حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا محمد بن إسماعيل بن مِهْران، حدثنا هارون بن سعيد الأَيْلي، حدثني خالد بن نِزَار، حدثنا القاسم بن مبرور، عن يونس بن يزيد، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة قالت: شكا الناسُ إلى رسول الله ﷺ قُحُوطَ المطر، فأمر بمِنبَر فوضع له في المصلَّى، ووَعَدَ الناس يومًا يخرُجون فيه، قالت عائشة: فخرج رسول الله ﷺ حين بَدَا حاجبُ الشمس، فقعد على المِنبَر فكبَّر وحَمِدَ الله ثم قال: "إنكم شَكَوتم جَدْبَ ديارِكم، واستِئخارَ المطرِ عن إبّانِ زمانِه، وقد أَمَرَكم الله أن تَدْعُوه، ووَعَدَكم أن يستجيبَ لكم" ثم قال: " ﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (2) الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ (3) مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ﴾، لا إله إلا الله، يَفعلُ ما يريد، اللهم أنتَ الله لا إله إلّا أنتَ الغنيُّ ونحن الفقراء، أنزِلْ علينا الغَيْث، واجعلْ ما أنزلتَ لنا قوةً وبَلاغًا إلى حِين"، ثم رَفَعَ يديه، فلم يَزَلْ في الرفع حتى بَدَا بياضُ إبْطَيه، ثم حوَّل إلى الناس ظَهرَه وقَلَبَ - أو حوَّل - رِداءَه وهو رافعٌ يديه، ثم أقبَلَ على الناس ونَزَلَ فصلى ركعتين، فأنشأَ الله سحابًا فرَعَدَتْ وبَرَقَتْ، ثم أمطَرَتْ بإذن الله، فلم يأتِ مسجدَه حتى سالتِ السُّيول، فلمَّا رأى سُرعتَهم إلى الكِنِّ ضَحِكَ حتى بَدَتْ نواجِذُه، فقال: "أشهدُ أن الله على كل شيءٍ قدير، وأني عبدُ الله ورسولُه" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
ہشام بن عروہ اپنے والد سے اور وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے بارش نہ ہونے کی شکایت کی، تو آپ ﷺ نے ایک منبر کا حکم دیا جو آپ ﷺ کے لیے عیدگاہ میں رکھ دیا گیا، اور آپ ﷺ نے لوگوں سے ایک دن کا وعدہ کیا جس میں وہ سب نکلیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ ﷺ اس وقت نکلے جب سورج کا کنارہ ظاہر ہوا، پس آپ ﷺ منبر پر بیٹھے، اللہ کی تکبیر اور حمد بیان کی پھر فرمایا: ”تم نے اپنے علاقوں کی قحط سالی اور بارش کے اپنے مقررہ وقت سے تاخیر کی شکایت کی ہے، اور بے شک اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے کہ تم اس سے دعا کرو اور اس نے تم سے وعدہ کیا ہے کہ وہ تمہاری دعا قبول فرمائے گا۔“ پھر آپ ﷺ نے دعا فرمائی: ﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ﴾ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، يَفْعَلُ مَا يُرِيدُ، اللَّهُمَّ أَنْتَ اللّٰهُ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ الْغَنِيُّ وَنَحْنُ الْفُقَرَاءُ، أَنْزِلْ عَلَيْنَا الْغَيْثَ، وَاجْعَلْ مَا أَنْزَلْتَ لَنَا قُوَّةً وَبَلَاغًا إِلَى حِينٍ» ”سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے، نہایت مہربان، بہت رحم کرنے والا ہے، جزا کے دن کا مالک ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے، اے اللہ! تو ہی اللہ ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو غنی ہے اور ہم محتاج ہیں، ہم پر بارش نازل فرما اور جو کچھ تو ہم پر نازل فرمائے اسے ہمارے لیے ایک مدت تک قوت اور پہنچنے کا ذریعہ بنا دے۔“ پھر آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ اٹھائے اور انہیں اتنی دیر تک اٹھائے رکھا کہ آپ ﷺ کی بغلوں کی سفیدی ظاہر ہونے لگی، پھر آپ ﷺ نے لوگوں کی طرف اپنی پیٹھ پھیر لی اور اپنے ہاتھ اٹھائے ہوئے ہی اپنی چادر کو پلٹا، پھر آپ ﷺ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور نیچے اترے اور دو رکعت نماز پڑھائی، پس اللہ تعالیٰ نے بادل پیدا کیے جن میں گرج اور چمک تھی، پھر اللہ کے حکم سے بارش ہوئی، اور آپ ﷺ ابھی اپنی مسجد تک نہیں پہنچے تھے کہ نالے بہہ نکلے، پس جب آپ ﷺ نے لوگوں کو سائے کی طرف جلدی بھاگتے ہوئے دیکھا تو آپ ﷺ ہنس پڑے یہاں تک کہ آپ ﷺ کے مبارک دانت ظاہر ہو گئے، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے، اور بے شک میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا إبراهيم بن مرزوق، حدثنا وَهْب بن جَرِير، حدثنا شُعبة. وأخبرني عبد الرحمن بن الحُصَين القاضي بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا شعبة، عن عمرو بن مُرَّة، عن سالم بن أبي الجعد، عن شُرَحْبيل بن السِّمْط، أنه قال لكعب بن مُرَّة أو مُرَّة بن كعب: حدِّثنا حديثًا سمعتَه من رسول الله ﷺ، قال: سمعت رسول الله ﷺ دعا على مُضَر، فأتيته فقلت: يا رسول الله، إنَّ الله قد أعطاك واستجاب لك، وإنَّ قومَك قد هلكوا، فادْعُ الله لهم، فقال: "اللهمَّ اسقنا غيثًا مُغيثًا، مَريئًا سريعًا، غَدَقًا طَبَقًا، عاجلًا غيرَ رائثٍ، نافعًا غيرَ ضارّ"، فما كانت إلّا جمعةٌ أو نحوُها حتى سُقُوا (1).
