المستدرك على الصحيحين
كتاب الإمامة وصلاة الجماعة— امامت اور باجماعت نماز کی کتاب
بَشِّرِ الْمَشَّائِينَ فِي الظُّلَمِ إِلَى الْمَسَاجِدِ بِالنُّورِ التَّامِّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ باب: اندھیرے میں مسجدوں کی طرف چل کر جانے والوں کو قیامت کے دن کامل نور کی خوشخبری دو۔
حدیث نمبر: 862
حدثنا [أبو] إسحاق إبراهيم (1) بن محمد بن يحيى، أخبرنا أبو بكر محمد بن إسحاق، حدثنا إبراهيم بن محمد البَصْري، أخبرنا يحيى بن الحارث الشِّيرازي - وكان ثقةً، وكان عبد الله بن داود يُثْني عليه - قال: حدثنا زهير بن محمد التَّميمي وأبو غسَّان المدني، عن أبي حازم، عن سَهْل بن سعد الساعِدِي قال: قال رسول الله ﷺ: "بَشِّرِ المشَّائينَ في الظُّلَمِ إلى المساجد، بالنُّورِ التامِّ يومَ القيامة" (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله شاهد في روايةٍ مجهولة عن ثابت عن أنس:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 768 - على شرطهماحافظ طلحہ بابر
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اندھیروں میں مسجدوں کی طرف بکثرت چل کر جانے والوں کو قیامت کے دن مکمل نور کی خوشخبری دے دو۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) في النسخ الخطية: حدثنا إسحاق بن إبراهيم وهو خطأ، والتصويب من "سنن البيهقي" 3/ 63 حيث رواه عن المصنف بإسناده ومتنه. وأبو إسحاق إبراهيم بن محمد هذا: هو النيسابوري المزكِّي شيخ بلده ومحدِّثه، وقد روى عنه الحاكم في "مستدركه" عشرات الأحاديث.
فنی نکتہ: (1) خطی نسخوں میں "اسحاق بن ابراہیم" لکھا ہے جو غلط ہے، درست "ابراہیم بن محمد" ہے (بیہقی 63/3)۔ یہ ابواسحاق ابراہیم بن محمد نیسابوری المزکی ہیں، جو اپنے شہر کے شیخ اور محدث تھے، امام حاکم نے ان سے درجنوں احادیث روایت کی ہیں۔
(2) إسناده حسن. أبو غسان: هو محمد بن مطرِّف، وأبو حازم هو سلمة بن دينار الأعرج.
درجۂ حدیث: (2) اس کی سند "حسن" ہے۔
فنی نکتہ: ابوغسان سے مراد محمد بن مطرف اور ابوحازم سے مراد سلمہ بن دینار الاعرج ہیں۔
وأخرجه ابن ماجه (780) عن إبراهيم بن محمد الحلبي البصري بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ (780) نے ابراہیم بن محمد الحلبی البصری کی سند سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
حسن بما قبله، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال سليمان بن مسلم.
وأخرجه ابن ماجه (781) عن مجزأة بن سفيان بن أسيد، عن سليمان بن داود الصائغ، عن ثابت البناني، به. وسليمان بن داود هو سليمان بن موسى، إلَّا أنه اختُلف في اسمه. ومجزأة بن سفيان مجهول الحال أيضًا لكنه متابَع.
درجۂ حدیث: سابقہ روایت کی وجہ سے یہ "حسن" ہے، مگر یہ سند سلیمان بن مسلم کے مجہول ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے۔
حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ (781) نے مجزاۃ بن سفیان کی سند سے سلیمان بن داؤد الصائغ (سلیمان بن موسیٰ) سے روایت کیا ہے۔ مجزاۃ بھی مجہول الحال ہیں مگر ان کی متابعت موجود ہے۔
فنی نکتہ: (1) خطی نسخوں میں "اسحاق بن ابراہیم" لکھا ہے جو غلط ہے، درست "ابراہیم بن محمد" ہے (بیہقی 63/3)۔ یہ ابواسحاق ابراہیم بن محمد نیسابوری المزکی ہیں، جو اپنے شہر کے شیخ اور محدث تھے، امام حاکم نے ان سے درجنوں احادیث روایت کی ہیں۔
(2) إسناده حسن. أبو غسان: هو محمد بن مطرِّف، وأبو حازم هو سلمة بن دينار الأعرج.
درجۂ حدیث: (2) اس کی سند "حسن" ہے۔
فنی نکتہ: ابوغسان سے مراد محمد بن مطرف اور ابوحازم سے مراد سلمہ بن دینار الاعرج ہیں۔
وأخرجه ابن ماجه (780) عن إبراهيم بن محمد الحلبي البصري بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ (780) نے ابراہیم بن محمد الحلبی البصری کی سند سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
حسن بما قبله، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال سليمان بن مسلم.
وأخرجه ابن ماجه (781) عن مجزأة بن سفيان بن أسيد، عن سليمان بن داود الصائغ، عن ثابت البناني، به. وسليمان بن داود هو سليمان بن موسى، إلَّا أنه اختُلف في اسمه. ومجزأة بن سفيان مجهول الحال أيضًا لكنه متابَع.
درجۂ حدیث: سابقہ روایت کی وجہ سے یہ "حسن" ہے، مگر یہ سند سلیمان بن مسلم کے مجہول ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے۔
حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ (781) نے مجزاۃ بن سفیان کی سند سے سلیمان بن داؤد الصائغ (سلیمان بن موسیٰ) سے روایت کیا ہے۔ مجزاۃ بھی مجہول الحال ہیں مگر ان کی متابعت موجود ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 862 سے ماخوذ ہے۔