کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: رسولُ اللہ ﷺ پہلی صف کے لیے تین مرتبہ اور دوسری صف کے لیے ایک مرتبہ مغفرت کی دعا فرمایا کرتے تھے۔
أخبرنا أبو الحسين أحمد بن عثمان الأَدَمي، حدثنا أبو قِلَابة، حدثنا سهل بن حمّاد، أخبرنا هشام بن أبي عبد الله، عن يحيى بن أبي كَثير، عن محمد بن إبراهيم التَّيْمي، عن خالد بن مَعْدان، عن العِرْباض بن سارِيَة قال: كان رسول الله ﷺ يستغفرُ للصفِّ المقدَّمِ ثلاثًا وللثاني مرَّةً (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، وقد اتَّفقا على الاحتجاج برواية غيرِ الصحابي - على ما تقدَّم ذِكري له - من أفراد التابعين (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 776 - صحيح على شرطهما
هذا حديث صحيح الإسناد، وقد اتَّفقا على الاحتجاج برواية غيرِ الصحابي - على ما تقدَّم ذِكري له - من أفراد التابعين (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 776 - صحيح على شرطهما
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ پہلی صف کے لیے تین بار اور دوسری صف کے لیے ایک بار استغفار کرتے تھے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور شیخین نے تابعین کی ایسی روایات سے احتجاج کیا ہے جو اکیلے روایت کرنے والے ہوں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور شیخین نے تابعین کی ایسی روایات سے احتجاج کیا ہے جو اکیلے روایت کرنے والے ہوں۔
أخبرني أبو الحسين (2) عبيد الله بن محمد البَلْخي التاجر، حدثنا محمد بن إسماعيل السُّلَمي، حدثنا سعيد بن الحَكَم بن أبي مريم، أخبرني عبد الله بن وهب، أخبرني ابن جُرَيج، عن عطاء بن أبي رَبَاح: أنه سمع عبدَ الله بن الزُّبير على المِنبَر يقول للناس: إذا دخل أحدُكم المسجدَ والناسُ ركوعٌ، فليَركَعْ حين يدخل ثم ليَدُبَّ راكعًا حتى يدخل في الصف، فإنَّ ذلك السُّنة. قال عطاء: وقد رأيتُه هو يفعل ذلك (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 777 - على شرطهما
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 777 - على شرطهما
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے منبر پر لوگوں سے فرمایا: جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو اور لوگ رکوع میں ہوں تو اسے داخل ہوتے ہی رکوع کر لینا چاہیے اور پھر رکوع کی حالت ہی میں چل کر صف میں شامل ہونا چاہیے، کیونکہ یہی سنت ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا علي بن عيسى الحِيري، حدثنا الحسين بن محمد القَبَّاني، حدثنا محمد بن عمر المُقدَّمي، حدثنا يوسف بن يعقوب السَّدُوسي، حدثنا سليمان التَّيْمي، عن أبي مِجلَز، عن قيس بن عُبَاد قال: بينما أنا بالمدينة في المسجد في الصفِّ المقدَّم قائمٌ أصلِّي، فجَبَذَني رجل من خلفي جَبْذةً فنحَّاني وقام مَقامي، قال: فوالله ما عَقَلتُ صلاتي، فلما انصرف فإذا هو أُبيُّ بن كعب، فقال: يا فتى، لا يَسُؤْكَ اللهُ، إِنَّ هذا عهدُ النبي ﷺ إلينا: أن نَلِيَه. ثم استَقبَل القِبلةَ فقال: هَلَكَ أَهلُ العَقْد - ثلاثًا - وربِّ الكعبة، ثم قال: واللهِ ما عليهم آسَى، ولكني آسَى على ما أَضَلُّوا. قال: قلت: مَن يَعني بهذا؟ قال: الأمراء (1).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، فقد احتجَّ بيوسف بن يعقوب السَّدُوسي، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 778 - على شرط البخاري
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، فقد احتجَّ بيوسف بن يعقوب السَّدُوسي، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 778 - على شرط البخاري
حافظ طلحہ بابر
قیس بن عباد بیان کرتے ہیں کہ میں مدینہ کی مسجد میں پہلی صف میں کھڑا نماز پڑھ رہا تھا کہ ایک شخص نے مجھے پیچھے سے کھینچ کر ہٹا دیا اور خود میری جگہ کھڑے ہو گئے۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو معلوم ہوا کہ وہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ تھے، انہوں نے فرمایا: اے نوجوان! اللہ تمہیں غمگین نہ کرے، رسول اللہ ﷺ کا ہمیں یہی حکم تھا کہ ہم (اہل علم) آپ کے قریب رہیں۔ پھر انہوں نے قبلہ رخ ہو کر تین بار فرمایا: کعبہ کے رب کی قسم! اہل عقل و تدبیر (حکمران) ہلاک ہو گئے، مجھے ان پر افسوس نہیں بلکہ ان پر افسوس ہے جنہیں انہوں نے گمراہ کیا۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، یوسف بن یعقوب سدوسی بخاری کے ثقہ راوی ہیں۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، یوسف بن یعقوب سدوسی بخاری کے ثقہ راوی ہیں۔
