المستدرك على الصحيحين
كتاب السهو— سجدہ سہو کا بیان
سَجْدَتَا السَّهْوِ إِذَا لَمْ يَدْرِ كَمْ صَلَّى باب: جب یہ معلوم نہ ہو کہ کتنی رکعتیں پڑھی ہیں تو دو سجدے سہو کرنا۔
حدیث نمبر: 1229
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا إبراهيم بن مُنقِذ الخَوْلاني، حدثنا إدريس بن يحيى، حدثنا بَكْر بن مُضَر، عن يزيد بن أبي حَبِيب، أنه سَمِع عبد الرحمن بن شُمَاسة المَهْريَّ يقول: صلى بنا عقبةُ بن عامر الجُهَني، فقام وعليه جلوسٌ، فقال الناس: سبحان الله، سبحان الله، فلم يجلِسْ، ومضى على قيامِه، فلمَّا كان في آخر صلاتِه سَجَدَ سجدتين وهو جالس، فلمَّا سلَّم قال: إني سمعتُكم آنفًا تقولون: سبحان الله، لِكَيما أَجلِسَ، لكنَّ السُّنةَ الذي صنعتُ (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. [من كتاب الاستسقاء]
حافظ طلحہ بابر
عبد الرحمن بن شماسہ مہری بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی، وہ (دوسری رکعت کے بعد) قعدہ کرنے کے بجائے کھڑے ہو گئے، لوگوں نے «سبحان الله، سبحان الله» ”اللہ پاک ہے“ کہا لیکن وہ نہیں بیٹھے اور اپنے قیام کو جاری رکھا، پھر جب وہ اپنی نماز کے آخری حصے میں پہنچے تو انہوں نے بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کیے، پھر سلام پھیرنے کے بعد فرمایا: میں نے ابھی تمہیں «سبحان الله» کہتے ہوئے سنا تاکہ میں بیٹھ جاؤں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ سنت وہی ہے جو میں نے کیا ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح.
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه ابن حبان (1940) من طريق قتيبة بن سعيد، عن بكر بن مضر، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان (1940) نے قتیبہ بن سعید عن بکر بن مضر کی سند سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه ابن حبان (1940) من طريق قتيبة بن سعيد، عن بكر بن مضر، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان (1940) نے قتیبہ بن سعید عن بکر بن مضر کی سند سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1229 سے ماخوذ ہے۔