کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: نمازِ استسقاء میں چادر پلٹنا، تکبیریں کہنا اور قراءت کرنا۔
حدثنا أبو جعفر عبد الله بن إسماعيل بن إبراهيم بن المنصور في دار أمير المؤمنين المنصور إملاءً، حدثنا محمد بن يوسف بن عيسى بن الطَّبَّاع، حدثني عمِّي إسحاق بن عيسى، حدثنا حفص بن غِيَاث، عن جعفر بن محمد، عن أبيه، عن جابر قال: استَسقَى رسولُ الله ﷺ، وحوَّل رِداءَه ليتحوَّل القَحْطُ (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
جعفر بن محمد اپنے والد سے اور وہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے نماز استسقاء پڑھائی اور اپنی چادر کو اس لیے پلٹا تاکہ قحط سالی پلٹ جائے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثني علي بن حَمْشاذ العدل، حدثنا هشام بن عليٍّ السَّدُوسي، حدثني سَهْلُ بن بَكَّار، حدثنا محمد بن عبد العزيز بن عبد الملك، عن أبيه، عن طلحة بن يحيى قال: أرسلني مروانُ إلى ابن عباس أسأله عن سُنَّة الاستسقاء، فقال: سُنَّة الاستسقاء سُنَّةُ الصلاة في العيدين، إلّا أنَّ رسول الله ﷺ قَلَبَ رِداءَه فجعل يمينه على يساره، ويسارَه على يمينه، فصلى الركعتين، فكبَّر في الأولى سبع تكبيرات، وقرأ ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾، وقرأ في الثانية ﴿هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ﴾، وكبَّر فيها خَمسَ تكبيرات (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
طلحہ بن یحییٰ بیان کرتے ہیں کہ مروان نے مجھے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس نماز استسقاء کا طریقہ پوچھنے کے لیے بھیجا، تو انہوں نے فرمایا: ”نماز استسقاء کا طریقہ عیدین کی نماز جیسا ہی ہے، سوائے اس کے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی چادر کو پلٹا، پس اس کے دائیں حصے کو بائیں طرف اور بائیں حصے کو دائیں طرف کر دیا، پھر آپ ﷺ نے دو رکعتیں پڑھائیں، پہلی رکعت میں سات تکبیریں کہیں اور ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ کی تلاوت فرمائی، اور دوسری رکعت میں ﴿هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ﴾ کی تلاوت فرمائی، اور اس میں پانچ تکبیریں کہیں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد بن عبد الله البغدادي، حدثنا يحيى بن عثمان بن صالح السَّهْمي، حدثنا عبد الله بن يوسف، حدثنا إسماعيل بن ربيعة بن هشام بن إسحاق، قال: سمعت أبي (1) يحدِّث عن أبيه إسحاق بن عبد الله: أنَّ الوليد أرسَلَه إلى ابن عباس فقال: يا ابن أخي، كيف صَنَع رسولُ الله ﷺ في الاستسقاء يومَ استَسقَى بالناس؟ فقال: خَرَجَ رسولُ الله ﷺ متخشِّعًا، مُتذلِّلًا، متبذِّلًا، فصنع فيه كما يَصنَع في الفِطْر والأضحى (2).
هذا حديثٌ رواتُه مِصريون ومدنيون، ولا أعلم أحدًا منهم منسوبًا إلى نوعٍ من الجَرح، ولم يُخرجاه. وقد رواه سفيان الثوري عن هشام بن إسحاق:
هذا حديثٌ رواتُه مِصريون ومدنيون، ولا أعلم أحدًا منهم منسوبًا إلى نوعٍ من الجَرح، ولم يُخرجاه. وقد رواه سفيان الثوري عن هشام بن إسحاق:
حافظ طلحہ بابر
اسحاق بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ ولید نے انہیں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بھیجا اور انہوں نے پوچھا: ”اے میرے بھتیجے! رسول اللہ ﷺ نے نماز استسقاء میں کیا طریقہ اپنایا تھا جس دن آپ ﷺ نے لوگوں کو بارش کی دعا کروائی تھی؟“ تو انہوں نے جواب دیا: ”رسول اللہ ﷺ انتہائی عاجزی، انکساری اور سادہ لباس میں نکلے، پھر آپ ﷺ نے اس میں ویسا ہی عمل کیا جیسا آپ ﷺ عید الفطر اور عید الاضحیٰ میں کرتے تھے۔“
اس حدیث کے راوی مصری اور مدنی ہیں، اور میرے علم کے مطابق ان میں سے کسی پر بھی کسی قسم کی جرح نہیں کی گئی، اور اسے شیخین نے روایت نہیں کیا۔ اور اسے سفیان ثوری نے بھی ہشام بن اسحاق سے روایت کیا ہے۔
اس حدیث کے راوی مصری اور مدنی ہیں، اور میرے علم کے مطابق ان میں سے کسی پر بھی کسی قسم کی جرح نہیں کی گئی، اور اسے شیخین نے روایت نہیں کیا۔ اور اسے سفیان ثوری نے بھی ہشام بن اسحاق سے روایت کیا ہے۔
أخبرَناه أبو علي الحسين بن علي الحافظ، حدثنا علي بن الحسين الصَّفَّار ببغداد، حدثنا هارون بن إسحاق الهَمْدَاني، حدثنا وكيع، حدثنا سفيان، عن هشام بن إسحاق بن عبد الله بن كِنانة، عن أبيه قال: أرسَلَني أميرٌ من الأمراء إلى ابن عباس أسأله عن الصلاة في الاستسقاء، فقال ابن عباس: ما مَنَعَه أن يسألني؟ خَرَج رسولُ الله ﷺ متواضعًا، مُتبذِّلًا، متخشِّعًا، مُتضرِّعًا، مُترسِّلًا، فصلَّى ركعتين كما يصلي في العيد، ولم يَخطُب خُطبتَكم (1).
