کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: اندھیرے میں مسجدوں کی طرف چل کر جانے والوں کو قیامت کے دن کامل نور کی خوشخبری دو۔
حدثنا [أبو] إسحاق إبراهيم (1) بن محمد بن يحيى، أخبرنا أبو بكر محمد بن إسحاق، حدثنا إبراهيم بن محمد البَصْري، أخبرنا يحيى بن الحارث الشِّيرازي - وكان ثقةً، وكان عبد الله بن داود يُثْني عليه - قال: حدثنا زهير بن محمد التَّميمي وأبو غسَّان المدني، عن أبي حازم، عن سَهْل بن سعد الساعِدِي قال: قال رسول الله ﷺ: "بَشِّرِ المشَّائينَ في الظُّلَمِ إلى المساجد، بالنُّورِ التامِّ يومَ القيامة" (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله شاهد في روايةٍ مجهولة عن ثابت عن أنس:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 768 - على شرطهما
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله شاهد في روايةٍ مجهولة عن ثابت عن أنس:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 768 - على شرطهما
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اندھیروں میں مسجدوں کی طرف بکثرت چل کر جانے والوں کو قیامت کے دن مکمل نور کی خوشخبری دے دو۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا محمد بن أيوب، أخبرنا داود بن سليمان بن مسلم، أخبرنا أَبي، عن ثابت بن أسلَمَ البُنَاني، عن أنس، أنَّ النبي ﷺ قال: "بَشِّرِ المشَّائِينَ في ظُلَمِ الليل إلى المساجد، بالنُّور التامِّ يومَ القيامة".
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”رات کے اندھیروں میں مسجدوں کی طرف چل کر جانے والوں کو قیامت کے دن کامل نور کی بشارت دے دو۔“
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا بَحْر بن نَصْر قال: قُرِئَ على ابن وهب: أخبركَ عمرُو بن الحارث. وأخبرنا أبو النَّضْر الفقيه، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا أصبَغُ بن الفَرَج، أخبرنا عبد الله بن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث، عن دَرَّاجٍ حدَّثه عن أبي الهيثم، عن أبي سعيد الخُدْري قال: قال رسول الله ﷺ: "إذا رأيتم الرجلَ يعتادُ المساجد، فاشهَدُوا عليه بالإيمان، قال الله ﷿: ﴿إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ﴾ [التوبة: 18] " (1). هذه ترجمة للمِصريِّين لم يختلفوا في صحَّتها وصِدْق رواتها غير أنَّ شَيخَي الصحيحِ لم يخرجاه، وقد سقتُ القول في صحَّته فيما تقدم (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 770 - دراج كثير المناكير
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 770 - دراج كثير المناكير
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم کسی آدمی کو دیکھو کہ وہ مسجد میں آنے جانے کا عادی ہے تو اس کے مومن ہونے کی گواہی دو، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ﴾ ”اللہ کی مسجدوں کو وہی آباد کرتے ہیں جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان لاتے ہیں۔“
مصری راویوں کی یہ روایت صحیح اور سچی ہے، مگر شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
مصری راویوں کی یہ روایت صحیح اور سچی ہے، مگر شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا عَبْدان بن يزيد الدَّقّاق بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا ابن أبي ذِئْب، عن سعيد بن أبي سعيد المَقبُري، عن سعيد بن يَسَار، عن أبي هريرة، عن رسول الله ﷺ قال: "لا يُوطِّنُ أحدٌ المساجدَ للصلاة إلَّا تَبَشبَشَ اللهُ به من حيث يَخرُج من بيته، كما يَتبشبَشُ أهلُ الغائب بغائبِهم إذا قَدِمَ عليهم" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد خالف الليثُ بنُ سعدٍ ابنَ أبي ذِئْب فرواه عن المَقبُري عن أبي عُبَيدة عن سعيد بن يَسَار:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 771 - على شرطهما
