المستدرك على الصحيحين
كتاب السهو— سجدہ سہو کا بیان
سَجْدَتَا السَّهْوِ إِذَا لَمْ يَدْرِ كَمْ صَلَّى باب: جب یہ معلوم نہ ہو کہ کتنی رکعتیں پڑھی ہیں تو دو سجدے سہو کرنا۔
حدیث نمبر: 1227
أخبرني أبو الحسن أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدَّارِمي، حدثنا يحيى بن صالح الوُحَاظي، حدثنا أبو بكر العَنْسي، عن يزيد بن أبي حَبِيب، عن سالم بن عبد الله بن عمر، عن أبيه، عن النبي ﷺ قال: "لا سَهْوَ فِي وَثْبةِ الصلاة إلّا قيامٌ عن جلوس، أو جلوسٌ عن قيام" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”نماز کی ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف منتقلی میں سہو کا کوئی اعتبار نہیں ہے، سوائے اس کے کہ وہ بیٹھنے کی جگہ کھڑا ہو جائے یا کھڑے ہونے کی جگہ بیٹھ جائے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده ضعيف لجهالة أبي بكر العنسي.
درجۂ حدیث: (2) ابوبکر العنسی کی جہالت کی وجہ سے سند ضعیف ہے۔
وأخرجه البيهقي 2/ 344 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد. وقال بإثره: وهذا حديث ينفرد به أبو بكر العنسي، وهو مجهول.
حوالہ / مصدر: اسے بیہقی (344/2) نے حاکم کی سند سے روایت کر کے فرمایا کہ ابوبکر العنسی اس میں منفرد اور مجہول ہے۔
وأخرجه الدارقطني (1414)، والبيهقي 2/ 344 من طريق عبد الله بن حماد الآملي، عن يحيى بن صالح الوحاظي، به.
حوالہ / مصدر: اسے دارقطنی (1414) نے عبداللہ بن حماد عن یحییٰ بن صالح کی سند سے روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: (2) ابوبکر العنسی کی جہالت کی وجہ سے سند ضعیف ہے۔
وأخرجه البيهقي 2/ 344 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد. وقال بإثره: وهذا حديث ينفرد به أبو بكر العنسي، وهو مجهول.
حوالہ / مصدر: اسے بیہقی (344/2) نے حاکم کی سند سے روایت کر کے فرمایا کہ ابوبکر العنسی اس میں منفرد اور مجہول ہے۔
وأخرجه الدارقطني (1414)، والبيهقي 2/ 344 من طريق عبد الله بن حماد الآملي، عن يحيى بن صالح الوحاظي، به.
حوالہ / مصدر: اسے دارقطنی (1414) نے عبداللہ بن حماد عن یحییٰ بن صالح کی سند سے روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1227 سے ماخوذ ہے۔