حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أحمد بن إبراهيم بن مِلْحان، حدثنا عَمرو بن خالد الحرَّاني، حدثنا زهير، عن أبي إسحاق، عن أبي الأحْوَص، عن عبد الله، أنَّ النبيَّ ﷺ قال لِقومٍ يتخلفون عن الجمعة: "لقد هَمَمْتُ أن آمُرَ رجلًا يصلي بالناس، ثم أُحرِّقَ على قومٍ يتخلفون عن الجمعة بُيوتَهم" (3). وهكذا رواه أبو داود الطيالسي عن زهير (4)، وهو صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه هكذا، إنما خرَّجاه بذكر العَتَمة وسائر الصلوات (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1080 - على شرطهما
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1080 - على شرطهما
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان لوگوں کے بارے میں جو جمعہ سے پیچھے رہ جاتے ہیں فرمایا: ”یقیناً میں نے ارادہ کیا کہ کسی شخص کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے، پھر میں ان لوگوں کے گھروں کو آگ لگا دوں جو جمعہ سے پیچھے رہ جاتے ہیں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا، انہوں نے اسے عشاء اور دیگر نمازوں کے ذکر کے ساتھ روایت کیا ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا، انہوں نے اسے عشاء اور دیگر نمازوں کے ذکر کے ساتھ روایت کیا ہے۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم المِصْري، حدثنا ابن أبي فُدَيك، حدثنا ابن أبي ذئب، عن أَسِيد بن أبي أَسِيد البَرَّاد، عن عبد الله بن أبي قتادة، عن جابر بن عبد الله، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "مَن تَرَكَ الجُمعةَ ثلاثًا من غير ضَرورةٍ، طَبَعَ الله على قلبه" (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے بغیر کسی ضرورت کے تین جمعے چھوڑ دیے، اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگا دیتا ہے۔“
أخبرَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا الحسن بن علي بن زياد، حدثنا ابن أبي أُوَيس، حدثني أخي، عن سليمان بن بلال، عن أَسِيد بن أبي أَسِيد، فذكره بنحوه (3).
هذا حديث خرَّجت فيما تقدَّم من هذا الكتاب من حديث الثوري وغيره عن محمد بن عمرو بن علقمة، عن عَبِيدَةَ بن سفيان الحَضْرمي، عن أبي الجَعْد الضَّمْري، وصححتُه على شرط مسلم، وهذا الشاهد العالي وجدتُه بعدُ. وله شاهدٌ آخر من حديث محمد بن عجلان صحيحٌ على شرط مسلم، ولم يُخرجاه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1081 - صحيح
هذا حديث خرَّجت فيما تقدَّم من هذا الكتاب من حديث الثوري وغيره عن محمد بن عمرو بن علقمة، عن عَبِيدَةَ بن سفيان الحَضْرمي، عن أبي الجَعْد الضَّمْري، وصححتُه على شرط مسلم، وهذا الشاهد العالي وجدتُه بعدُ. وله شاهدٌ آخر من حديث محمد بن عجلان صحيحٌ على شرط مسلم، ولم يُخرجاه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1081 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
(امام حاکم فرماتے ہیں:) یہ وہ حدیث ہے جو میں نے اس کتاب میں پہلے ثوری وغیرہ کی سند سے «محمد بن عمرو بن علقمه عن عبيده بن سفيان حضرمي عن ابوالجعد ضمري» کی روایت سے نقل کی ہے اور اسے امام مسلم کی شرط پر صحیح قرار دیا ہے، اور یہ عالی شاہد مجھے بعد میں ملا ہے۔ اس کا ایک اور شاہد محمد بن عجلان کی حدیث سے ہے جو امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا:
حدَّثَناه أبو القاسم عبد الله بن محمد الفقيه بنَيسابور، حدثنا الحسن بن سفيان، حدثنا محمد بن بشار، حدثنا مَعْديُّ بن سليمان، حدثنا ابن عَجْلان، عن أبيه، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ قال: "ألا هل عسى أحدُكم أن يتخذَ الصُّبَّةَ من الغنم على رأس مِيلٍ أو مِيلَين، فيتعذَّرَ عليه الكَلأُ على رأس ميلٍ أو ميلينٍ، فيرتفعَ حتى تجيءَ الجمعةُ، فلا يَشهدُها حتى يُطبَع على قلبه" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1083 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1083 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”خبردار! کیا تم میں سے کوئی ایسا کر سکتا ہے کہ (ایک میل یا دو میل کے فاصلے پر) بکریوں کا ریوڑ لے کر رہے، پھر اسے ایک یا دو میل کے فاصلے پر چارہ میسر نہ آئے تو وہ (مزید دور) چلا جائے، پھر جب جمعہ کا وقت آئے تو وہ اس میں حاضر نہ ہو سکے، یہاں تک کہ اس کے دل پر مہر لگا دی جائے۔“
حدثنا أبو بكر إسماعيل بن محمد الفقيه بالرَّيّ، حدثنا أبو حاتم محمد بن إدريس، حدثنا أبو سَلَمة التَّبُوذكي، حدثنا ناصِح بن العلاء، حدثني عمار بن أبي عمار، قال: مررتُ بعبد الرحمن بن سَمُرة يوم الجمعة وهو على نهرٍ يُسيِّل الماءَ مع غِلمانِه ومَوالِيهِ، فقلت له: يا أبا سعيدٍ، الجمعةَ! فقال: قال رسول الله ﷺ: "إذا كان مطرٌ وابلٌ، فصلُّوا في رِحالِكم" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وناصح بن العلاء هذا بصريٌّ ثقة، إنما المطعونُ فيه ناصحٌ أبو عبد الله المُحَلِّميّ الكوفي، فإنه روى عن سِماك بن حَرْب المناكير.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1084 - ضعفه النسائي يعني ناصح بن العلاء وقال البخاري منكر الحديث
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وناصح بن العلاء هذا بصريٌّ ثقة، إنما المطعونُ فيه ناصحٌ أبو عبد الله المُحَلِّميّ الكوفي، فإنه روى عن سِماك بن حَرْب المناكير.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1084 - ضعفه النسائي يعني ناصح بن العلاء وقال البخاري منكر الحديث
حافظ طلحہ بابر
عمار بن ابی عمار بیان کرتے ہیں کہ میں جمعہ کے دن سیدنا عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرا جبکہ وہ اپنے غلاموں اور خادموں کے ساتھ نہر کا پانی چلا رہے تھے، میں نے ان سے کہا: اے ابوسعید! جمعہ (کا وقت ہے)! تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: ”جب موسلا دھار بارش ہو تو تم اپنی قیام گاہوں میں ہی نماز پڑھ لیا کرو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ ناصح بن علاء ثقہ بصری ہیں، جبکہ ناصح ابو عبداللہ محلمی کوفی پر جرح کی گئی ہے کیونکہ وہ سماک بن حرب سے منکر روایات نقل کرتے ہیں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ ناصح بن علاء ثقہ بصری ہیں، جبکہ ناصح ابو عبداللہ محلمی کوفی پر جرح کی گئی ہے کیونکہ وہ سماک بن حرب سے منکر روایات نقل کرتے ہیں۔