المستدرك على الصحيحين
كتاب الإمامة وصلاة الجماعة— امامت اور باجماعت نماز کی کتاب
كَانَ رَسُولُ اللَّهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - يَسْتَغْفِرُ لِلصَّفِّ الْمُقَدَّمِ ثَلَاثًا وَلِلثَّانِي مَرَّةً باب: رسولُ اللہ ﷺ پہلی صف کے لیے تین مرتبہ اور دوسری صف کے لیے ایک مرتبہ مغفرت کی دعا فرمایا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 874
أخبرنا أبو الحسين محمد بن أحمد الحَنظَلي ببغداد، حدثنا أبو قِلَابة الرَّقَاشي، حدثنا أبو عاصم، حدثنا سفيان، عن عبد الله بن أبي بكر، عن سعيد بن المسيّب، عن أبي سعيد الخُدْري قال: قال رسول الله ﷺ: "إذا قال الإمامُ: الله أكبرُ، فقولوا: الله أكبرُ، فإذا قال: سَمِعَ اللهُ لمن حَمِدَه، فقولوا: ربَّنا ولك الحمدُ" (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ، وفيه سُنَّة عزيزة: وهو أن يقفَ المأمومُ حتى يكبِّر الإمامُ ولا يكبِّر معه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 779 - على شرطهماحافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب امام «اللّٰهُ أَكْبَرُ» کہے تو تم بھی «اللّٰهُ أَكْبَرُ» کہو، اور جب وہ «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہے تو تم «رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» کہو۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا، اس میں ایک اہم سنت یہ ہے کہ مقتدی اس وقت تک انتظار کرے جب تک امام تکبیر مکمل نہ کر لے اور اس کے ساتھ (یکدم) تکبیر نہ کہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن. أبو قلابة الرقاشي: هو عبد الملك بن محمد، وأبو عاصم: هو الضحاك بن مَخلَد، وسفيان: هو الثوري.
وأخرجه ابن حبان (402) من طريق أبي يحيى محمد بن عبد الرحيم، عن أبي عاصم، بهذا الإسناد مطوَّلًا.
درجۂ حدیث: (2) حدیث صحیح ہے اور یہ سند "حسن" ہے۔
فنی نکتہ: ابوقلابہ الرقاشی سے مراد عبدالملک بن محمد، ابوعاصم سے مراد الضحاک بن مخلد اور سفیان سے مراد ثوری ہیں۔ اسے ابن حبان (402) نے تفصیل سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 17/ (10994)، وابن ماجه (877) من طريق عبد الله بن محمد بن عقيل، عن سعيد بن المسيب، به. طوّله أحمد واختصره ابن ماجه.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (10994 /17) اور ابن ماجہ (877) نے عبداللہ بن محمد بن عقیل عن سعید بن المسیب کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن حبان (402) من طريق أبي يحيى محمد بن عبد الرحيم، عن أبي عاصم، بهذا الإسناد مطوَّلًا.
درجۂ حدیث: (2) حدیث صحیح ہے اور یہ سند "حسن" ہے۔
فنی نکتہ: ابوقلابہ الرقاشی سے مراد عبدالملک بن محمد، ابوعاصم سے مراد الضحاک بن مخلد اور سفیان سے مراد ثوری ہیں۔ اسے ابن حبان (402) نے تفصیل سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 17/ (10994)، وابن ماجه (877) من طريق عبد الله بن محمد بن عقيل، عن سعيد بن المسيب، به. طوّله أحمد واختصره ابن ماجه.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (10994 /17) اور ابن ماجہ (877) نے عبداللہ بن محمد بن عقیل عن سعید بن المسیب کی سند سے روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 874 سے ماخوذ ہے۔