حدیث نمبر: 875
أخبرنا أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أبو المثنَّى، حدثنا مُسدَّد. وحدثنا محمد بن صالح بن هانئ حدثنا محمد بن شاذانَ، حدثنا محمد بن عبد الله بن بَزِيعٍ؛ قالا: حدثنا يزيد بن زُرَيع، حدثنا سعيد، عن قَتَادة، عن الحسن: أَنَّ سَمُرَةَ بن جُندُب وعِمران بن حُصَين تَذاكَرا، فحَدَّثَ سمرةُ بن جندب: أنه حَفِظَ عن رسول الله ﷺ سَكْتتَينِ: سكْتةً إذا كبَّر، وسَكْتةً إِذا فَرَغَ من قراءته عند ركوعه (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ، إنما اتَّفقا على حديث عُمَارة بن القعقاع عن أبي زُرْعة عن أبي هريرة قال: كان النبي ﷺ إذا كبَّرَ سَكَتَ بين التكبير والقراءة (2). وحديث سَمُرة لا يَتَوهَّمُ متوهِّم أنَّ الحسن لم يسمع من سَمُرة، فإنه قد سَمِعَ منه (3). وله شاهد بإسناد صحيح:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 780 - على شرطهما
حافظ طلحہ بابر

سیدنا سمرہ بن جندب اور سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کے درمیان علمی مذاکرہ ہوا تو سمرہ بن جندب نے بیان کیا کہ انہیں رسول اللہ ﷺ سے دو سکتوں (خاموشی کے وقفوں) کا علم ہے: ایک سکتہ جب آپ تکبیر (تحریمہ) کہتے اور دوسرا سکتہ جب آپ رکوع میں جانے سے پہلے اپنی قرأت مکمل فرماتے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا، حسن بصری کا سمرہ سے سماع ثابت ہے اس لیے یہ روایت متصل ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإمامة وصلاة الجماعة / حدیث: 875
درجۂ حدیث محدثین: رجاله ثقات
تخریج حدیث «رجاله ثقات» [ترقيم الرساله 875] [ترقيم الشركة 785] [ترقيم العلميه 780]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) رجاله ثقات. أبو المثنى: هو معاذ بن المثنى العنبري، وسعيد: هو ابن أبي عَرُوبة، والحسن: هو ابن الحسن البصري.
درجۂ حدیث: (1) اس کے راوی ثقہ ہیں۔
فنی نکتہ: ابومثنیٰ سے مراد معاذ بن مثنیٰ، سعید سے مراد ابن ابی عروبہ اور الحسن سے مراد بصری ہیں۔
وأخرجه أبو داود (779) عن مسدَّد، بهذا الإسناد - لكن جعل السكتة الثانية بعد فراغه من قراءة الفاتحة.
حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (779) نے مسدد کی سند سے روایت کیا ہے، مگر دوسری سکتہ (خاموشی) کو فاتحہ کے بعد قرار دیا ہے۔
وأخرجه أحمد 33/ (20081)، وأبو داود (780)، وابن ماجه (844)، والترمذي (251)، وابن حبان (1807) من طريقين عن سعيد بن أبي عروبة، به.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (20081 /33)، ابوداؤد (780)، ابن ماجہ (844)، ترمذی (251) اور ابن حبان (1807) نے سعید بن ابی عروبہ کے دو طریقوں سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (20127) و (20166)، وأبو داود (777) و (778)، وابن ماجه (845) من طرق عن الحسن البصري، به.
حوالہ / مصدر: اسے احمد، ابوداؤد (777) اور ابن ماجہ (845) نے حسن بصری کے مختلف طریقوں سے روایت کیا ہے۔
(2) أخرجه البخاري برقم (744)، ومسلم (598).
حوالہ / مصدر: اسے بخاری (744) اور مسلم (598) نے روایت کیا ہے۔
(3) وقد جزم الحاكم في غير موضع من كتابه هذا بسماع الحسن من عمران بن حصين أيضًا، لكن الجمهور على أنه لم يسمع منه، وأما سماع الحسن من سمرة فصحيح كما قال المصنف.
فنی نکتہ: (3) امام حاکم نے کئی جگہ حسن بصری کا عمران بن حصین سے سماع ثابت مانا ہے، مگر جمہور محدثین کے نزدیک ان کا سماع ثابت نہیں، البتہ سمرہ سے ان کا سماع صحیح ہے جیسا کہ مصنف نے کہا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 875 سے ماخوذ ہے۔