حافظ طلحہ بابر
ہشام بن اسحاق بن عبداللہ بن کنانہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: ایک امیر نے مجھے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس نماز استسقاء کے بارے میں پوچھنے کے لیے بھیجا، تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”اسے خود مجھ سے پوچھنے میں کیا رکاوٹ تھی؟ رسول اللہ ﷺ انتہائی عاجزی، سادہ لباس، خشوع و خضوع، گریہ و زاری اور ٹھہر ٹھہر کر چلتے ہوئے نکلے، پھر آپ ﷺ نے دو رکعتیں پڑھائیں جیسے آپ ﷺ عید میں پڑھاتے تھے، اور آپ ﷺ نے تمہارے اس خطبے جیسا خطبہ نہیں دیا۔“
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، أخبرني أبي، حدثنا عبد الرحمن. وأخبرني الحسين بن علي، حدثنا محمد بن إسحاق، حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن بن مَهدي، حدثنا شعبة، عن ثابت، عن أنس بن مالك قال: كان النبيُّ ﷺ لا يَرفَعُ يديه في شيء من دُعائِه إلّا في الاستسقاء. قال شعبة: فقلت لثابت: أأنتَ سَمِعتَه من أنس؟ قال: سبحان الله، قلت: أأنت سَمِعتَه من أنس؟ قال: سبحان الله (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، وقد خرَّجه مسلم من حديث يحيى بن أبي بُكَير عن شعبة (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، وقد خرَّجه مسلم من حديث يحيى بن أبي بُكَير عن شعبة (1).
حافظ طلحہ بابر
ثابت، سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: ”نبی کریم ﷺ اپنی کسی بھی دعا میں ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے سوائے نماز استسقاء کے۔“ شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے ثابت سے پوچھا: کیا آپ نے اسے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: ”سبحان اللہ!“ میں نے دوبارہ پوچھا: کیا آپ نے اسے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سنا ہے؟ انہوں نے پھر کہا: ”سبحان اللہ!“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، اور امام مسلم نے اسے یحییٰ بن ابی بکیر کی حدیث سے شعبہ کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، اور امام مسلم نے اسے یحییٰ بن ابی بکیر کی حدیث سے شعبہ کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
أخبرني إسماعيل بن محمد بن الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا جدِّي، حدثنا إبراهيم بن حمزة، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن عُمَارة بن غَزِيَّة، عن عبَّاد بن تمِيم، عن عبد الله بن زيد قال: استسقَى رسولُ الله ﷺ وعليه خَمِيصةٌ سوداء، فأرادَ رسولُ الله ﷺ أن يأخُذَ بأسفَلِها فيَجعَلَه أعلاها، فلما ثَقُلت عليه قَلَبَها على عاتقِه (2). قد اتفقا على إخراج حديث عبَّاد بن تمِيم، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ، وهو صحيح على شرط مسلم.