هذا حديث صحيح إسناده على شرط الشيخين، فإنّ بهزَ بن أسَد العَمِّي الثقة الثَّبْت قد رواه عن شعبة بإسناده عن مُرَّةَ بن كعب ولم يَشُكَّ فيه، ومُرَّة بن كعب البَهْزيّ صحابيٌّ مشهور:
هذا حديث صحيح إسناده على شرط الشيخين، فإنّ بهزَ بن أسَد العَمِّي الثقة الثَّبْت قد رواه عن شعبة بإسناده عن مُرَّةَ بن كعب ولم يَشُكَّ فيه، ومُرَّة بن كعب البَهْزيّ صحابيٌّ مشهور:
حافظ طلحہ بابر
سالم بن ابی جعد، شرحبیل بن سمط سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کعب بن مرہ یا مرہ بن کعب سے کہا: ہمیں کوئی ایسی حدیث بیان کریں جو آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہو۔ انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو قبیلہ مضر کے خلاف بددعا کرتے ہوئے سنا، تو میں آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یقیناً اللہ تعالیٰ نے آپ کو (بہت کچھ) عطا فرمایا ہے اور آپ کی دعا قبول فرمائی ہے، اور (اس وقت) آپ کی قوم ہلاک ہو رہی ہے، پس آپ ان کے لیے اللہ سے دعا فرمائیں۔ تو آپ ﷺ نے (بارش کے لیے) دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ اسْقِنَا غَيْثًا مُغِيثًا، مَرِيئًا سَرِيعًا، غَدَقًا طَبَقًا، عَاجِلًا غَيْرَ رَائِثٍ، نَافِعًا غَيْرَ ضَارٍّ» ”اے اللہ! ہمیں ایسی بارش عطا فرما جو فریاد رس ہو، خوشگوار ہو اور جلد برسنے والی ہو، موسلادھار ہو اور سب کو گھیر لینے والی ہو، جلدی آنے والی ہو تاخیر کرنے والی نہ ہو، نفع بخش ہو نقصان دہ نہ ہو۔“ پس ایک جمعہ یا اس کے لگ بھگ ہی گزرا تھا کہ انہیں بارش عطا کر دی گئی۔
اس حدیث کی سند شیخین کی شرط پر صحیح ہے، کیونکہ بہز بن اسد عمی جو ثقہ اور ثبت ہیں، انہوں نے اسے شعبہ سے، انہوں نے اپنی سند کے ساتھ مرہ بن کعب سے روایت کیا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کیا، اور مرہ بن کعب بہزی مشہور صحابی ہیں۔
اس حدیث کی سند شیخین کی شرط پر صحیح ہے، کیونکہ بہز بن اسد عمی جو ثقہ اور ثبت ہیں، انہوں نے اسے شعبہ سے، انہوں نے اپنی سند کے ساتھ مرہ بن کعب سے روایت کیا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کیا، اور مرہ بن کعب بہزی مشہور صحابی ہیں۔
حدَّثَناه أبو علي الحسين بن علي الحافظ، أخبرنا محمد بن محمد بن سليمان، حدثنا عليُّ بن عبد الله المَديني، حدثنا بَهْزُ بن أسد، حدثنا شعبة، عن عمرو بن مُرَّة، عن سالم بن أبي الجعد، عن شُرَحْبيل بن السِّمْط، عن مُرَّة بن كعب: أنَّ رسول الله ﷺ دعا في الاستسقاء فقال: "اللهم اسقنا غيثًا مُغيثًا، مَريئًا سريعًا، غَدَقًا طَبَقًا، عاجلًا غير رائثٍ، نافعًا غيرَ ضارّ"، فما كانت إلّا جمعةٌ أو نحوُها حتى سُقُوا (1). آخر كتاب الاستسقاء [من كتاب الكسوف]
حافظ طلحہ بابر
شرحبیل بن سمط، مرہ بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ: رسول اللہ ﷺ نے نماز استسقاء میں یہ دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ اسْقِنَا غَيْثًا مُغِيثًا، مَرِيئًا سَرِيعًا، غَدَقًا طَبَقًا، عَاجِلًا غَيْرَ رَائِثٍ، نَافِعًا غَيْرَ ضَارٍّ» ”اے اللہ! ہمیں ایسی بارش عطا فرما جو فریاد رس ہو، خوشگوار ہو اور جلد برسنے والی ہو، موسلادھار ہو اور سب کو گھیر لینے والی ہو، جلدی آنے والی ہو تاخیر کرنے والی نہ ہو، نفع بخش ہو نقصان دہ نہ ہو۔“ پس ایک جمعہ یا اس کے لگ بھگ ہی گزرا تھا کہ انہیں بارش عطا کر دی گئی۔