المستدرك على الصحيحين
كتاب الاستسقاء— بارش طلب کرنے کی نماز کا بیان
تَقْلِيبُ الرِّدَاءِ وَالتَّكْبِيرَاتُ وَالْقِرَاءَةُ فِي صَلَاةِ الِاسْتِسْقَاءِ باب: نمازِ استسقاء میں چادر پلٹنا، تکبیریں کہنا اور قراءت کرنا۔
حدثني علي بن حَمْشاذ العدل، حدثنا هشام بن عليٍّ السَّدُوسي، حدثني سَهْلُ بن بَكَّار، حدثنا محمد بن عبد العزيز بن عبد الملك، عن أبيه، عن طلحة بن يحيى قال: أرسلني مروانُ إلى ابن عباس أسأله عن سُنَّة الاستسقاء، فقال: سُنَّة الاستسقاء سُنَّةُ الصلاة في العيدين، إلّا أنَّ رسول الله ﷺ قَلَبَ رِداءَه فجعل يمينه على يساره، ويسارَه على يمينه، فصلى الركعتين، فكبَّر في الأولى سبع تكبيرات، وقرأ ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾، وقرأ في الثانية ﴿هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ﴾، وكبَّر فيها خَمسَ تكبيرات (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
طلحہ بن یحییٰ بیان کرتے ہیں کہ مروان نے مجھے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس نماز استسقاء کا طریقہ پوچھنے کے لیے بھیجا، تو انہوں نے فرمایا: ”نماز استسقاء کا طریقہ عیدین کی نماز جیسا ہی ہے، سوائے اس کے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی چادر کو پلٹا، پس اس کے دائیں حصے کو بائیں طرف اور بائیں حصے کو دائیں طرف کر دیا، پھر آپ ﷺ نے دو رکعتیں پڑھائیں، پہلی رکعت میں سات تکبیریں کہیں اور ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ کی تلاوت فرمائی، اور دوسری رکعت میں ﴿هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ﴾ کی تلاوت فرمائی، اور اس میں پانچ تکبیریں کہیں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: (2) یہ سند "انتہائی ضعیف" ہے؛ محمد بن عبدالعزیز متروک ہے اور اس کا والد مجہول ہے، تاہم اگلی حدیث اس سے بے نیاز کر دیتی ہے۔