبيّ مخرَّجة في "الصحيحين" من غير هذا الوجه.» [ترقيم الرساله 1278] [ترقيم الشركة 1266]
حدثنا أبو بكر بن إسحاق وأبو بكر بن جعفر القَطِيعي، قالا: حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرَّحمن، عن سفيان، عن محمد بن المُنكَدِر، عن جابرٍ قال: كان النبيُّ ﷺ يَعودُني ليس براكبِ بغلٍ ولا بِرْذَونٍ (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ (پیدل چل کر) میری عیادت کے لیے تشریف لایا کرتے تھے، آپ ﷺ اس وقت نہ کسی خچر پر سوار ہوتے تھے اور نہ ہی کسی ترکی گھوڑے «بِرْذَونٍ» پر۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اپنی صحیح میں جگہ نہیں دی۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الجنائز / حدیث: 1279
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،عبد الرحمن: هو ابن مهدي، وسفيان: هو الثوري.» [ترقيم الرساله 1279] [ترقيم الشركة 1267]