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد خالف الليثُ بنُ سعدٍ ابنَ أبي ذِئْب فرواه عن المَقبُري عن أبي عُبَيدة عن سعيد بن يَسَار:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 771 - على شرطهما
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب بھی کوئی شخص نماز کے لیے مسجد کو اپنا ٹھکانہ بنا لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے اس طرح خوش ہوتا ہے جیسے کسی غائب (مسافر) کے گھر والے اس کے واپس آنے پر خوش ہوتے ہیں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أحمد بن إبراهيم بن مِلْحان، حدثنا يحيى بن بُكَير، حدثنا الليث، عن سعيد بن أبي سعيد، عن أبي عُبَيدة، عن سعيد بن يَسَار (2)، أنه سمع أبا هريرة يقول: قال رسول الله ﷺ: "لا يتوضَّأُ أحدُكم فيُحسِنَ وضوءَه، ويُسبِغَه، ثم يأتيَ المسجدَ لا يريدُ إلَّا الصلاةَ فيه، إلَّا تَبشبَشَ اللهُ به كما يتبشبشُ أهلُ الغائب بغائبِهم" (3).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی بھی جب اچھی طرح مکمل وضو کرتا ہے، پھر صرف نماز کے ارادے سے مسجد آتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کے آنے پر ایسے ہی خوش ہوتا ہے جیسے کسی غائب شخص کے گھر والے اس کے آنے پر خوش ہوتے ہیں۔“
أخبرنا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه ببغداد، حدثنا جعفر بن محمد بن شاكر، حدثنا عفَّانُ، حدثنا وُهَيب، حدثنا عبد الرحمن بن حَرمَلة. وأخبرنا أبو الحسن أحمد بن محمد بن عَبدُوس العَنَزي - واللفظُ له - حدثنا عثمان بن سعيد الدارِمي، حدثنا أحمد بن صالح المِصري، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني يحيى بن أيوب، عن عبد الرحمن بن حَرمَلة، عن أبي علي الهَمْداني، سمعتُ عُقْبةَ بن عامر يقول: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "مَن أَمَّ الناسَ فأصاب الوقتَ، فله ولهم، ومن انتَقَصَ من ذلك شيئًا، فعليه ولا عليهم" (1).
هذا حديث صحيح، فقد احتَجَّ مسلمٌ بعبد الرحمن بن حَرمَلة، واحتجَّ البخاريُّ بيحيى بن أيوب، ثم لم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح، فقد احتَجَّ مسلمٌ بعبد الرحمن بن حَرمَلة، واحتجَّ البخاريُّ بيحيى بن أيوب، ثم لم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے لوگوں کی امامت کی اور صحیح وقت پر نماز پڑھائی، تو اس کا اجر اسے بھی ملے گا اور مقتدیوں کو بھی، اور اگر اس نے (وقت یا ارکان میں) کوئی کمی کی تو اس کا وبال اس پر ہوگا نہ کہ مقتدیوں پر۔“
یہ حدیث صحیح ہے، امام مسلم نے عبد الرحمن بن حرملہ سے اور امام بخاری نے یحییٰ بن ایوب سے احتجاج کیا ہے، پھر بھی انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح ہے، امام مسلم نے عبد الرحمن بن حرملہ سے اور امام بخاری نے یحییٰ بن ایوب سے احتجاج کیا ہے، پھر بھی انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدُّورِي، حدثنا إسحاق بن منصور السَّلُولي، أخبرنا إسرائيل، عن سِمَاك، عن جابر بن سَمُرة قال: كان مؤذِّنُ النبي ﷺ يؤذِّن ثم يُمهِل، فإذا رأَى النبيَّ ﷺ قد أقبَلَ أخَذَ في الإقامة (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم بن الحجَّاج، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 773 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم بن الحجَّاج، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 773 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے مؤذن اذان دیتے اور پھر تھوڑا انتظار کرتے، جب وہ دیکھتے کہ نبی کریم ﷺ تشریف لا رہے ہیں تو تب اقامت شروع کرتے تھے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