المستدرك على الصحيحين
كتاب السهو— سجدہ سہو کا بیان
سَجْدَتَا السَّهْوِ إِذَا لَمْ يَدْرِ كَمْ صَلَّى باب: جب یہ معلوم نہ ہو کہ کتنی رکعتیں پڑھی ہیں تو دو سجدے سہو کرنا۔
حدثنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنْبَري وأبو بكر محمد بن جعفر المُزكِّي، قالا: حدثنا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم العَبْدي، حدثنا أحمد بن أبي شُعيب الحرَّاني، حدثنا محمد بن سَلَمة، عن محمد بن إسحاق، عن مكحول، عن كُرَيب، عن ابن عباس قال: جلستُ إلى عمر بن الخطاب وهو خليفة، فقال: يا ابن عباس، ما سمعتَ من رسول الله ﷺ أو من أحدٍ من أصحابه ما يَذكُر ما أَمرَ به رسولُ الله ﷺ إذا سها المرءُ في صلاته؟ قلت: لا، أوَما سمعتَ يا أميرَ المؤمنين؟ قال: لا، فدخل علينا عبدُ الرحمن بن عوف فقال: فيما أنتما؟ فقال عمر: سألتُه هل سَمِع رسولَ الله ﷺ أو من أحدٍ من أصحابه يَذكُر ما أَمَر به رسول الله ﷺ إذا سَها المرءُ في صلاته؟ فقال عبد الرحمن: عندي علمُ ذلك، فقال عمر: هَلُمَّ؛ فأنت العدل الرضا، فقال عبد الرحمن: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "إذا شَكَّ أحدُكم في الاثنتين فليَجعلْهما واحدةً، وإذا شَكَّ في الاثنتين والثلاث فليَجعلْهما اثنتين، وإذا شَكَّ في الثلاث والأربع فليَجعلْهما ثلاثًا، ثم يُتمُّ ما بقي من صلاتِه حتى يكونَ الوهمُ في الزيادة، ثم يَسجُد سجدتينِ وهو جالسٌ قبل أن يُسلِّم" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، شاهدٌ لحديث عبد الرحمن بن ثابت بن ثوبان الذي أمليتُ قبل هذا بحديثين.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا جب وہ خلیفہ تھے، تو انہوں نے فرمایا: اے ابن عباس! کیا تم نے رسول اللہ ﷺ یا ان کے کسی صحابی سے ایسی کوئی بات سنی ہے جس میں یہ ذکر ہو کہ جب آدمی اپنی نماز میں بھول جائے تو رسول اللہ ﷺ نے کیا حکم دیا ہے؟ میں نے عرض کیا: نہیں، اے امیر المؤمنین! کیا آپ نے بھی کچھ نہیں سنا؟ انہوں نے کہا: نہیں، اتنے میں سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے اور پوچھا: تم دونوں کس بارے میں گفتگو کر رہے ہو؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے ان سے پوچھا ہے کہ کیا انہوں نے رسول اللہ ﷺ یا آپ کے صحابہ سے نماز میں سہو کے حکم کے بارے میں کچھ سنا ہے؟ تو عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرے پاس اس کا علم ہے، عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: (بیان کریں) آپ ہمارے نزدیک عادل اور پسندیدہ ہیں، تو عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جب تم میں سے کسی کو دو رکعتوں میں شک ہو تو وہ انہیں ایک قرار دے، اور جب دو اور تین میں شک ہو تو انہیں دو قرار دے، اور جب تین اور چار میں شک ہو تو انہیں تین قرار دے، پھر اپنی بقیہ نماز پوری کرے یہاں تک کہ وہ وہم زیادتی میں بدل جائے، پھر وہ سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے ہوئے سہو کے دو سجدے کرے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے اور یہ اس سے دو حدیث پہلے مذکور عبدالرحمن بن ثابت بن ثوبان کی حدیث کا شاہد ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: (1) "حسن لغیرہ" ہے؛ محمد بن اسحاق حسن الحدیث ہیں، اگرچہ اس کے موصول اور مرسل ہونے میں اختلاف ہے۔ حسین بن عبداللہ ضعیف ہیں مگر شواہد موجود ہیں۔
وأخرجه ابن ماجه (1209) عن محمد بن أحمد الصيدلاني، عن محمد بن سلمة، بهذا الإسناد. لم يذكر فيه قصة عمر بن الخطاب.
حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ (1209) نے محمد بن احمد الصیدلانی کی سند سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے مگر اس میں حضرت عمر کا واقعہ نہیں۔
وأخرجه أحمد 3/ (1656)، والترمذي (398) من طريق إبراهيم بن سعد، عن محمد بن إسحاق، به. ولم يذكر الترمذي فيه قصة عمر. قال الترمذي: حديث حسن صحيح، وقد روي هذا الحديث عن عبد الرحمن بن عوف من غير هذا الوجه؛ رواه الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، عن ابن عباس، عن عبد الرحمن بن عوف، عن النبي ﷺ. قلنا: رواية الزهري هذه أخرجها أحمد في "المسند" 3/ (1689) من طريق إسماعيل بن مسلم المكي عنه، وهو واهٍ متروك الحديث، وتابعه سفيان بن حسين عن الزهري عن الدارقطني (1415)، وهذا أيضًا ضعيف.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (1656/3) اور ترمذی (398) نے ابراہیم بن سعد عن محمد بن اسحاق کی سند سے روایت کیا ہے۔ ترمذی نے اسے "حسن صحیح" کہا اور زہری کی روایت کا بھی ذکر کیا جو کہ واہی (بہت کمزور) ہے۔