المستدرك على الصحيحين
كتاب الجنائز— نماز جنازہ کا بیان
خِيَارُكُمْ أَطْوَلُكُمْ أَعْمَارًا وَأَحْسَنُكُمْ عَمَلًا باب: تم میں سب سے بہتر وہ ہیں جن کی عمریں لمبی ہوں اور اعمال اچھے ہوں۔
حدیث نمبر: 1273
أخبرَناهُ الحسن بن يعقوب العدلُ، حدثنا يحيى بنُ أبي طالب، حدثنا زيد بن الحُبَاب، حدثني معاوية بن صالح، حدثني عبد الرحمن بن جُبَير بن نُفَير، عن أبيه، عن عمرو بن الحَمِق قال: قال رسول الله ﷺ: "إذا أحبَّ الله عبدًا عَسَلَه" قال: يا رسول الله، وما عَسَلَه؟ قال: "يُوفِّقُ له عملًا صالحًا بين يدي أجَلِه حتى يرضى عنه جيرانُه" أو قال: "مَن حولَه" (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمرو بن حمق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب اللہ عزوجل کسی بندے سے محبت فرماتا ہے تو اسے «عَسَلَه» ”شہد جیسا میٹھا“ بنا دیتا ہے۔“ عرض کیا گیا: ”اے اللہ کے رسول! اسے شہد جیسا میٹھا بنانے سے کیا مراد ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ اس کی موت سے ذرا پہلے اسے کسی عملِ صالح کی توفیق بخشتا ہے یہاں تک کہ اس کے پڑوسی“ یا آپ ﷺ نے فرمایا ”اس کے ارد گرد رہنے والے اس سے راضی و خوش ہو جاتے ہیں۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده قوي من أجل يحيى بن أبي طالب.
درجۂ حدیث: (2) یحییٰ بن ابی طالب کی وجہ سے سند قوی ہے۔
وأخرجه أحمد 36/ (21949) عن زيد بن الحباب، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (21949/36) نے زید بن حباب کی سند سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
قوله: "عَسَلَه" قال ابن قتيبة في "غريب الحديث" 1/ 302: أُراه مأخوذًا من العَسَل، شبَّه العمل الصالح الذي يفتح للعبد حتى يرضى الناسُ عنه، ويطيب ذِكره فيهم بالعسل.
(توضیح): "عَسَلَه"؛ ابن قتیبہ کے مطابق اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ بندے کے لیے ایسے نیک اعمال کھول دیتا ہے کہ لوگ اس سے راضی ہو جاتے ہیں اور اس کا ذکرِ خیر شہد (عسل) کی طرح میٹھا ہو جاتا ہے۔
وقال الزمخشري في "الفائق" 2/ 429: هو من عَسَلَ الطعام يعْسِلُه: إذا جعل فيه العسل، كأنه شبّه ما رزقه الله تعالى من العمل الصالح الذي طاب به ذِكره بين قومه بالعسل الذي يُجعل في الطعام، فيَحْلَولي به ويطيب.
(توضیح): زمخشری کے مطابق یہ کھانے کو شہد سے میٹھا کرنے کے معنوں میں ہے، یعنی اللہ بندے کے نیک عمل کو لوگوں میں مقبول اور خوشبودار بنا دیتا ہے۔
درجۂ حدیث: (2) یحییٰ بن ابی طالب کی وجہ سے سند قوی ہے۔
وأخرجه أحمد 36/ (21949) عن زيد بن الحباب، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (21949/36) نے زید بن حباب کی سند سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
قوله: "عَسَلَه" قال ابن قتيبة في "غريب الحديث" 1/ 302: أُراه مأخوذًا من العَسَل، شبَّه العمل الصالح الذي يفتح للعبد حتى يرضى الناسُ عنه، ويطيب ذِكره فيهم بالعسل.
(توضیح): "عَسَلَه"؛ ابن قتیبہ کے مطابق اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ بندے کے لیے ایسے نیک اعمال کھول دیتا ہے کہ لوگ اس سے راضی ہو جاتے ہیں اور اس کا ذکرِ خیر شہد (عسل) کی طرح میٹھا ہو جاتا ہے۔
وقال الزمخشري في "الفائق" 2/ 429: هو من عَسَلَ الطعام يعْسِلُه: إذا جعل فيه العسل، كأنه شبّه ما رزقه الله تعالى من العمل الصالح الذي طاب به ذِكره بين قومه بالعسل الذي يُجعل في الطعام، فيَحْلَولي به ويطيب.
(توضیح): زمخشری کے مطابق یہ کھانے کو شہد سے میٹھا کرنے کے معنوں میں ہے، یعنی اللہ بندے کے نیک عمل کو لوگوں میں مقبول اور خوشبودار بنا دیتا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1273 سے ماخوذ ہے۔