حدیث نمبر: 1095
حدَّثَناه أبو القاسم عبد الله بن محمد الفقيه بنَيسابور، حدثنا الحسن بن سفيان، حدثنا محمد بن بشار، حدثنا مَعْديُّ بن سليمان، حدثنا ابن عَجْلان، عن أبيه، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ قال: "ألا هل عسى أحدُكم أن يتخذَ الصُّبَّةَ من الغنم على رأس مِيلٍ أو مِيلَين، فيتعذَّرَ عليه الكَلأُ على رأس ميلٍ أو ميلينٍ، فيرتفعَ حتى تجيءَ الجمعةُ، فلا يَشهدُها حتى يُطبَع على قلبه" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1083 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”خبردار! کیا تم میں سے کوئی ایسا کر سکتا ہے کہ (ایک میل یا دو میل کے فاصلے پر) بکریوں کا ریوڑ لے کر رہے، پھر اسے ایک یا دو میل کے فاصلے پر چارہ میسر نہ آئے تو وہ (مزید دور) چلا جائے، پھر جب جمعہ کا وقت آئے تو وہ اس میں حاضر نہ ہو سکے، یہاں تک کہ اس کے دل پر مہر لگا دی جائے۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الجمعة / حدیث: 1095
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف بمرَّةٍ من أجل معدي بن سليمان» [ترقيم الرساله 1095] [ترقيم الشركة 1087] [ترقيم العلميه 1083]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف بمرَّةٍ من أجل معدي بن سليمان. ابن عجلان اسمه: محمد.
درجۂ حدیث: (1) معدی بن سلیمان کی وجہ سے سند "سخت ضعیف" ہے۔
وأخرجه ابن ماجه (1127) عن محمد بن بشار، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ (1127) نے محمد بن بشار کی سند سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وله شواهد عن جابر وابن عمر وحارثة بن النعمان مخرَّجة في التعليق على ابن ماجه، وكلها ضعيفة لا يعضد بعضها بعضًا.
متابعات و شواہد: اس کے شواہد جابر، ابن عمر اور حارثہ بن نعمان سے مروی ہیں مگر وہ سب ضعیف ہیں اور ایک دوسرے کو تقویت نہیں دیتے۔
قوله: "الصُّبَّة من الغنم" قال ابن الأثير: أي: جماعة منها، وقد اختلف في عددها فقيل: ما بين العشرين إلى الأربعين من الضأن والمعز، وقيل: من المعز خاصة، وقيل: نحو الخمسين، وقيل: ما بين الستين إلى السبعين، والصبة من الإبل نحو خمس أو ست.
(توضیح): "الصُّبَّة من الغنم"؛ بکریوں کا ریوڑ جس کی تعداد بیس سے چالیس یا پچاس سے ستر تک بتائی گئی ہے، جبکہ اونٹوں کا چھوٹا گروہ (پانچ یا چھ) بھی صبہ کہلاتا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1095 سے ماخوذ ہے۔