أخبرنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السَّمّاك ببغداد، حدثنا علي بن إبراهيم الواسطي، حدثنا وهب بن جَرِير، حدثنا شُعبة. وأخبرنا عبد الرحمن بن الحسن الأَسَدي بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا شعبة. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا محمد، حدثنا شعبة، عن عمرو بن مُرَّة، عن عاصم العَنَزي، عن ابن جُبير - وفي حديث وهب بن جرير: عن نافع بن جبير - بن مُطعِم، عن أبيه: أنَّ النبي ﷺ كان إذا افتتح الصلاةَ قال: "الله أكبرُ كبيرًا، والحمدُ لله كثيرًا، وسبحانَ الله بُكْرةً وأَصِيلًا - ثلاث مرَّات - اللهمَّ إني أعوذُ بك من الشيطان الرَّجيم، من هَمْزِهِ ونَفْثِه وَنَفْخِه" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 858 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 858 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ جب نماز شروع کرتے تو یہ پڑھتے: «اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا، وَسُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا» ”اللہ سب سے بڑا ہے بہت بڑا، اور اللہ کے لیے بہت زیادہ تعریف ہے، اور اللہ پاک ہے صبح و شام“ (تین مرتبہ)، «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْثِهِ وَنَفْخِهِ» ”اے اللہ! میں شیطان مردود سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اس کے کچوکے، اس کی پھونک اور اس کے تکبر سے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدثنا طَلْق بن غنَّام، حدثنا عبد السلام بن حرب المُلَائي، عن بُدَيل بن مَيسَرة، عن أبي الجَوْزاء، عن عائشة قالت: كان رسول الله ﷺ إذا استَفتحَ الصلاةَ قال: "سبحانَك اللهمَّ وبحمدِك، وتَبارَك اسمُك، وتعالى جَدُّك، ولا إلهَ غيرُك" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله شاهد من حديث حارثة بن محمد:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 859 - على شرطهما
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله شاهد من حديث حارثة بن محمد:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 859 - على شرطهما
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز شروع کرتے تو یہ پڑھتے: «سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ، وَتَعَالَى جَدُّكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ» ”اے اللہ! تو پاک ہے اپنی تعریف کے ساتھ، تیرا نام بابرکت ہے، تیری شان بلند ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور حارثہ بن محمد کی حدیث سے اس کا ایک شاہد بھی ہے:
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور حارثہ بن محمد کی حدیث سے اس کا ایک شاہد بھی ہے:
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا أبو معاوية، أخبرنا حارثة بن محمد، عن عَمْرة، عن عائشة قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا افتَتَح الصلاةَ رفع يديه حَذْوَ مَنكِبيه، ثم يقول: "سبحانَك اللهمَّ وبحمدِك، وتبارَكَ اسمُك، وتعالى جَدُّك، ولا إلهَ غيرُك"(1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وكان مالك بن أنس رحمه الله لا يرضى حارثةَ بن محمد، وقد رَضِيَه أقرانُه من الأئمة(2)، ولا أحفظُ في قوله صلى الله عليه وسلم عند افتتاح الصلاة: "سبحانَك اللهمَّ وبحمدِك" أصحَّ من هذين الحديثين. وقد صحَّت الروايةُ فيه عن أمير المؤمنين عمر بن الخطَّاب رضي الله عنه أنه كان يقولُه:
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وكان مالك بن أنس رحمه الله لا يرضى حارثةَ بن محمد، وقد رَضِيَه أقرانُه من الأئمة(2)، ولا أحفظُ في قوله صلى الله عليه وسلم عند افتتاح الصلاة: "سبحانَك اللهمَّ وبحمدِك" أصحَّ من هذين الحديثين. وقد صحَّت الروايةُ فيه عن أمير المؤمنين عمر بن الخطَّاب رضي الله عنه أنه كان يقولُه:
حافظ طلحہ بابر
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ کندھوں کے برابر اٹھاتے، پھر یہ کلمات پڑھتے: «سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ، وَتَعَالَى جَدُّكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ.» ”اے اللہ! تو پاک ہے اپنی تعریف کے ساتھ، تیرا نام بابرکت ہے، تیری شان بلند ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔“
یہ حدیث صحیح ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں، اگرچہ شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں، اگرچہ شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدَّثَناه محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا أبو معاوية، حدثنا الأعمش، عن الأسوَد، عن عمر: أنه كان إذا افتتَحَ الصلاةَ قال: سبحانَك اللهمَّ وبحمدك، تبارَك اسمُك، وتعالى جَدُّك، ولا إلهَ غيرك (3). وقد أُسنِدَ هذا الحديث عن عمر ولا يصحُّ (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ جب نماز شروع کرتے تو یہ پڑھتے: «سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، تَبَارَكَ اسْمُكَ، وَتَعَالَى جَدُّكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ» ”اے اللہ! تو پاک ہے اپنی تعریف کے ساتھ، تیرا نام بابرکت ہے، تیری شان بلند ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔“
یہ حدیث سیدنا عمر سے مرفوعاً بھی روایت کی گئی ہے لیکن وہ صحیح نہیں۔
یہ حدیث سیدنا عمر سے مرفوعاً بھی روایت کی گئی ہے لیکن وہ صحیح نہیں۔