أخبرنا أبو الحسين محمد بن أحمد الحَنظَلي ببغداد، حدثنا أبو قِلَابة الرَّقَاشي، حدثنا أبو عاصم، حدثنا سفيان، عن عبد الله بن أبي بكر، عن سعيد بن المسيّب، عن أبي سعيد الخُدْري قال: قال رسول الله ﷺ: "إذا قال الإمامُ: الله أكبرُ، فقولوا: الله أكبرُ، فإذا قال: سَمِعَ اللهُ لمن حَمِدَه، فقولوا: ربَّنا ولك الحمدُ" (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ، وفيه سُنَّة عزيزة: وهو أن يقفَ المأمومُ حتى يكبِّر الإمامُ ولا يكبِّر معه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 779 - على شرطهما
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ، وفيه سُنَّة عزيزة: وهو أن يقفَ المأمومُ حتى يكبِّر الإمامُ ولا يكبِّر معه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 779 - على شرطهما
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب امام «اللّٰهُ أَكْبَرُ» کہے تو تم بھی «اللّٰهُ أَكْبَرُ» کہو، اور جب وہ «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہے تو تم «رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» کہو۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا، اس میں ایک اہم سنت یہ ہے کہ مقتدی اس وقت تک انتظار کرے جب تک امام تکبیر مکمل نہ کر لے اور اس کے ساتھ (یکدم) تکبیر نہ کہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا، اس میں ایک اہم سنت یہ ہے کہ مقتدی اس وقت تک انتظار کرے جب تک امام تکبیر مکمل نہ کر لے اور اس کے ساتھ (یکدم) تکبیر نہ کہے۔
أخبرنا أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أبو المثنَّى، حدثنا مُسدَّد. وحدثنا محمد بن صالح بن هانئ حدثنا محمد بن شاذانَ، حدثنا محمد بن عبد الله بن بَزِيعٍ؛ قالا: حدثنا يزيد بن زُرَيع، حدثنا سعيد، عن قَتَادة، عن الحسن: أَنَّ سَمُرَةَ بن جُندُب وعِمران بن حُصَين تَذاكَرا، فحَدَّثَ سمرةُ بن جندب: أنه حَفِظَ عن رسول الله ﷺ سَكْتتَينِ: سكْتةً إذا كبَّر، وسَكْتةً إِذا فَرَغَ من قراءته عند ركوعه (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ، إنما اتَّفقا على حديث عُمَارة بن القعقاع عن أبي زُرْعة عن أبي هريرة قال: كان النبي ﷺ إذا كبَّرَ سَكَتَ بين التكبير والقراءة (2). وحديث سَمُرة لا يَتَوهَّمُ متوهِّم أنَّ الحسن لم يسمع من سَمُرة، فإنه قد سَمِعَ منه (3). وله شاهد بإسناد صحيح:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 780 - على شرطهما
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ، إنما اتَّفقا على حديث عُمَارة بن القعقاع عن أبي زُرْعة عن أبي هريرة قال: كان النبي ﷺ إذا كبَّرَ سَكَتَ بين التكبير والقراءة (2). وحديث سَمُرة لا يَتَوهَّمُ متوهِّم أنَّ الحسن لم يسمع من سَمُرة، فإنه قد سَمِعَ منه (3). وله شاهد بإسناد صحيح:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 780 - على شرطهما
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سمرہ بن جندب اور سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کے درمیان علمی مذاکرہ ہوا تو سمرہ بن جندب نے بیان کیا کہ انہیں رسول اللہ ﷺ سے دو سکتوں (خاموشی کے وقفوں) کا علم ہے: ایک سکتہ جب آپ تکبیر (تحریمہ) کہتے اور دوسرا سکتہ جب آپ رکوع میں جانے سے پہلے اپنی قرأت مکمل فرماتے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا، حسن بصری کا سمرہ سے سماع ثابت ہے اس لیے یہ روایت متصل ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا، حسن بصری کا سمرہ سے سماع ثابت ہے اس لیے یہ روایت متصل ہے۔
حدثنا أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثقفي، حدثنا يوسف بن يعقوب، حدثنا محمد بن أبي بكر المُقدَّمي، حدثنا يحيى بن سعيد، عن ابن أبي ذِئْب، عن سعيد بن سِمْعان قال: أتانا أبو هريرة في مسجد بني زُرَيق، فقال: ثلاثٌ كان رسول الله ﷺ يَفعلُهنَّ تَرَكَهنَّ الناسُ، يرفع يديه في الصلاة مدًّا حتى جاوَزَتا أُذنَيهِ، ويَسكُتُ بعد القراءة هُنيَّةً يسألُ اللهَ من فَضْلِه (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مسجد بنو زریق میں تشریف لائے اور فرمایا: تین کام ایسے تھے جو رسول اللہ ﷺ کیا کرتے تھے مگر لوگوں نے انہیں چھوڑ دیا ہے: (پہلا) آپ نماز میں اپنے ہاتھ اس طرح اٹھاتے تھے کہ وہ کانوں سے بلند ہو جاتے تھے، اور (دوسرا) قرأت کے بعد تھوڑی دیر خاموش رہتے تھے تاکہ اللہ کے فضل کا سوال کر سکیں۔
یہ پچھلی حدیث کا شاہد ہے اور اس کی سند صحیح ہے۔
یہ پچھلی حدیث کا شاہد ہے اور اس کی سند صحیح ہے۔