کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: تم میں سب سے بہتر وہ ہیں جن کی عمریں لمبی ہوں اور اعمال اچھے ہوں۔
أخبرنا مُكْرَم بن أحمد القاضي، حدثنا محمد بن إسماعيل السُّلَمي، حدثنا أيوب بن سليمان بن بلال، حدثني أبو بكر، عن سليمان بن بلال، قال: قال زيد بن أسلم: قال محمد بن المُنكدِر: سمعت جابر بن عبد الله يقول: قال رسول الله ﷺ: "ألا أنبِّئكم بخِيارِكم من شِراركم؟ " قالوا: بلى، قال: "خيارُكم أطوَلُكم أعمارًا، وأحسَنُكم عملًا" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ صحيحٌ على شرط مسلم:
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ صحيحٌ على شرط مسلم:
حافظ طلحہ بابر
محمد بن منکدر کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو فرماتے ہوئے سنا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں تمہارے برے لوگوں میں سے تمہارے بہترین لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟“ صحابہ نے عرض کیا: کیوں نہیں! آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے بہترین وہ ہیں جن کی عمریں سب سے لمبی اور اعمال سب سے اچھے ہوں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ اور اس کے لیے امام مسلم کی شرط پر ایک صحیح شاہد موجود ہے:
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ اور اس کے لیے امام مسلم کی شرط پر ایک صحیح شاہد موجود ہے:
حدَّثَناه أبو الحسن محمد بن محمد الكاتب، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حدثنا حجّاج بن مِنْهال، حدثنا حماد بن سلمة، عن حُميد ويونس وثابت، عن الحسن، عن أبي بَكْرة: أنَّ رجلًا قال: يا رسول الله، أيُّ الناس خيرٌ؟ قال: "مَن طَالَ عمرُه وحَسُن عملُه". قال: فأيُّ الناس شرّ؟ قال: "من طال عمرُه وساءَ عملُه" (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! لوگوں میں سب سے بہتر کون ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ شخص جس کی عمر طویل ہو اور اس کے اعمال اچھے ہوں۔“ اس شخص نے پھر دریافت کیا: ”تو لوگوں میں سب سے برا کون ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ جس کی عمر تو لمبی ہو مگر اس کے اعمال برے ہوں۔“
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا يحيى بنُ محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا المعتمِر. وحدثنا محمد بنُ صالح بن هانئ، حدثنا جعفر بنُ محمد بن سَوَّار، حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا إسماعيل بن جعفر؛ جميعًا عن حميدٍ، عن أنس: أنَّ النبي ﷺ قال: "إذا أرادَ الله بعبدٍ خيرًا استعمَلَه"، قال: فقيل: كيف يَستعملُه؟ قال: "يُوفِّقُه لعملٍ صالحٍ قبل الموت" (1).
هذا حديثٌ صحيحٌ على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله شاهد بإسناد صحيح:
هذا حديثٌ صحيحٌ على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله شاهد بإسناد صحيح:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے (اپنے دین کے لیے) استعمال کر لیتا ہے۔“ عرض کیا گیا: ”اللہ اسے کیسے استعمال فرماتا ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ اسے موت سے پہلے عملِ صالح کی توفیق عطا فرما دیتا ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، جبکہ اس کی ایک شاہد حدیث درج ذیل صحیح سند کے ساتھ موجود ہے:
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، جبکہ اس کی ایک شاہد حدیث درج ذیل صحیح سند کے ساتھ موجود ہے:
أخبرَناهُ الحسن بن يعقوب العدلُ، حدثنا يحيى بنُ أبي طالب، حدثنا زيد بن الحُبَاب، حدثني معاوية بن صالح، حدثني عبد الرحمن بن جُبَير بن نُفَير، عن أبيه، عن عمرو بن الحَمِق قال: قال رسول الله ﷺ: "إذا أحبَّ الله عبدًا عَسَلَه" قال: يا رسول الله، وما عَسَلَه؟ قال: "يُوفِّقُ له عملًا صالحًا بين يدي أجَلِه حتى يرضى عنه جيرانُه" أو قال: "مَن حولَه" (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمرو بن حمق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب اللہ عزوجل کسی بندے سے محبت فرماتا ہے تو اسے «عَسَلَه» ”شہد جیسا میٹھا“ بنا دیتا ہے۔“ عرض کیا گیا: ”اے اللہ کے رسول! اسے شہد جیسا میٹھا بنانے سے کیا مراد ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ اس کی موت سے ذرا پہلے اسے کسی عملِ صالح کی توفیق بخشتا ہے یہاں تک کہ اس کے پڑوسی“ یا آپ ﷺ نے فرمایا ”اس کے ارد گرد رہنے والے اس سے راضی و خوش ہو جاتے ہیں۔“