کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: جس نے جمعہ کی نماز کی ایک رکعت پا لی اس نے پوری نماز پا لی۔
حدثني علي بن العباس الإسكندرانيُّ بمكة، حدثنا الفضل بن محمد الأنطاكي، حدثنا محمد بن ميمون الإسكندراني، حدثنا الوليد بن مسلم، عن الأوزاعيّ، حدثني الزُّهريّ، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ قال: "من أدركَ مِن صلاةِ الجمعة ركعةً، فقد أدركَ الصلاة" (2)
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جس نے جمعہ کی نماز کی ایک رکعت پا لی، اس نے گویا (پوری) نماز پا لی۔“
حدثناه محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا سعيد بن أبي مريم، حدثنا يحيى بن أيوب، حدثنا أسامة بن زيد الليثي، عن ابن شِهاب، عن أبي سَلَمة بن عبد الرحمن، عن أبي هريرة، عن رسول الله ﷺ قال: "مَن أدركَ من الجمعة ركعةً فليُصلِّ إليها أخرى" (1). قال أسامة: وسمعتُ من أهل المجلس عن القاسم بن محمد وسالمٍ أنهما كانا يقولان ذلك.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1078 - ورواه صالح بن أبي الأخضر عن الزهري صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1078 - ورواه صالح بن أبي الأخضر عن الزهري صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے جمعہ کی ایک رکعت پا لی تو اسے چاہیے کہ وہ اس کے ساتھ دوسری رکعت ملا لے۔“ اسامہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے مجلس کے شرکاء سے قاسم بن محمد اور سالم کے بارے میں سنا کہ وہ دونوں بھی یہی کہا کرتے تھے۔
حدَّثَناه علي بن حَمْشَاذ، حدثنا هشام بن علي، حدثنا عبد الله بن عبد الوهَّاب الحَجَبيُّ، حدثنا حماد بن زيد، عن مالك بن أنس وصالح بن أبي الأخضر، عن الزُّهْري، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "من أدركَ من الجمعة ركعةً، فليصلِّ إليها أخرى" (2). كُلُّ هؤلاء الأسانيد الثلاثة صِحاح على شرط الشيخين! ولم يُخرجاه بهذا اللفظ، إنما اتفقا على حديث الزهري، عن أبي سلمة، عن أبي هريرة، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "مَنْ أدرك من الصَّلاة ركعةً" و"مَنْ أدرك من صلاةِ العصر ركعةً" (1). ولمسلم فيه الزيادة: "فقد أدركها كُلَّها" فقط (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے جمعہ کی ایک رکعت پا لی، تو وہ اس کے ساتھ دوسری (رکعت) ملا لے۔“
یہ تینوں اسناد شیخین کی شرط پر صحیح ہیں! لیکن انہوں نے ان الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا، انہوں نے صرف زہری کی ابوسلمہ عن ابوہریرہ والی اس روایت پر اتفاق کیا ہے جس میں ہے کہ: ”جس نے نماز کی ایک رکعت پا لی“ اور ”جس نے عصر کی ایک رکعت پا لی“، جبکہ امام مسلم کی روایت میں یہ اضافہ ہے: ”تو اس نے پوری نماز پا لی۔“
یہ تینوں اسناد شیخین کی شرط پر صحیح ہیں! لیکن انہوں نے ان الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا، انہوں نے صرف زہری کی ابوسلمہ عن ابوہریرہ والی اس روایت پر اتفاق کیا ہے جس میں ہے کہ: ”جس نے نماز کی ایک رکعت پا لی“ اور ”جس نے عصر کی ایک رکعت پا لی“، جبکہ امام مسلم کی روایت میں یہ اضافہ ہے: ”تو اس نے پوری نماز پا لی۔“