أخبرني يحيى بن منصور القاضي، حدثنا أبو بكر محمد بن النضر الجارُودي، حدثنا نصر بن علي الجَهْضَمي، حدثنا سفيان بن حَبِيب، عن خالد الحذَّاء، عن أبي قِلابة، عن أبي المَلِيح، عن أبيه: أنه شَهِدَ النبيَّ ﷺ زمنَ الحُديبية وأصابهم مطرٌ في يوم جمعةٍ لم يَبُلَّ أسفلَ نِعالِهم، فأمرَهم النبيُّ ﷺ أن يُصلُّوا في رِحالِهم (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، وقد احتجَّ الشيخان برواته، وهو من النوع الذي طلبوا المتابِع فيه للتابعي عن الصحابي (1)، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1085 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، وقد احتجَّ الشيخان برواته، وهو من النوع الذي طلبوا المتابِع فيه للتابعي عن الصحابي (1)، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1085 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
ابوملیح اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ حدیبیہ کے سال نبی کریم ﷺ کے ساتھ موجود تھے، جمعہ کے دن بارش ہوئی جس سے ان کے جوتوں کے تلوے بھی بمشکل بھیگے تھے، تب بھی نبی کریم ﷺ نے انہیں اپنی قیام گاہوں میں نماز پڑھنے کا حکم فرمایا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور شیخین نے اس کے راویوں سے احتجاج کیا ہے، اور یہ ان روایات میں سے ہے جس میں صحابی سے روایت کرنے والے تابعی کے لیے متابعت طلب کی جاتی ہے، تاہم انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور شیخین نے اس کے راویوں سے احتجاج کیا ہے، اور یہ ان روایات میں سے ہے جس میں صحابی سے روایت کرنے والے تابعی کے لیے متابعت طلب کی جاتی ہے، تاہم انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو الحسين محمد بن أحمد بن تمِيم الحنظليُّ ببغداد، حدثنا أبو قِلابة، حدثنا أبو عاصم، أخبرنا ابن جريج، أخبرني عمر بن عطاء بن أبي الخُوَار: أنَّ نافع بن جُبير أرسله إلى السائب بن يزيد ليسأله عن شيءٍ رآه منه معاوية، فقال: صليتُ معه في المقصورة فقمتُ لأصلِّيَ في مكاني، فقال: لا تصلِّ حتى تمضيَ أمام ذلك أو تَكَلَّمَ، فإنَّ رسول الله ﷺ أَمَرَنا بذلك (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1086 - على شرطهما
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1086 - على شرطهما
حافظ طلحہ بابر
عمر بن عطاء بن ابی الخوار سے مروی ہے کہ نافع بن جبیر نے انہیں سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کے پاس یہ پوچھنے کے لیے بھیجا کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کے کسی عمل پر (کیا) کہا تھا؟ سائب بن یزید نے کہا: میں نے ان کے ساتھ مقصورہ میں نماز پڑھی، پھر میں اپنی جگہ پر (نفل) پڑھنے کے لیے کھڑا ہوا، تو انہوں نے کہا: ایسا نہ کرو، جب تک کہ تم یہاں سے آگے نہ بڑھ جاؤ یا گفتگو نہ کر لو (تب تک نفل نہ پڑھو)، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اسی کا حکم دیا تھا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا!
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا!
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا ابن جُرَيج، عن نافع، عن ابن عمر قال: قال النبيُّ ﷺ: "لا يُقِمْ أحدُكم أخاه من مجلِسِه، ثم يَخلُفه فيه"، فقلت له: إنا في يوم الجمعة، قال: في يوم الجمعة وغيرها (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بزيادة ذكر الجمعة! آخر كتاب الجمعة [من كتاب صلاة العيدين]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1087 - على شرطهما ولم يخرجا آخره_x000D_ كِتَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بزيادة ذكر الجمعة! آخر كتاب الجمعة [من كتاب صلاة العيدين]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1087 - على شرطهما ولم يخرجا آخره_x000D_ كِتَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو اس کی جگہ سے نہ اٹھائے کہ پھر خود وہاں بیٹھ جائے“، میں نے پوچھا: کیا یہ حکم جمعہ کے دن کے لیے ہے؟ انہوں نے کہا: جمعہ اور دیگر تمام دنوں کے لیے ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے جمعہ کے ذکر کے اضافے کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا! [کتاب الجمعہ کا اختتام - عیدین کی نماز کے بیان کا آغاز]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے جمعہ کے ذکر کے اضافے کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا! [کتاب الجمعہ کا اختتام - عیدین کی نماز کے بیان کا آغاز]