حدیث نمبر: 1237
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفان العامِريُّ، حدثنا محمد بن عُبيد، حدثنا مِسْعَر بن كِدَام، عن يزيد الفَقِير، عن جابر بن عبد الله قال: أتتِ النبيَّ ﷺ بَوَاكٍ، فقال: "اللهمَّ اسقِنا غيثًا مُغيثًا مَرِيئًا مَرِيعًا، عاجلًا غيرَ آجل، نافعًا غير ضارّ" فأطبقَت عليهم (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر

یزید فقیر، سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: نبی کریم ﷺ کے پاس کچھ رونے والیاں آئیں (جو قحط کی شکایت کر رہی تھیں)، تو آپ ﷺ نے دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ اسْقِنَا غَيْثًا مُغِيثًا مَرِيئًا مَرِيعًا، عَاجِلًا غَيْرَ آجِلٍ، نَافِعًا غَيْرَ ضَارٍّ» ”اے اللہ! ہمیں ایسی بارش عطا فرما جو فریاد رس ہو، خوشگوار ہو، سرسبز و شاداب کرنے والی ہو، جلد آنے والی ہو دیر سے نہیں، اور نفع بخش ہو نقصان دہ نہ ہو۔“ پس ان پر بادل چھا گئے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الاستسقاء / حدیث: 1237
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، محمد بن عبيد: هو الطنافسي» [ترقيم الرساله 1237] [ترقيم الشركة 1226]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. محمد بن عبيد: هو الطنافسي.
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔ محمد بن عبید سے مراد الطنافسی ہیں۔
وأخرجه أبو داود (1169) عن ابن أبي خلف، عن محمد بن عبيد، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (1169) نے ابن ابی خلف عن محمد بن عبید کی سند سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
ويشهد له حديث ابن عباس عند ابن ماجه (1270)، ورجاله ثقات، إلا أنه اختلف في وصله وإرساله أيضًا.
متابعات و شواہد: ابن عباس کی روایت (ابن ماجہ 1270) اس کی شاہد ہے جس کے راوی ثقہ ہیں، مگر اس کے موصل و مرسل ہونے میں اختلاف ہے۔
وحديث كعب بن مرة عند ابن ماجه أيضًا (1269)، ورجاله ثقات إلّا أنَّ في إسناده انقطاعًا، ولكنه يصلح للشواهد.
متابعات و شواہد: کعب بن مرہ کی روایت (ابن ماجہ 1269) بھی شاہد بن سکتی ہے اگرچہ اس میں انقطاع (ٹوٹنا) ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1237 سے ماخوذ ہے۔