کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: جب یہ معلوم نہ ہو کہ کتنی رکعتیں پڑھی ہیں تو دو سجدے سہو کرنا۔
حدثنا أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه، أخبرنا علي بن الحَسَن بن بَيَان، حدثنا عبد الله بن رَجَاء، أخبرنا حرب بن شَدَّاد، أخبرنا يحيى بن أبي كَثِير، حدثني عِيَاض قال: سألتُ أبا سعيد الخُدْري فقلت: أحدُنا يصلي فلا يدري كم صلى، قال: قال لنا رسول الله ﷺ: "إذا صلَّى أحدكم فلم يَدْرِ كم صلَّى، فليسجد سجدتين، وإذا جاء أحدَكُم الشيطانُ فقال: إنك قد أحدثْتَ، فليقل: كذبتَ، إلّا ما وَجَدَ رِيحًا بأنفه، أو سَمِع صوتًا بأُذنِه" (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ان سے سوال کیا کہ ہم میں سے کوئی نماز پڑھتا ہے اور اسے یہ معلوم نہیں رہتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھ لی ہیں، تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم سے فرمایا تھا: ”جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے اور اسے یہ یاد نہ رہے کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں، تو وہ (سہو کے) دو سجدے کرے، اور جب تمہارے پاس شیطان آئے اور کہے کہ تم بے وضو ہو گئے ہو، تو وہ (اپنے دل میں) کہے: «کذبتَ» ”تو نے جھوٹ بولا ہے“، الا یہ کہ وہ اپنی ناک سے بو محسوس کرے یا اپنے کان سے آواز سن لے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو علي الحسين بن علي الحافظ، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد السلام، حدثنا جعفر بن محمد بن الفُضَيل الراسِيّ، حدثنا عمَّار بن مَطَر الرُّهَاوي، حدثنا عبد الرحمن بن ثابت، عن أبيه، عن مكحول، عن كُرَيب مولى ابن عباس، عن ابن عباس، عن عبد الرحمن بن عوف قال: قال رسول الله ﷺ: "مَن سَها في صلاتِه في ثلاثٍ وأربعٍ فليُتمَّ، فإِنَّ الزيادةَ خيرٌ من النُّقْصان" (1).
هذا حديث مفسَّرٌ صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث مفسَّرٌ صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس سے اپنی نماز کی تین یا چار رکعتوں میں سہو ہو جائے تو وہ اسے پورا کرے، کیونکہ (رکعت کی) زیادتی کمی سے بہتر ہے۔“
یہ حدیث مفسر اور صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث مفسر اور صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني أبو الحسن أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدَّارِمي، حدثنا يحيى بن صالح الوُحَاظي، حدثنا أبو بكر العَنْسي، عن يزيد بن أبي حَبِيب، عن سالم بن عبد الله بن عمر، عن أبيه، عن النبي ﷺ قال: "لا سَهْوَ فِي وَثْبةِ الصلاة إلّا قيامٌ عن جلوس، أو جلوسٌ عن قيام" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”نماز کی ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف منتقلی میں سہو کا کوئی اعتبار نہیں ہے، سوائے اس کے کہ وہ بیٹھنے کی جگہ کھڑا ہو جائے یا کھڑے ہونے کی جگہ بیٹھ جائے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنْبَري وأبو بكر محمد بن جعفر المُزكِّي، قالا: حدثنا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم العَبْدي، حدثنا أحمد بن أبي شُعيب الحرَّاني، حدثنا محمد بن سَلَمة، عن محمد بن إسحاق، عن مكحول، عن كُرَيب، عن ابن عباس قال: جلستُ إلى عمر بن الخطاب وهو خليفة، فقال: يا ابن عباس، ما سمعتَ من رسول الله ﷺ أو من أحدٍ من أصحابه ما يَذكُر ما أَمرَ به رسولُ الله ﷺ إذا سها المرءُ في صلاته؟ قلت: لا، أوَما سمعتَ يا أميرَ المؤمنين؟ قال: لا، فدخل علينا عبدُ الرحمن بن عوف فقال: فيما أنتما؟ فقال عمر: سألتُه هل سَمِع رسولَ الله ﷺ أو من أحدٍ من أصحابه يَذكُر ما أَمَر به رسول الله ﷺ إذا سَها المرءُ في صلاته؟ فقال عبد الرحمن: عندي علمُ ذلك، فقال عمر: هَلُمَّ؛ فأنت العدل الرضا، فقال عبد الرحمن: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "إذا شَكَّ أحدُكم في الاثنتين فليَجعلْهما واحدةً، وإذا شَكَّ في الاثنتين والثلاث فليَجعلْهما اثنتين، وإذا شَكَّ في الثلاث والأربع فليَجعلْهما ثلاثًا، ثم يُتمُّ ما بقي من صلاتِه حتى يكونَ الوهمُ في الزيادة، ثم يَسجُد سجدتينِ وهو جالسٌ قبل أن يُسلِّم" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، شاهدٌ لحديث عبد الرحمن بن ثابت بن ثوبان الذي أمليتُ قبل هذا بحديثين.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، شاهدٌ لحديث عبد الرحمن بن ثابت بن ثوبان الذي أمليتُ قبل هذا بحديثين.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا جب وہ خلیفہ تھے، تو انہوں نے فرمایا: اے ابن عباس! کیا تم نے رسول اللہ ﷺ یا ان کے کسی صحابی سے ایسی کوئی بات سنی ہے جس میں یہ ذکر ہو کہ جب آدمی اپنی نماز میں بھول جائے تو رسول اللہ ﷺ نے کیا حکم دیا ہے؟ میں نے عرض کیا: نہیں، اے امیر المؤمنین! کیا آپ نے بھی کچھ نہیں سنا؟ انہوں نے کہا: نہیں، اتنے میں سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے اور پوچھا: تم دونوں کس بارے میں گفتگو کر رہے ہو؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے ان سے پوچھا ہے کہ کیا انہوں نے رسول اللہ ﷺ یا آپ کے صحابہ سے نماز میں سہو کے حکم کے بارے میں کچھ سنا ہے؟ تو عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرے پاس اس کا علم ہے، عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: (بیان کریں) آپ ہمارے نزدیک عادل اور پسندیدہ ہیں، تو عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جب تم میں سے کسی کو دو رکعتوں میں شک ہو تو وہ انہیں ایک قرار دے، اور جب دو اور تین میں شک ہو تو انہیں دو قرار دے، اور جب تین اور چار میں شک ہو تو انہیں تین قرار دے، پھر اپنی بقیہ نماز پوری کرے یہاں تک کہ وہ وہم زیادتی میں بدل جائے، پھر وہ سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے ہوئے سہو کے دو سجدے کرے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے اور یہ اس سے دو حدیث پہلے مذکور عبدالرحمن بن ثابت بن ثوبان کی حدیث کا شاہد ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے اور یہ اس سے دو حدیث پہلے مذکور عبدالرحمن بن ثابت بن ثوبان کی حدیث کا شاہد ہے۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا إبراهيم بن مُنقِذ الخَوْلاني، حدثنا إدريس بن يحيى، حدثنا بَكْر بن مُضَر، عن يزيد بن أبي حَبِيب، أنه سَمِع عبد الرحمن بن شُمَاسة المَهْريَّ يقول: صلى بنا عقبةُ بن عامر الجُهَني، فقام وعليه جلوسٌ، فقال الناس: سبحان الله، سبحان الله، فلم يجلِسْ، ومضى على قيامِه، فلمَّا كان في آخر صلاتِه سَجَدَ سجدتين وهو جالس، فلمَّا سلَّم قال: إني سمعتُكم آنفًا تقولون: سبحان الله، لِكَيما أَجلِسَ، لكنَّ السُّنةَ الذي صنعتُ (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. [من كتاب الاستسقاء]
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. [من كتاب الاستسقاء]
حافظ طلحہ بابر
عبد الرحمن بن شماسہ مہری بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی، وہ (دوسری رکعت کے بعد) قعدہ کرنے کے بجائے کھڑے ہو گئے، لوگوں نے «سبحان الله، سبحان الله» ”اللہ پاک ہے“ کہا لیکن وہ نہیں بیٹھے اور اپنے قیام کو جاری رکھا، پھر جب وہ اپنی نماز کے آخری حصے میں پہنچے تو انہوں نے بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کیے، پھر سلام پھیرنے کے بعد فرمایا: میں نے ابھی تمہیں «سبحان الله» کہتے ہوئے سنا تاکہ میں بیٹھ جاؤں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ سنت وہی ہے جو میں نے کیا ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