حافظ طلحہ بابر
عباد بن تمیم، سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے نماز استسقاء پڑھائی اور آپ ﷺ پر ایک سیاہ دھاری دار چادر تھی، تو رسول اللہ ﷺ نے چاہا کہ اس کے نچلے حصے کو پکڑ کر اوپر کر دیں، لیکن جب وہ آپ ﷺ پر بھاری محسوس ہوئی تو آپ ﷺ نے اسے اپنے کندھے پر ہی پلٹ لیا۔“
شیخین نے عباد بن تمیم کی حدیث کو روایت کرنے پر اتفاق کیا ہے لیکن انہوں نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا، اور یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔
شیخین نے عباد بن تمیم کی حدیث کو روایت کرنے پر اتفاق کیا ہے لیکن انہوں نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا، اور یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفان العامِريُّ، حدثنا محمد بن عُبيد، حدثنا مِسْعَر بن كِدَام، عن يزيد الفَقِير، عن جابر بن عبد الله قال: أتتِ النبيَّ ﷺ بَوَاكٍ، فقال: "اللهمَّ اسقِنا غيثًا مُغيثًا مَرِيئًا مَرِيعًا، عاجلًا غيرَ آجل، نافعًا غير ضارّ" فأطبقَت عليهم (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
یزید فقیر، سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: نبی کریم ﷺ کے پاس کچھ رونے والیاں آئیں (جو قحط کی شکایت کر رہی تھیں)، تو آپ ﷺ نے دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ اسْقِنَا غَيْثًا مُغِيثًا مَرِيئًا مَرِيعًا، عَاجِلًا غَيْرَ آجِلٍ، نَافِعًا غَيْرَ ضَارٍّ» ”اے اللہ! ہمیں ایسی بارش عطا فرما جو فریاد رس ہو، خوشگوار ہو، سرسبز و شاداب کرنے والی ہو، جلد آنے والی ہو دیر سے نہیں، اور نفع بخش ہو نقصان دہ نہ ہو۔“ پس ان پر بادل چھا گئے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا علي بن حَمْشاذ العدل، حدثنا عُبيدُ بن شَرِيك، حدثنا يحيى بن بُكَير، حدثنا الليث، عن خالد بن يزيد، عن سعيد بن أبي هلال، عن يزيد بن عبد الله، عن عُمَير مولى آبي اللَّحْم، عن آبي اللحم: أنه رأى رسولَ الله ﷺ عند أحجار الزَّيت يَستسقِي مُقْنِعًا بكفَّيه يدعو هكذا (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وعُمير مولى آبي اللَّحْم له صُحْبة. وبصحة ذلك:
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وعُمير مولى آبي اللَّحْم له صُحْبة. وبصحة ذلك:
حافظ طلحہ بابر
عمیر مولیٰ آبي اللحم، آبي اللحم رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ: انہوں نے أحجار الزيت کے پاس رسول اللہ ﷺ کو نماز استسقاء پڑھاتے ہوئے دیکھا، آپ ﷺ اپنے دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں کو چہرے کے سامنے کر کے اس طرح دعا مانگ رہے تھے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور عمیر مولیٰ آبي اللحم کو شرف صحابیت حاصل ہے۔ اور اس کی صحت کی دلیل (اگلی حدیث میں ہے):
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور عمیر مولیٰ آبي اللحم کو شرف صحابیت حاصل ہے۔ اور اس کی صحت کی دلیل (اگلی حدیث میں ہے):
حدَّثَناه علي بن حَمْشاذَ، حدثنا محمد بن نُعَيم، حدثنا قُتيبة، حدثنا بِشْر بن المفضَّل، عن محمد بن زيد، عن عُمَير مولى آبي اللَّحم قال: شهدتُ خيبرَ مع سادتي، فكلَّموا رسول الله ﷺ فيَّ، وأخبروه أني مملوك، فأمرني فقُلِّدتُ السيف، فإذا أنا أَجُرُّه، فأَمَر لي بشيءٍ من خُرْثِيِّ المتاع، وعَرَضتُ عليه رُقْيةً كنتُ أَرقي بها المجانين، فأَمَرَني بطَرْح بعضِها وحبْسِ بعضِها (1).
حافظ طلحہ بابر
محمد بن زید، عمیر مولیٰ آبي اللحم رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: ”میں اپنے آقاؤں کے ساتھ غزوہ خیبر میں شریک ہوا، تو انہوں نے میرے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے بات کی اور آپ ﷺ کو بتایا کہ میں ایک غلام ہوں، پس آپ ﷺ نے مجھے حکم دیا تو مجھے تلوار پہنائی گئی لیکن (چھوٹا ہونے کی وجہ سے) میں اسے زمین پر گھسیٹ رہا تھا، پھر آپ ﷺ نے میرے لیے گھریلو سامان کے کچھ حصے کا حکم دیا، اور میں نے آپ ﷺ کے سامنے ایک دم پیش کیا جس سے میں پاگلوں کو دم کیا کرتا تھا، تو آپ ﷺ نے مجھے اس کے کچھ حصے کو چھوڑنے اور کچھ حصے کو باقی رکھنے کا حکم دیا۔“