حدیث نمبر: 877
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيي، حدثنا عبد الله بن عبد الوهاب الحَجَبي، حدثنا عبد الواحد بن زياد، حدثنا عُمَارة بن القعقاع حدثنا أبو زُرْعة بن عَمرو بن جَرِير، حدثنا أبو هريرة قال: كان رسول الله ﷺ إذا نَهَضَ في الثانية استَفتَحَ بـ ﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾، ولم يَسكُت (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه هكذا (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 782 - على شرطهما
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوتے تو بغیر خاموش ہوئے «الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِینَ» سے قرأت شروع فرما دیتے۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس طرح روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإمامة وصلاة الجماعة / حدیث: 877
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 877] [ترقيم الشركة 787] [ترقيم العلميه 782]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح.
درجۂ حدیث: (2) اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه مسلم (599) تعليقًا قال: حُدِّثت عن يحيى بن حسان ويونس المؤدِّب وغيرهما، عن عبد الواحد بن زياد، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: امام مسلم (599) نے اسے معلقاً روایت کیا کہ مجھے یحییٰ بن حسان اور یونس المؤدب نے عبدالواحد بن زیاد کی سند سے بیان کیا۔
وأخرجه ابن حبان (1936) من طريق يونس بن محمد - وهو المؤدِّب - عن عبد الواحد، به.
حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان (1936) نے یونس بن محمد المؤدب عن عبدالواحد کی سند سے روایت کیا ہے۔
قوله: "ولم يسكت" أي: السكتة التي قبل قراءة الفاتحة كما في الركعة الأولى.
(توضیح): "ولم یسکت" کا مطلب ہے: وہ خاموشی جو پہلی رکعت میں فاتحہ سے پہلے ہوتی ہے (یعنی دوسری رکعت میں نہیں کی)۔
(3) هذا النفي ليس على إطلاقه، فقد أخرجه مسلم كما سبق لكن تعليقًا.
فنی نکتہ: (3) یہ نفی مطلق نہیں ہے، کیونکہ امام مسلم نے اسے معلقاً روایت کیا ہے جیسا کہ اوپر گزرا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 877 سے ماخوذ ہے۔